Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

تقسیمِ میراث / میراث کے مسائل از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

تقسیمِ میراث / میراث کے مسائل از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
Reference 1164 September 18, 2025 11,533 views
اصل سوالتقسیمِ میراث / میراث کے مسائل از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

تقسیمِ میراث / میراث کے مسائل از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے دولڑکے ہیں اور تین لڑکیاں ہیں اور تینوں لڑکیوں کی شادی ہوچکی ہےجس میں بڑے لڑکے کا انتقال ہو گیا جس کاصرف ایک لڑکا ہےاور مرحوم کے نام سے کچھ زمین ہے جس کے خریداری میں زید نے بھی کچھ روپیہ دیا ہے اور کچھ نقدی بھی ہے اس زمین اور نقدی میں بھائ اور بہنوں اور والدین اور مرحوم کے لڑکے کا کیا حق ہے؟ مفصل بیان فرمائیں۔ اور زید کی جائداد میں مرحوم کے لڑکے کا کیا حق ہے واضح فرمائیں۔ سائل: ابو سالم محمد حامدرضا نظامی شیو راج نگر پالیکا وارڈ نمبر ٤کپل وستو نیپال الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ زید کے متوفی لڑکے کے بعد اگر اتنے ہی وارث ہوں جتنے سوال میں مذکور ہیں تو تجہیز و تکفین اور دیون کی ادائیگی اور وصیتیں بقدر نافذ پوری کرنے کے بعد اس کی چھوڑی ہوئی جائیداد کے چھ حصے کیے جائیں گے جس میں ایک حصہ باپ یعنی زید کا اور ایک حصہ ماں کا ہوگا اور باقی چار حصے اس کے بیٹے کے ہوں گے اور لڑکے اور یوں ہی باپ کی موجودگی میں بھائی اور بہن حصہ نہیں پاتے ہیں، لہذا انھیں کچھ نہیں ملے گا۔ لیکن اگر زید کے متوفی لڑکے کی بیوی بھی اس کی وفات کے وقت زندہ ہو تو اس کو بھی حصہ ملے گا اور اس صورت میں جائیداد کے چوبیس حصے کرکے تین حصہ بیوی کو اور چار چار حصہ ماں باپ کو اور باقی تیرہ حصہ بیٹے کو دیا جائے گا ۔ اور زید کی حیات میں اس کی جائیداد میں اس کے متوفی لڑکے کے لڑکے یا کسی اور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے، ہاں اس کی وفات کے وقت اگر اس کے لڑکوں میں کوئی باحیات نہ رہے تو پوتے کو جائیداد میں حصہ ملے گا اور اگر وقتِ وفات کوئی بیٹا زندہ ہوگا تو اس کی موجودگی میں پوتے کو حصہ نہ ملے گا۔ ہاں! زید اگر اپنی زندگی اور صحت کے زمانے میں چاہے تو اپنے متوفی بیٹے کے لڑکے کو کچھ دے کر اس پر قبضہ کرادے تو اس صورت میں اس کا پوتا اس چیز کا مالک ہوجائے گا، لیکن بعدِ موت اس کے کسی بیٹے کی موجودگی میں پوتا حصہ دار نہیں ہوگا۔ قرآنِ مقدس میں ہے: {وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ } (سورہ نساء: آیت نمبر١١) نیز ارشاد پاک ہے:{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ} (سورہ نساء:آیت نمبر ١٢) علم المیراث کی مشہور کتاب”سراجیہ” میں ہے: “وبنو الاعیان والعلات کلھم یسقطون بالابن وابن الابن وان سفل، وبالاب بالاتفاق” (السراجیہ، باب معرفة الفروض ومستحقیھا، فصل فی النساء) نیز اسی میں عصبہ بنفسہ کے بیان میں ہے: “وھم اربعة اصناف، جزء المیت ، واصلہ، وجزء ابیہ، وجزء جدہ، الاقرب فالاقرب، یرجحون بقرب الدرجة، اعنی: اولاھم بالمیراث جزء المیت ای البنون، ثم بنوھم وان سفلوا” (ایضا، باب العصبات) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ١۵/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/١٩/جنوری ٢٠٢٢ء

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.