Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1191
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
5.5K Views
جس عورت کا شوہر غائب ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
جس عورت کا شوہر غائب ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
جس عورت کا شوہر غائب ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟
الجواب بتوفیق الملک الوھاب صورت مسئولہ میں جس گمشدہ مرد کی موت وحیات کا حال معلوم نہ ہو وہ مفقود الخبر ہے،اور مفقود کی بیوی کیلئے مذہب حنفی میں یہ حکم ہے کہ اپنے شوہر کی عمر نوے سال ہونے تک انتظار کرے ۔ اور امام ابن ہمام رضی اللہ تعالی عنہ کا مختا ر یہ ہے کہ اپنے شوہر کی عمرستر سال ہونے تک انتظار کرے ۔ لقوله عليه السلا اعمارامتى ما بين السنتين الي السبعين مگر وقت ضرورت ملجئہ مفقود کی مفقود کی عورت کو حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب پر عمل کی رخصت ہے ان کے مذہب میں چار سال کی مدت مقرر ہے ۔ لہذا ضلع کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ عالم “قاضیٔ شرع”کے حضور فسخ نکاح کا دعوی پیش کرے وہ عالم اس کا دعوی سن کر چار سال کی مدت مقرر کرے، بغیر دعوی پیش کئے بطور خود چار سال انتظار کرتی رہی تو یہ عدت حساب میں شمار نہیں ہوگی، بلکہ دعوی کے بعد چار سال کی مدت درکار ہے، اس درمیان میں اسکے شوہر کے موت وحیات کا حال معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے جب یہ مدت گزر جائے تو وہ عورت اسی عالم کے پاس استغاثہ پیش کرے اس وقت وہ عالم اسکے شوہر کے موت کا حکم کرے گا پھر عورت عدت وفات “چار ماہ دس دن” گزار کر جس سنی صحیح العقیدہ سے چاہئے نکاح کرسکتی ہے۔ اس سے قبل ہر گز ہر گز اس کا نکاح جائز نہیں ۔ (فتاوی رضویہ شریف جلد،١٣ ص،٣٤٤,٣٤٥,٣٤٨) (فتاوی بحر العلوم ،جلد ٣،ص،٤٠٦،٤٠٩،٤١٠) (فتاوی فیض الرسول جلد دوم ص ۲٨٦) ( وقال مالک رحمہ اللہ اذامضی لہ أربع سنین یفرق القاضی بینہ وبین امرأتہ وتعقد عدۃالوفاۃ ثم تتزوج من شاء ت۔ہدایہ کتاب المفقود۔) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب کتبـــــہ : حضرت مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارلعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی
Kutubahu & Verified by:
<h2>جس عورت کا شوہر غائب ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟</h2> الجواب بتوفیق الملک الوھاب صورت مسئولہ میں جس گمشدہ مرد کی موت وحیات کا حال معلوم نہ ہو وہ مفقود الخبر ہے،اور مفقود کی بیوی کیلئے مذہب حنفی میں یہ حکم ہے کہ اپنے شوہر کی عمر نوے سال ہونے تک انتظار کرے ۔ اور امام ابن ہمام رضی اللہ تعالی عنہ کا مختا ر یہ ہے کہ اپنے شوہر کی عمرستر سال ہونے تک انتظار کرے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>لقوله عليه السلا اعمارامتى ما بين السنتين الي السبعين </strong></span> مگر وقت ضرورت ملجئہ مفقود کی مفقود کی عورت کو حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب پر عمل کی رخصت ہے ان کے مذہب میں چار سال کی مدت مقرر ہے ۔ لہذا ضلع کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ عالم "قاضیٔ شرع"کے حضور فسخ نکاح کا دعوی پیش کرے وہ عالم اس کا دعوی سن کر چار سال کی مدت مقرر کرے، بغیر دعوی پیش کئے بطور خود چار سال انتظار کرتی رہی تو یہ عدت حساب میں شمار نہیں ہوگی، بلکہ دعوی کے بعد چار سال کی مدت درکار ہے، اس درمیان میں اسکے شوہر کے موت وحیات کا حال معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے جب یہ مدت گزر جائے تو وہ عورت اسی عالم کے پاس استغاثہ پیش کرے اس وقت وہ عالم اسکے شوہر کے موت کا حکم کرے گا پھر عورت عدت وفات "چار ماہ دس دن" گزار کر جس سنی صحیح العقیدہ سے چاہئے نکاح کرسکتی ہے۔ اس سے قبل ہر گز ہر گز اس کا نکاح جائز نہیں ۔ (فتاوی رضویہ شریف جلد،١٣ ص،٣٤٤,٣٤٥,٣٤٨) (فتاوی بحر العلوم ،جلد ٣،ص،٤٠٦،٤٠٩،٤١٠) (فتاوی فیض الرسول جلد دوم ص ۲٨٦) <span style="color: #ff0000;"><strong>( وقال مالک رحمہ اللہ اذامضی لہ أربع سنین یفرق القاضی بینہ وبین امرأتہ وتعقد عدۃالوفاۃ ثم تتزوج من شاء ت۔ہدایہ کتاب المفقود۔)</strong></span> واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــہ : حضرت مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دارلعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...