Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1161
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.2K Views
نسبندی کرانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
نسبندی کرانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
نسبندی کرانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟
سوال : زید نے بلا جبر و اکراہ راضی برضا نسبندی کرا لیا اب از روئے شرع اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟ ایک نام نہاد مولوی نے کہا کہ اگر زید نے اس گناہ سے نادم ہو کر علی الاعلان مجلس میں اللہ سے توبہ و استغفار کر لیا تو اب زید کے پیچھے نماز درست اور جائز ہے تو کیا مولوی مذکور کا یہ کہنا صحیح ہے؟ مفصل جواب سے نوازیں. کچھ پیر اور مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ اس کا توبہ قبول ہی نہ ہوگا؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ چوری، شراب نوشی،زناکاری اور سود خوری بلکہ کفر و شرک جیسے گناہ عظیم جب توبہ سے معاف ہو جاتے ہیں تو نسبندی کا گناہ بھی توبہ سے معاف ہو جائے گا. قال اللہ مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ٥ وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا فَإِنَّهُۥ يَتُوبُ إِلَى ٱللَّهِ مَتَابًا . پارہ ١٩ رکوع ٤ اور حدیث شریف میں ہے ” التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ” لہذا نسبندی کرانے والا اگر اعلانیہ توبہ و استغفار کرلے تو اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ اس میں کوئی اور شرعی خرابی نہ ہو . واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجـــدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 277
Kutubahu & Verified by:
<h2>نسبندی کرانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟</h2> سوال : زید نے بلا جبر و اکراہ راضی برضا نسبندی کرا لیا اب از روئے شرع اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟ ایک نام نہاد مولوی نے کہا کہ اگر زید نے اس گناہ سے نادم ہو کر علی الاعلان مجلس میں اللہ سے توبہ و استغفار کر لیا تو اب زید کے پیچھے نماز درست اور جائز ہے تو کیا مولوی مذکور کا یہ کہنا صحیح ہے؟ مفصل جواب سے نوازیں. کچھ پیر اور مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ اس کا توبہ قبول ہی نہ ہوگا؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> چوری، شراب نوشی،زناکاری اور سود خوری بلکہ کفر و شرک جیسے گناہ عظیم جب توبہ سے معاف ہو جاتے ہیں تو نسبندی کا گناہ بھی توبہ سے معاف ہو جائے گا.<span style="color: #ff0000;"><strong> قال اللہ مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ٥ وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا فَإِنَّهُۥ يَتُوبُ إِلَى ٱللَّهِ مَتَابًا . پارہ ١٩ رکوع ٤</strong></span> اور حدیث شریف میں ہے '' التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ '' لہذا نسبندی کرانے والا اگر اعلانیہ توبہ و استغفار کرلے تو اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ اس میں کوئی اور شرعی خرابی نہ ہو . واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجـــدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 277</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...