Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1198
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.4K Views
پیشگی رقم دے کر کاروبار کی ایک صورت کا حکم
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
پیشگی رقم دے کر کاروبار کی ایک صورت کا حکم
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
پیشگی رقم دے کر کاروبار کی ایک صورت کا حکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں: زید ایک تاجر ہے، جو مالِ تجارت بکر سے خریدتا ہے، بکر کا کہنا ہےکہ اگر زید مجھے بطور ایڈوانس ایک لاکھ روپے دے دیتا ہے تو میں زید کو دوسرے کسٹمر کے بنسبت سستا سامان دوں گا۔ مثلا بکر مرغی کا گوشت فروخت کرتا ہے دوسرے کسٹمر کو 160 روپے کیلو دیتا ہے جبکہ زید کو 150روپے کیلو دیتا ہے اسلئے کہ زید پہلے ہی ایڈوانس کے طور پر بکر کو ایک لاکھ یا دو لاکھ دے چکا ہوتا ہے ۔ زید روزانہ تقریبا 10000کاگوشت خریدتا ہے بکر اسی ایڈوانس دیے ہوئے رقم سے قیمت وصول کر لیتا ہے ۔ کیا زید و بکر کا اس طرح تجارت کرنا از روے شرع درست ہے؟جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ المستفتی ۔غلام محمد عزیزی جمشیدپور جھارکھنڈ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر یہ معاملہ بیعِ سلم کے طور پر کیا جائے اور اس کی ساری شرطیں پائی جائیں تو جائز ہوگا۔کیوں کہ گوشت کو بیعِ سلم کے طور پر فروخت کیا جاسکتا ہے۔صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “”گوشت کی نوعیت وصفت بیان کردی ہو تو اس میں سلم جائز ہے۔” (بہار شریعت ح١١ ص٨٠٦) اب اگرجس کرنسی نوٹ کے بدلے گوشت کی خریداری ہو رہی ہے عقد میں اس کی (١)جنس(٢) نوع (٣)وصف(۴) مقدار بیان کرکے مجلس عقد میں گوشت والے کے حوالے اتنی مقدار کردی جائے۔اور اسی عقد میں گوشت کی (۵) جنس(٦) نوع (٧) وصف (٩) مقدار (١٠)کم از کم ایک ماہ بعد حوالگی کا مقرر وقت(٩) حوالگی کی جگہ بیان کردی جائے تو بیعِ سلم کے طور پر اس کی خریداری درست ہوگی۔ بیع سلم کی شرطیں بیان کرتے ہوئے امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: ” یہ بارہ شرطوں سے جائز ہوتی ہے ، اگر ان میں سے ایک بھی کم ہوگی تو بالکل ناجائز اور سود ہوجائے گی: (۱) اس شے کی جنس بیان کردی جائے ، مثلا گیہوں یا چاول یا گھی یا تیل، اگر ایک عام بات کہی ، مثلا غلہ میں لیں گے تو ناجائز ہے۔ (۲) وہ جنس اگر کئی قسم کی ہوتی ہے تو اس کی قسم معین کردی جائے، جیسے چاول میں باسمتی ہنس راج، اگر نرے چاول کہے بیع صحیح نہ ہوگی۔ (۳) اس کی صفت بیان کردی جائے ، مثلا عمدہ یا ناقص جیسے چنوں میں مفرد یا کسیلے (۴)اس کی مقدار معین کردی جائے، مثلا اتنے من،اور یہ بات بھاؤ کاٹ دینے سے بھی حاصل ہوجاتی ہے یعنی فی روپیہ اتنے سیر کہ روپوں کی گنتی معلوم ہونے سے کل مقدار خود معلوم ہوجائیگی۔اور جہاں مختلف پنسیروں کا رواج ہو وہاں پنسیری کی تعیین بھی ضروری ہے کہ فلاں پنسیری سے اتنے من ۔اور جہاں کچا پکا دونوں من بولا جائے وہاں اس کی تعین بھی لازم ہے۔ غرض کوئی بات وہ نہ رہے جس میں آئندہ جھگڑا اٹھنے کی صورت ہو۔ (۵) میعاد معین کردی جائے جو ایک مہینہ سے کم نہ ہو، اگر تعیین نہ کی مثلا جب چاہیں گے لے لیں گے ، یا سفر کو جاتاہوں جب پلٹ کر آؤں گا لے لوں گا تو ناجائز ہوگا۔ (٦)اگر وہ چیز بار برداری کی ہے جس کے یہاں سے وہاں لے جانے میں خرچ ہوگا تو وہ جگہ بھی معین کی جائے جہاں پہنچنا منظور ہے، مثلا فلاں شہر یا فلاں گاؤں میں پہنچتے ہوئے، اس میں بیچنے والے کو اختیار رہے گا کہ اس گاؤں یا شہر کے جس مقام ومحلہ میں چاہے پہنچادے۔ اور جو مکان بھی خاص کردیا تو وہیں پہنچانا پڑے گا۔(۷)ثمن کی بھی تعیین ہوجائے مثلا روپے یااشرفی۔ (۸)اگر وہ ثمن چند قسم کا ہوتا ہے تو قسم بھی معین کردے مثلا اشرفی محمد شاہی یا انگریزی۔ (۹) کھرے کھوٹے کا بیان بھی ہو ، جیسے لکھنؤ کا روپیہ یاانگریزی چہرہ دار یا جے پور کی چاندی یا اینٹ کا سونا۔ (۱۰) اگر ثمن اس قسم کا ہے کہ اس کے ہر ٹکڑے کے مقابل شے مبیع کا ٹکڑا ہوتا ہے جیسے سونا، چاندی، روپیہ اشرفی کہ گیہوں روپیہ کے من بھر ہوئے تو اٹھنی کے بیس سیر، چونی کے دس سیر ہوں گے تو ایسی ثمن کی تعیین مقدار بھی ضرور ہے مثلا اتنے تولہ چاندی یا اس قدر روپے۔ اور اگر وہاں مختلف وزن کے سکے چلتے ہوں جیسے حیدرآباد میں نوابی وانگریزی روپیہ، وہاں سکہ کی تعیین بھی چاہئے۔ یہ دسوں باتیں خاص عقد ایجاب وقبول میں بیان کرنی ضروری ہیں ۔ مثال اس کی یہ ہے کہ زید عمرو سے کہے : میں نے تجھ سے بریلی کے تول سے دس من پختہ چاول ہنسراج کھرے بالعوض سو روپے انگریزی چہرہ دار کے آج سے چار مہینے کے وعدہ پر بریلی پہنچتے ہوئے خرید ے، وہ کہے میں نے بیچے۔ یا میں نے تجھ سے بدایوں کے وزن سے چارمن پکا گھی بھینس کا خالص آج سے دو مہینے کے وعدہ پر مرادآباد پہنچتا ہوا بالعوض چھ اشرفی محمد شاہی بیس بیس روپے والی کے خریدا، وہ کہے میں نے بیچا۔ یہ سب باتیں خوب خیال کرلی جائیں کہ لوگوں میں آج کل بیع سلم کا بہت رواج ہے، ان زبانی شرطوں کے ترک سے حلال کو ناحق اپنے لئے حرام کرلیتے اور خدا کے گناہ میں گرفتار ہوتے ہیں۔ (۱۱)شرط یہ کہ اسی جلسہ میں ثمن ادا کردیا جائے ،ورنہ اگر یہ ساری گفتگو کرکے ثمن دیئے بغیر متفرق ہوگئے تو بنا بنایا عقد فاسد وناجائز ہوجائے گا، یہاں تک کہ اگر وہاں سے آٹھ کر گھر میں روپے لینے گیا اوربیچنے والے کی نگاہ سے آڑ ہوگئی عقد فاسد ہوگیا۔ (۱۲) وہ چیز اس قسم کی ہو کہ روزِ عقد سے ختمِ میعاد تک ہر وقت بازار میں مل سکے ورنہ عقد ناجائز ہوگا ،اسی لئے اگر گیہوں کی کٹوتی میں یہ لفظ کہہ دیئے کہ نئے گیہوں لیں گے اور اس وقت نیا گیہوں بازار میں نہیں تو ناجائز وگناہ ہے ۔اور اسی سبب سے رس کی کٹوتی جو ایکھوں کے وقت کرتے ہیں حرام ہوئی کہ رس اس وقت بازار میں نہیں ہوتا۔” (فتاوی رضویہ ج٢٣٣) لیکن بیعِ سلم کی ساری شرطوں کی پاسداری کی امید بہت بعید ہے، کیوں کہ مثلا گوشت کا کاروبار کرنے والا پیسہ جمع کرنے کے ایک ماہ بعد ہی گوشت لیگا، پھر فلاں تاریخ اور وقت میں اتنی اتنی مقدار میں اسے گوشت درکار ہوگا یہ سب معین کرنا اور اوپر شرطوں میں مذکور امور کا لفظ میں ذکر کرنا یہ سب دشوار امر ہے۔ پھر بھی اگر اس بیع کی تمام شرطیں پالی جائیں تو بطور بیع ایسا کیا جاسکتاہے۔ اور اگر اس کو بیعِ سلم کے طور پر نہ کریں تو یہ پیشگی روپیہ دینا قرض ہوا۔اور قرض میں دی گئی چیز کی مثل کی واپسی ہوتی ہے، اب اگرچہ یہاں قرض کی ادائیگی گوشت کی شکل میں کیے جانے کے وعدہ کی شرط ہے جو ایک فاسد شرط ہے۔لیکن قرض ایسا عقد ہے کہ فاسد شرطوں سے فاسد نہیں ہوتا، بلکہ وہ شرط خود ہی فاسد ہوتی ہے،اس لیے زید اگر بکر کو بطورِ قرض رقم دے گا تو بکر کے اوپر صرف قرض کی ادائیگی لازم ہوگی، اس پر اس وعدہ بیع کی وجہ سے یہ لازم نہیں ہوگا کہ وہ اس کو وعدہ کے مطابق مرغی کا گوشت ہی دے۔ صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “کیا چیز شرط سے فاسد ہوتی ہے اور کیا نہیں ہوتی اور کس کو شرط پر معلق کرسکتے ہیں اور کس کو نہیں کرسکتے اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جب مال کو مال سے تبادلہ کیا جائے وہ شرط فاسد سے فاسد ہوگا، جیسے بیع کہ شروط فاسدہ سے بیع ناجائز ہوجاتی ہے، جس کا بیان پہلے مذکور ہوا۔ اور جہاں مال کو مال سے بدلنا نہ ہو وہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ،خواہ مال کو غیر مال سے بدلنا ہو ، جیسے نکاح، طلاق، خلع علی المال ، یا از قبیل تبرعات ہوجیسے ہبہ۔ وصیت۔ ان میں خود وہ شروطِ فاسدہ ہی باطل ہوجاتی ہیں اور قرض اگرچہ انتہاءً مبادلہ ہے مگر ابتداء ًچونکہ تبرع ہے، شرط فاسد سے فاسد نہیں” (بہار شریعت ح١١ص ٨٢٠) اور اس صورت میں وہ وقت آنے پر بکر چاہے تو اس سے ایک جدید عقدِ بیع کے طور پر گوشت بیچ سکتا ہے اور چاہے تو صرف اس کے قرض کی رقم واپس کردے۔ یہ سب فتاوی رضویہ کے درج ذیل سوال وجواب سے واضح ہے۔ مسئلہ: کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ زید کچھ روپیہ دہقانوں کو فصل سے پہلے اس شرط پر تقسیم کردیتاہے مثلا جس وقت روپیہ یا اس وقت گندم خواہ کوئی غلہ(۱۰ ما/)کا تھا اور اس نے (۱۴ ما/)فی روپیہ نرخ ٹھہرا کر روپیہ دے دیا اب فصل پر خواہ کوئی نرخ کم وبیش (۱۴ ما/)سے ہو لیکن وہ فی روپیہ(۱۴ ما/)کے حساب سے غلہ لے لے گا۔ بکر کہتا ہے کہ تونے سود لیا کیونکہ نرخ سے زیادہ ٹھہرا لیا۔ بینوا توجروا الجواب: یہ صورت بیع سلم کی ہے اگر اس کے سب شرائط پائے گئے تو بلاشبہ جائز ہے اور کسی طرح سود نہیں۔ اگرچہ دس سیر کی جگہ دس من قرار دے، ہاں! اگر جبر ہے تو حرام ہے اگرچہ دس سیر کی جگہ سیر ہی بھر لے لقولہ تعالٰی “الا ان تکون تجارہ عن تراض منکم”۔ اورا گر بیع رضامندی سے ہوئی مگر کوئی شرط رہ گئی مثلا غلہ کی جنس یا نوع یا صفت یا وزن کی تعیین نہ ہوئی یا وہ چیز ٹھہری جو اس وقت سے وقت وعدہ تک ہر وقت بازار میں موجود نہ رہے گی یا میعاد مجہول رکھی یا اسی جلسہ میں روپیہ تمام وکمال ادانہ کردیا تو ضرور حرام وسود ہے اگرچہ نرخ بازار سے کچھ زیادہ نہ ٹھہرا ہو۔ اور اگر خریدم وفروختم کا مضمون درمیان نہ آیا مثلا اس نے کہا کہ روپیہ کے چودہ سیر لیں گے اس نے کہا دوں گا تو یہ نہ سود ہے نہ حرام ، نہ اس کے لئے کسی شرط کی حاجت، نہ اسے اس پر مطالبہ پہنچے۔ اس کی خوشی پر ہے، چاہے دے، یا نہ دے کہ یہ سرے سے بیع ہی نہ ہوئی، نرا وعدہ ہوا” (فتاوی رضویہ ج٧ ص٢٣٧) نیز اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے ایک سوال ہوا جس کا حاصل یہ ہےکہ اگر کوئی شخص کسی کو اس طور پر روپیہ دے کہ اتنے دنوں کے بعد اس روپیے کا اتنا گیہوں یا بازار بھاو کے حساب سے اتنے روپیوں کا گیہوں دے گا تو کیا حکم ہے؟ تو آپ نے جواب میں تحریر فرمایا: اور اگر روپیہ دیتا تو اس میں دو صورتیں تھیں ، روپیہ قرض دیتا اور یہ شرط ٹھہرا لیتا کہ ادا کے وقت گیہوں دیں تو یہ شرط باطل تھی، زید وخالد پر صرف اتنا روپیہ ادا کرنا تھا اور اگر گیہوں کی خریداری کرتا اور روپیہ پیشگی دیتا تو یہ صورت بیع سلم کی تھی اگر اس کے شرائط پائے جاتے جائز ہوتی ورنہ حرام۔ (فتاوی رضویہ ج٧ ص ٩٣) حاصل یہ ہے کہ اگر روپیہ دیتے وقت ہی گوشت کی بیع کی جائے تو اس کے لیے بیعِ سلم کی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ اور اگر روپیہ بطور قرض دے کر یہ شرط کرے کہ ان روپیوں کو فلاں وقت اتنے وزن گوشت کی شکل میں لوں گا تو قرض دینا جائز، لیکن قرض لینے والا صرف قرض واپس کرے گا اس سے جبراً گوشت نہیں لیا جاسکتا۔اور اگر روپیہ بطور قرض دیا اور قرض لینے والے سے وعدہ کرالیا کہ فلاں وقت اس کے بدلے میں اتنا گوشت دے دینا تب بھی یہ قرض جائز ہوگا۔ اور اس صورت میں گوشت کی بیع نہ ہوئی، صرف ایک وعدہ ہوا۔جس میں بکر پر لازم نہیں کہ گوشت دے، بلکہ صرف قرض کی رقم واپس کرنی ہوگی ہاں! اگر زید و بکر چاہیں تو باہمی رضامندی سے گزشتہ وعدہ کے مطابق ہی رقم پر ایک الگ بیع کرکے قرض کی رقم کو گوشت کے دام میں محسوب کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٠/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٢۴/جنوری ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>پیشگی رقم دے کر کاروبار کی ایک صورت کا حکم</h2> السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں: زید ایک تاجر ہے، جو مالِ تجارت بکر سے خریدتا ہے، بکر کا کہنا ہےکہ اگر زید مجھے بطور ایڈوانس ایک لاکھ روپے دے دیتا ہے تو میں زید کو دوسرے کسٹمر کے بنسبت سستا سامان دوں گا۔ مثلا بکر مرغی کا گوشت فروخت کرتا ہے دوسرے کسٹمر کو 160 روپے کیلو دیتا ہے جبکہ زید کو 150روپے کیلو دیتا ہے اسلئے کہ زید پہلے ہی ایڈوانس کے طور پر بکر کو ایک لاکھ یا دو لاکھ دے چکا ہوتا ہے ۔ زید روزانہ تقریبا 10000کاگوشت خریدتا ہے بکر اسی ایڈوانس دیے ہوئے رقم سے قیمت وصول کر لیتا ہے ۔ کیا زید و بکر کا اس طرح تجارت کرنا از روے شرع درست ہے؟جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ المستفتی ۔غلام محمد عزیزی جمشیدپور جھارکھنڈ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> اگر یہ معاملہ بیعِ سلم کے طور پر کیا جائے اور اس کی ساری شرطیں پائی جائیں تو جائز ہوگا۔کیوں کہ گوشت کو بیعِ سلم کے طور پر فروخت کیا جاسکتا ہے۔صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ""گوشت کی نوعیت وصفت بیان کردی ہو تو اس میں سلم جائز ہے۔" (بہار شریعت ح١١ ص٨٠٦) اب اگرجس کرنسی نوٹ کے بدلے گوشت کی خریداری ہو رہی ہے عقد میں اس کی (١)جنس(٢) نوع (٣)وصف(۴) مقدار بیان کرکے مجلس عقد میں گوشت والے کے حوالے اتنی مقدار کردی جائے۔اور اسی عقد میں گوشت کی (۵) جنس(٦) نوع (٧) وصف (٩) مقدار (١٠)کم از کم ایک ماہ بعد حوالگی کا مقرر وقت(٩) حوالگی کی جگہ بیان کردی جائے تو بیعِ سلم کے طور پر اس کی خریداری درست ہوگی۔ بیع سلم کی شرطیں بیان کرتے ہوئے امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: " یہ بارہ شرطوں سے جائز ہوتی ہے ، اگر ان میں سے ایک بھی کم ہوگی تو بالکل ناجائز اور سود ہوجائے گی: (۱) اس شے کی جنس بیان کردی جائے ، مثلا گیہوں یا چاول یا گھی یا تیل، اگر ایک عام بات کہی ، مثلا غلہ میں لیں گے تو ناجائز ہے۔ (۲) وہ جنس اگر کئی قسم کی ہوتی ہے تو اس کی قسم معین کردی جائے، جیسے چاول میں باسمتی ہنس راج، اگر نرے چاول کہے بیع صحیح نہ ہوگی۔ (۳) اس کی صفت بیان کردی جائے ، مثلا عمدہ یا ناقص جیسے چنوں میں مفرد یا کسیلے (۴)اس کی مقدار معین کردی جائے، مثلا اتنے من،اور یہ بات بھاؤ کاٹ دینے سے بھی حاصل ہوجاتی ہے یعنی فی روپیہ اتنے سیر کہ روپوں کی گنتی معلوم ہونے سے کل مقدار خود معلوم ہوجائیگی۔اور جہاں مختلف پنسیروں کا رواج ہو وہاں پنسیری کی تعیین بھی ضروری ہے کہ فلاں پنسیری سے اتنے من ۔اور جہاں کچا پکا دونوں من بولا جائے وہاں اس کی تعین بھی لازم ہے۔ غرض کوئی بات وہ نہ رہے جس میں آئندہ جھگڑا اٹھنے کی صورت ہو۔ (۵) میعاد معین کردی جائے جو ایک مہینہ سے کم نہ ہو، اگر تعیین نہ کی مثلا جب چاہیں گے لے لیں گے ، یا سفر کو جاتاہوں جب پلٹ کر آؤں گا لے لوں گا تو ناجائز ہوگا۔ (٦)اگر وہ چیز بار برداری کی ہے جس کے یہاں سے وہاں لے جانے میں خرچ ہوگا تو وہ جگہ بھی معین کی جائے جہاں پہنچنا منظور ہے، مثلا فلاں شہر یا فلاں گاؤں میں پہنچتے ہوئے، اس میں بیچنے والے کو اختیار رہے گا کہ اس گاؤں یا شہر کے جس مقام ومحلہ میں چاہے پہنچادے۔ اور جو مکان بھی خاص کردیا تو وہیں پہنچانا پڑے گا۔(۷)ثمن کی بھی تعیین ہوجائے مثلا روپے یااشرفی۔ (۸)اگر وہ ثمن چند قسم کا ہوتا ہے تو قسم بھی معین کردے مثلا اشرفی محمد شاہی یا انگریزی۔ (۹) کھرے کھوٹے کا بیان بھی ہو ، جیسے لکھنؤ کا روپیہ یاانگریزی چہرہ دار یا جے پور کی چاندی یا اینٹ کا سونا۔ (۱۰) اگر ثمن اس قسم کا ہے کہ اس کے ہر ٹکڑے کے مقابل شے مبیع کا ٹکڑا ہوتا ہے جیسے سونا، چاندی، روپیہ اشرفی کہ گیہوں روپیہ کے من بھر ہوئے تو اٹھنی کے بیس سیر، چونی کے دس سیر ہوں گے تو ایسی ثمن کی تعیین مقدار بھی ضرور ہے مثلا اتنے تولہ چاندی یا اس قدر روپے۔ اور اگر وہاں مختلف وزن کے سکے چلتے ہوں جیسے حیدرآباد میں نوابی وانگریزی روپیہ، وہاں سکہ کی تعیین بھی چاہئے۔ یہ دسوں باتیں خاص عقد ایجاب وقبول میں بیان کرنی ضروری ہیں ۔ مثال اس کی یہ ہے کہ زید عمرو سے کہے : میں نے تجھ سے بریلی کے تول سے دس من پختہ چاول ہنسراج کھرے بالعوض سو روپے انگریزی چہرہ دار کے آج سے چار مہینے کے وعدہ پر بریلی پہنچتے ہوئے خرید ے، وہ کہے میں نے بیچے۔ یا میں نے تجھ سے بدایوں کے وزن سے چارمن پکا گھی بھینس کا خالص آج سے دو مہینے کے وعدہ پر مرادآباد پہنچتا ہوا بالعوض چھ اشرفی محمد شاہی بیس بیس روپے والی کے خریدا، وہ کہے میں نے بیچا۔ یہ سب باتیں خوب خیال کرلی جائیں کہ لوگوں میں آج کل بیع سلم کا بہت رواج ہے، ان زبانی شرطوں کے ترک سے حلال کو ناحق اپنے لئے حرام کرلیتے اور خدا کے گناہ میں گرفتار ہوتے ہیں۔ (۱۱)شرط یہ کہ اسی جلسہ میں ثمن ادا کردیا جائے ،ورنہ اگر یہ ساری گفتگو کرکے ثمن دیئے بغیر متفرق ہوگئے تو بنا بنایا عقد فاسد وناجائز ہوجائے گا، یہاں تک کہ اگر وہاں سے آٹھ کر گھر میں روپے لینے گیا اوربیچنے والے کی نگاہ سے آڑ ہوگئی عقد فاسد ہوگیا۔ (۱۲) وہ چیز اس قسم کی ہو کہ روزِ عقد سے ختمِ میعاد تک ہر وقت بازار میں مل سکے ورنہ عقد ناجائز ہوگا ،اسی لئے اگر گیہوں کی کٹوتی میں یہ لفظ کہہ دیئے کہ نئے گیہوں لیں گے اور اس وقت نیا گیہوں بازار میں نہیں تو ناجائز وگناہ ہے ۔اور اسی سبب سے رس کی کٹوتی جو ایکھوں کے وقت کرتے ہیں حرام ہوئی کہ رس اس وقت بازار میں نہیں ہوتا۔" (فتاوی رضویہ ج٢٣٣) لیکن بیعِ سلم کی ساری شرطوں کی پاسداری کی امید بہت بعید ہے، کیوں کہ مثلا گوشت کا کاروبار کرنے والا پیسہ جمع کرنے کے ایک ماہ بعد ہی گوشت لیگا، پھر فلاں تاریخ اور وقت میں اتنی اتنی مقدار میں اسے گوشت درکار ہوگا یہ سب معین کرنا اور اوپر شرطوں میں مذکور امور کا لفظ میں ذکر کرنا یہ سب دشوار امر ہے۔ پھر بھی اگر اس بیع کی تمام شرطیں پالی جائیں تو بطور بیع ایسا کیا جاسکتاہے۔ اور اگر اس کو بیعِ سلم کے طور پر نہ کریں تو یہ پیشگی روپیہ دینا قرض ہوا۔اور قرض میں دی گئی چیز کی مثل کی واپسی ہوتی ہے، اب اگرچہ یہاں قرض کی ادائیگی گوشت کی شکل میں کیے جانے کے وعدہ کی شرط ہے جو ایک فاسد شرط ہے۔لیکن قرض ایسا عقد ہے کہ فاسد شرطوں سے فاسد نہیں ہوتا، بلکہ وہ شرط خود ہی فاسد ہوتی ہے،اس لیے زید اگر بکر کو بطورِ قرض رقم دے گا تو بکر کے اوپر صرف قرض کی ادائیگی لازم ہوگی، اس پر اس وعدہ بیع کی وجہ سے یہ لازم نہیں ہوگا کہ وہ اس کو وعدہ کے مطابق مرغی کا گوشت ہی دے۔ صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: "کیا چیز شرط سے فاسد ہوتی ہے اور کیا نہیں ہوتی اور کس کو شرط پر معلق کرسکتے ہیں اور کس کو نہیں کرسکتے اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جب مال کو مال سے تبادلہ کیا جائے وہ شرط فاسد سے فاسد ہوگا، جیسے بیع کہ شروط فاسدہ سے بیع ناجائز ہوجاتی ہے، جس کا بیان پہلے مذکور ہوا۔ اور جہاں مال کو مال سے بدلنا نہ ہو وہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ،خواہ مال کو غیر مال سے بدلنا ہو ، جیسے نکاح، طلاق، خلع علی المال ، یا از قبیل تبرعات ہوجیسے ہبہ۔ وصیت۔ ان میں خود وہ شروطِ فاسدہ ہی باطل ہوجاتی ہیں اور قرض اگرچہ انتہاءً مبادلہ ہے مگر ابتداء ًچونکہ تبرع ہے، شرط فاسد سے فاسد نہیں" (بہار شریعت ح١١ص ٨٢٠) اور اس صورت میں وہ وقت آنے پر بکر چاہے تو اس سے ایک جدید عقدِ بیع کے طور پر گوشت بیچ سکتا ہے اور چاہے تو صرف اس کے قرض کی رقم واپس کردے۔ یہ سب فتاوی رضویہ کے درج ذیل سوال وجواب سے واضح ہے۔ مسئلہ: کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ زید کچھ روپیہ دہقانوں کو فصل سے پہلے اس شرط پر تقسیم کردیتاہے مثلا جس وقت روپیہ یا اس وقت گندم خواہ کوئی غلہ(۱۰ ما/)کا تھا اور اس نے (۱۴ ما/)فی روپیہ نرخ ٹھہرا کر روپیہ دے دیا اب فصل پر خواہ کوئی نرخ کم وبیش (۱۴ ما/)سے ہو لیکن وہ فی روپیہ(۱۴ ما/)کے حساب سے غلہ لے لے گا۔ بکر کہتا ہے کہ تونے سود لیا کیونکہ نرخ سے زیادہ ٹھہرا لیا۔ بینوا توجروا الجواب: یہ صورت بیع سلم کی ہے اگر اس کے سب شرائط پائے گئے تو بلاشبہ جائز ہے اور کسی طرح سود نہیں۔ اگرچہ دس سیر کی جگہ دس من قرار دے، ہاں! اگر جبر ہے تو حرام ہے اگرچہ دس سیر کی جگہ سیر ہی بھر لے لقولہ تعالٰی "الا ان تکون تجارہ عن تراض منکم"۔ اورا گر بیع رضامندی سے ہوئی مگر کوئی شرط رہ گئی مثلا غلہ کی جنس یا نوع یا صفت یا وزن کی تعیین نہ ہوئی یا وہ چیز ٹھہری جو اس وقت سے وقت وعدہ تک ہر وقت بازار میں موجود نہ رہے گی یا میعاد مجہول رکھی یا اسی جلسہ میں روپیہ تمام وکمال ادانہ کردیا تو ضرور حرام وسود ہے اگرچہ نرخ بازار سے کچھ زیادہ نہ ٹھہرا ہو۔ اور اگر خریدم وفروختم کا مضمون درمیان نہ آیا مثلا اس نے کہا کہ روپیہ کے چودہ سیر لیں گے اس نے کہا دوں گا تو یہ نہ سود ہے نہ حرام ، نہ اس کے لئے کسی شرط کی حاجت، نہ اسے اس پر مطالبہ پہنچے۔ اس کی خوشی پر ہے، چاہے دے، یا نہ دے کہ یہ سرے سے بیع ہی نہ ہوئی، نرا وعدہ ہوا" (فتاوی رضویہ ج٧ ص٢٣٧) نیز اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے ایک سوال ہوا جس کا حاصل یہ ہےکہ اگر کوئی شخص کسی کو اس طور پر روپیہ دے کہ اتنے دنوں کے بعد اس روپیے کا اتنا گیہوں یا بازار بھاو کے حساب سے اتنے روپیوں کا گیہوں دے گا تو کیا حکم ہے؟ تو آپ نے جواب میں تحریر فرمایا: اور اگر روپیہ دیتا تو اس میں دو صورتیں تھیں ، روپیہ قرض دیتا اور یہ شرط ٹھہرا لیتا کہ ادا کے وقت گیہوں دیں تو یہ شرط باطل تھی، زید وخالد پر صرف اتنا روپیہ ادا کرنا تھا اور اگر گیہوں کی خریداری کرتا اور روپیہ پیشگی دیتا تو یہ صورت بیع سلم کی تھی اگر اس کے شرائط پائے جاتے جائز ہوتی ورنہ حرام۔ (فتاوی رضویہ ج٧ ص ٩٣) حاصل یہ ہے کہ اگر روپیہ دیتے وقت ہی گوشت کی بیع کی جائے تو اس کے لیے بیعِ سلم کی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ اور اگر روپیہ بطور قرض دے کر یہ شرط کرے کہ ان روپیوں کو فلاں وقت اتنے وزن گوشت کی شکل میں لوں گا تو قرض دینا جائز، لیکن قرض لینے والا صرف قرض واپس کرے گا اس سے جبراً گوشت نہیں لیا جاسکتا۔اور اگر روپیہ بطور قرض دیا اور قرض لینے والے سے وعدہ کرالیا کہ فلاں وقت اس کے بدلے میں اتنا گوشت دے دینا تب بھی یہ قرض جائز ہوگا۔ اور اس صورت میں گوشت کی بیع نہ ہوئی، صرف ایک وعدہ ہوا۔جس میں بکر پر لازم نہیں کہ گوشت دے، بلکہ صرف قرض کی رقم واپس کرنی ہوگی ہاں! اگر زید و بکر چاہیں تو باہمی رضامندی سے گزشتہ وعدہ کے مطابق ہی رقم پر ایک الگ بیع کرکے قرض کی رقم کو گوشت کے دام میں محسوب کرسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٠/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٢۴/جنوری ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...