Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1185
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.9K Views
تقسیم ترکہ سے متعلق ایک مسئلہ از علامہ کمال احمد علیمی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
تقسیم ترکہ سے متعلق ایک مسئلہ از علامہ کمال احمد علیمی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
تقسیم ترکہ سے متعلق ایک مسئلہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا انتقال ہو گیا ہے۔ زید کے چار (4) لڑکے اور پانچ(5) لڑکیاں اور زیدی کی بیوہ ہیں۔پانچوں لڑکیاں شادی شدہ ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کے چھوڑے مکان و زمین میں زید کی بیوہ اور ان کے چار لڑکے اور پانچ لڑکیوں کا کیا حق ہے؟ مفصل بیان فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: محمد احمد رضوی سرجو نگر کنڈہ ضلع پرتاپگڈھ (یو پی) الجواب بعون اللہ الوھاب وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بر تقدیر صحت سوال، وبعد تقدیم مایقدم علی الإرث ، زید کی کل جائداد کا آٹھواں حصہ بیوی کو دیں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے : فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ(النساء :١٢) باقی بچے ہوئے مال میں بیٹوں اور بیٹیوں کو بطور عصبہ حصہ ملے گا، بیٹے دوگنا اور بیٹیاں ایک گنا پائیں گی، قرآن مجید میں ہے :يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ [النساء:١١] بلا کسر تقسیم ترکہ کے لئے کل جائداد کو ایک سو چار 104 حصوں میں تقسیم کرکے آٹھواں حصہ (13 / حصے) بیوی کو دیں گے، بقیہ حصوں میں سے 14/ 14/ حصے لڑکوں کواور 7/ 7/حصے لڑکیوں کو دیں گے، ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہوگا کما تقدم. واللہ اعلم بالصواب ۔ کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٩ جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ / ٢٣جنوری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>تقسیم ترکہ سے متعلق ایک مسئلہ</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا انتقال ہو گیا ہے۔ زید کے چار (4) لڑکے اور پانچ(5) لڑکیاں اور زیدی کی بیوہ ہیں۔پانچوں لڑکیاں شادی شدہ ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کے چھوڑے مکان و زمین میں زید کی بیوہ اور ان کے چار لڑکے اور پانچ لڑکیوں کا کیا حق ہے؟ مفصل بیان فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: محمد احمد رضوی سرجو نگر کنڈہ ضلع پرتاپگڈھ (یو پی) <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون اللہ الوھاب </strong></span> وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بر تقدیر صحت سوال، وبعد تقدیم مایقدم علی الإرث ، زید کی کل جائداد کا آٹھواں حصہ بیوی کو دیں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ(النساء :١٢)</strong></span> باقی بچے ہوئے مال میں بیٹوں اور بیٹیوں کو بطور عصبہ حصہ ملے گا، بیٹے دوگنا اور بیٹیاں ایک گنا پائیں گی، قرآن مجید میں ہے <strong><span style="color: #ff0000;">:يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ [النساء:١١]</span></strong> بلا کسر تقسیم ترکہ کے لئے کل جائداد کو ایک سو چار 104 حصوں میں تقسیم کرکے آٹھواں حصہ (13 / حصے) بیوی کو دیں گے، بقیہ حصوں میں سے 14/ 14/ حصے لڑکوں کواور 7/ 7/حصے لڑکیوں کو دیں گے، ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہوگا کما تقدم. واللہ اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١٩ جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ / ٢٣جنوری ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...