Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1180
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.3K Views
موبائل سے غیر مسلم کو سلام کرنا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
موبائل سے غیر مسلم کو سلام کرنا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
موبائل سے غیر مسلم کو سلام کرنا کیسا ہے ؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ سلام ایک دعا ہے۔ السلام علیکم کہ کر اپنے مسلمان بھائی کے حق میں خیر و برکت اور صحت و سلامتی کی دعا کی جاتی ہے اور بحکم نص قرآن: مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوٓاْ أُوْلِى قُرْبَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ ( التوبہ 113) کفار و مشرکین کے حق میں دعائے مغفرت و رحمت ناجائز و حرام ہے ۔ لہٰذا موبائل سے کسی غیر مسلم ( ہندو، کافر ، یہودی ، عیسائی ) کو سلام، سخت ناجائز اور حرام اشد حرام ہے ۔ تنویر الابصار و درمختار میں ہے : و لو سلم علي الذمي تبجيلا يكفر لأن تبجيل الكافر كفر. اگر مسلمان کسی ذمی کافر کو تعظیم کی نیت سے سلام کرے تو وہ کافر ہوجائے گا اس لیے کہ کافر کی تعظیم کرنا کفر ہے ۔ جب کافر زندگی کو تعظیما سلام کرنا کفر ہے تو ہندوستان کے کافر حربی کو تعظیما سلام کرنا بدرجہ اولی کفر ہوگا ۔ اس لیے یہاں کے کفار ومشرکین کو ہرگز ہرگز تسلیم نہ کیا جائے۔ حضرت علامہ شامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں: “تبجيلا قال في المنح:قيد به لانه لو لم يكن كذلك بل كان لغرض من الأغراض الصحيحة فلا باس به ولا كفر. ترجمه: کافر ذمی کو سلام کرنے میں ” تعظیم ” کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ اگر ذمی کافر کو کسی حاجت یا صحیح دنیوی غرض سے سلام کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور کفر بھی نہیں ہے۔ کافر ذمی ( جو اسلامی سلطنت میں جزیہ دے کر مقیم ہو) کو حاجت شرعی اور ضرورت دنیوی کے تحت سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اسی طرح کافر ذمی کے سلام کا جواب دینا بھی جائز ہے، مگر جواب میں صرف ” وعلیکم ” کہا جائے پورا جواب “وعلیکم السلام ” نہ کہا جائے. فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ” واذا کان له حاجة فلا باس بالتسليم عليه ولا بأس برد السلام علي أهل الذمة لكن لا يزاد علي قوله ” وعليكم ” . اسی طرح اگر کوئی یہودی ، عیسائی یا مجوسی سلام کرے کرے تو مسلمان کو صرف “وعلیکم ” کہ کر جواب دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ در مختار میں ہے: ” ولو سلم يهودي أو نصراني أو مجوسي علي مسلم فلا بأس بالرد لكن لا يزيد علي قوله ” وعليك” ترجمه: اگر کوئی یہودی عیسائی یا نصرانی مسلمان کو سلام کرے تو اس کا جواب صرف ” وعلیکم ” کہ کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اوپر کی تفصیلی گفتگو سے جو باتیں معلوم ہوئی ہیں وہ یہ ہیں: (١) کسی کافر کو خواہ وہ حربی ہو یا ذمی ، یہودی ہو یا نصرانی تعظیما سلام کرنا صرف حرام ہی نہیں بلکہ کفر ہے ۔ (٢) ضرورت شرعی اور صحیح دنیوی غرض سے کافر ذمی کو سلام کرسکتے ہیں اور اس کے سلام کا جواب بھی دے سکتے ہیں ۔ مگر صرف ” وعلیکم ” کہ کر ، پورا جواب ” وعلیکم السلام” نہ کہا جائے۔ (٣) یہودی ، عیسائی ، مجوسی اور کافر سلام کرے تو مسلمان اس کا جواب صرف ” وعلیکم ” کہ کر دے سکتاہے۔ بالعموم دیکھا یہ جاتا ہے کہ مسلمان کسی کافر کو سلام نہیں کرتے اور اگر کوئی کر بھی دیتا ہے تو وہاں کافر کی تعظیم مقصود نہیں ہوتی ، لہذا ایسے موقع پر کفر وفسق کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا اور شدید ضرورت کے وقت صرف اوپر دل سے غیر مسلم کو بالمشافہہ یا بذریعہ موبائل سلام کرسکتے ہیں ۔ بہار شریعت میں ہے: ” کافر کو اگر حاجت کی وجہ سے سلام کیا، مثلا سلام نہ کرنے میں اندیشہ ہے تو کوئی حرج نہیں اور بقصد تعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کرنا کفر ہے۔ ماخوز از موبائل فون کے ضروری مسائل / علامہ طفیل احمد مصباحی
Kutubahu & Verified by:
<h2>موبائل سے غیر مسلم کو سلام کرنا کیسا ہے ؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> سلام ایک دعا ہے۔ السلام علیکم کہ کر اپنے مسلمان بھائی کے حق میں خیر و برکت اور صحت و سلامتی کی دعا کی جاتی ہے اور بحکم نص قرآن: <span style="color: #ff0000;"><strong>مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوٓاْ أُوْلِى قُرْبَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ ( التوبہ 113)</strong></span> کفار و مشرکین کے حق میں دعائے مغفرت و رحمت ناجائز و حرام ہے ۔ لہٰذا موبائل سے کسی غیر مسلم ( ہندو، کافر ، یہودی ، عیسائی ) کو سلام، سخت ناجائز اور حرام اشد حرام ہے ۔ تنویر الابصار و درمختار میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>و لو سلم علي الذمي تبجيلا يكفر لأن تبجيل الكافر كفر.</strong></span> اگر مسلمان کسی ذمی کافر کو تعظیم کی نیت سے سلام کرے تو وہ کافر ہوجائے گا اس لیے کہ کافر کی تعظیم کرنا کفر ہے ۔ جب کافر زندگی کو تعظیما سلام کرنا کفر ہے تو ہندوستان کے کافر حربی کو تعظیما سلام کرنا بدرجہ اولی کفر ہوگا ۔ اس لیے یہاں کے کفار ومشرکین کو ہرگز ہرگز تسلیم نہ کیا جائے۔ حضرت علامہ شامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"تبجيلا قال في المنح:قيد به لانه لو لم يكن كذلك بل كان لغرض من الأغراض الصحيحة فلا باس به ولا كفر.</strong></span> ترجمه: کافر ذمی کو سلام کرنے میں " تعظیم " کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ اگر ذمی کافر کو کسی حاجت یا صحیح دنیوی غرض سے سلام کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور کفر بھی نہیں ہے۔ کافر ذمی ( جو اسلامی سلطنت میں جزیہ دے کر مقیم ہو) کو حاجت شرعی اور ضرورت دنیوی کے تحت سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اسی طرح کافر ذمی کے سلام کا جواب دینا بھی جائز ہے، مگر جواب میں صرف " وعلیکم " کہا جائے پورا جواب "وعلیکم السلام " نہ کہا جائے. فتاویٰ عالمگیری میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>" واذا کان له حاجة فلا باس بالتسليم عليه ولا بأس برد السلام علي أهل الذمة لكن لا يزاد علي قوله " وعليكم " .</strong></span> اسی طرح اگر کوئی یہودی ، عیسائی یا مجوسی سلام کرے کرے تو مسلمان کو صرف "وعلیکم " کہ کر جواب دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ در مختار میں ہے:<span style="color: #ff0000;"><strong> " ولو سلم يهودي أو نصراني أو مجوسي علي مسلم فلا بأس بالرد لكن لا يزيد علي قوله " وعليك"</strong></span> ترجمه: اگر کوئی یہودی عیسائی یا نصرانی مسلمان کو سلام کرے تو اس کا جواب صرف " وعلیکم " کہ کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اوپر کی تفصیلی گفتگو سے جو باتیں معلوم ہوئی ہیں وہ یہ ہیں: <strong>(١)</strong> کسی کافر کو خواہ وہ حربی ہو یا ذمی ، یہودی ہو یا نصرانی تعظیما سلام کرنا صرف حرام ہی نہیں بلکہ کفر ہے ۔ <strong>(٢)</strong> ضرورت شرعی اور صحیح دنیوی غرض سے کافر ذمی کو سلام کرسکتے ہیں اور اس کے سلام کا جواب بھی دے سکتے ہیں ۔ مگر صرف " وعلیکم " کہ کر ، پورا جواب " وعلیکم السلام" نہ کہا جائے۔ <strong>(٣)</strong> یہودی ، عیسائی ، مجوسی اور کافر سلام کرے تو مسلمان اس کا جواب صرف " وعلیکم " کہ کر دے سکتاہے۔ بالعموم دیکھا یہ جاتا ہے کہ مسلمان کسی کافر کو سلام نہیں کرتے اور اگر کوئی کر بھی دیتا ہے تو وہاں کافر کی تعظیم مقصود نہیں ہوتی ، لہذا ایسے موقع پر کفر وفسق کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا اور شدید ضرورت کے وقت صرف اوپر دل سے غیر مسلم کو بالمشافہہ یا بذریعہ موبائل سلام کرسکتے ہیں ۔ بہار شریعت میں ہے: " کافر کو اگر حاجت کی وجہ سے سلام کیا، مثلا سلام نہ کرنے میں اندیشہ ہے تو کوئی حرج نہیں اور بقصد تعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کرنا کفر ہے۔ <span style="color: #339966;"><strong>ماخوز از موبائل فون کے ضروری مسائل / علامہ طفیل احمد مصباحی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...