Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1193 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.7K Views

دو ماہ کا حمل ضائع کرنا کیسا ہے ؟ / حمل کو گرانا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

دو ماہ کا حمل ضائع کرنا کیسا ہے ؟ / حمل کو گرانا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

دو ماہ کا حمل ضائع کرنا کیسا ہے ؟ / حمل کو گرانا کیسا ہے ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں تقریبا دو ماہ کا حمل ضائع کرنا کیسا ہے ؟ جبکہ اس کا ایک لڑکا آٹھ سے نو مہینے کا ہے جواب عنایت فرمائیں حوالہ کے ساتھ ۔ سائل۔۔۔ محمد عمران قادری، فقط والسلام وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسؤلہ ضرورت کے پیش نظر حمل ضائع کر سکتے ہیں، جیسا کہ سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ سے اسی طرح کا ایک سوال ہوا کہ کیا کوئی عورت جس کو دومہینے کا حمل ہو، تو وہ صفائی کرا سکتی ہے؟الخ، تو آپ جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر ابھی بچہ نہیں بنا جائز ہے، ورنہ ناجائز ، کہ بے گناہ کا قتل ہے اور چار مہینے میں بچہ بن جاتا ہے (فتاوی رضویہ، جلد،٩ نصف آخر، ص، ١٥١) اور دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ جان پڑ جانے کے بعد اسقاط حمل حرام ہے اور ایسا کرنے والا گویا قاتل ہے اور جان پڑنے سے پہلے اگر کوئی ضرورت ہو تو حرج نہیں۔ (ایضا صفحہ نمبر ٢٦٠) اگر ضرورت ہو تو چار مہینے سے پہلے حمل گرانا جائز ہے ،بلا ضرورت ایسی حرکت درست نہیں، ( فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ نمبر ٣٣١) کتبــــــہ : مولانا منظور القادری ،خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>دو ماہ کا حمل ضائع کرنا کیسا ہے ؟ / حمل کو گرانا کیسا ہے ؟</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں تقریبا دو ماہ کا حمل ضائع کرنا کیسا ہے ؟ جبکہ اس کا ایک لڑکا آٹھ سے نو مہینے کا ہے جواب عنایت فرمائیں حوالہ کے ساتھ ۔ سائل۔۔۔ محمد عمران قادری، فقط والسلام وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مسؤلہ ضرورت کے پیش نظر حمل ضائع کر سکتے ہیں، جیسا کہ سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ سے اسی طرح کا ایک سوال ہوا کہ کیا کوئی عورت جس کو دومہینے کا حمل ہو، تو وہ صفائی کرا سکتی ہے؟الخ، تو آپ جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر ابھی بچہ نہیں بنا جائز ہے، ورنہ ناجائز ، کہ بے گناہ کا قتل ہے اور چار مہینے میں بچہ بن جاتا ہے (فتاوی رضویہ، جلد،٩ نصف آخر، ص، ١٥١) اور دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ جان پڑ جانے کے بعد اسقاط حمل حرام ہے اور ایسا کرنے والا گویا قاتل ہے اور جان پڑنے سے پہلے اگر کوئی ضرورت ہو تو حرج نہیں۔ (ایضا صفحہ نمبر ٢٦٠) اگر ضرورت ہو تو چار مہینے سے پہلے حمل گرانا جائز ہے ،بلا ضرورت ایسی حرکت درست نہیں، ( فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ نمبر ٣٣١) <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ : مولانا منظور القادری ،خادم التدریس لدرجات العالیہ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...