Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1162 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.3K Views

مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟

سوال : مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ اور مسافر فجر، مغرب، جمعہ میں مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ مسافر پر جمعہ فرض نہیں ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ 4 صفحہ 99 میں ہے اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 144 پر ہے ” لوجوبھا ای الجمعۃ شرائط فی المصلی ھی الحریۃ والذکورۃ والاقامۃ والصحۃ کذا فی الکافی ” ١ھ. اور تنویر الابصار میں ہے ” شرط لافتراضھا اقامۃ بمصر ” ١ھ. (ج٢ س ١٥٣) اور مسافر نماز فجر، مغرب، جمعہ بلکہ ہر نماز میں مقیم کی امامت کرسکتا ہے. حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں جمعہ کی امامت ہر مرد کر سکتا ہے جو اور نمازوں میں امام ہو سکتا ہو اگرچہ اس پر فرض نہ ہو جیسے مریض، مسافر، غلام. (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ ١٠٠) اور درمختار مع الشامی جلد دوم صفحہ 155 پر ہے ” یصح للامامۃ فیھا من صلح لغیرھا فجازت لمسافر وعبد ومریض ” واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب کتبـــــــــــہ : محمد اویس القادری امجدی  الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت جلد ١ صفحہ 225

Kutubahu & Verified by:

<h2>مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟</h2> سوال : مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ اور مسافر فجر، مغرب، جمعہ میں مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> مسافر پر جمعہ فرض نہیں ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ 4 صفحہ 99 میں ہے اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 144 پر ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' لوجوبھا ای الجمعۃ شرائط فی المصلی ھی الحریۃ والذکورۃ والاقامۃ والصحۃ کذا فی الکافی '' ١ھ. اور تنویر الابصار میں ہے '' شرط لافتراضھا اقامۃ بمصر '' ١ھ. (ج٢ س ١٥٣)</strong></span> اور مسافر نماز فجر، مغرب، جمعہ بلکہ ہر نماز میں مقیم کی امامت کرسکتا ہے. حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں جمعہ کی <a href="https://masailworld.com/imam-imamat-ki-niyat-kaise-kare/"><strong>امامت</strong></a> ہر مرد کر سکتا ہے جو اور نمازوں میں امام ہو سکتا ہو اگرچہ اس پر فرض نہ ہو جیسے مریض، مسافر، غلام. (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ ١٠٠) <span style="color: #ff0000;"><strong>اور درمختار مع الشامی جلد دوم صفحہ 155 پر ہے '' یصح للامامۃ فیھا من صلح لغیرھا فجازت لمسافر وعبد ومریض ''</strong></span> واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــہ : محمد اویس القادری امجدی  </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت جلد ١ صفحہ 225</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...