Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #104 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.7K Views

دیوبندی کی نمازِ جنازہ پڑھنا اور مٹی دینا کیسا ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

دیوبندی کی نمازِ جنازہ پڑھنا اور مٹی دینا کیسا ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

   

دیوبندی کی نمازِ جنازہ پڑھنا اور مٹی دینا کیسا ہے؟

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ١ ۔ دیوبندی کی نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے ، ٢ ۔ دیوبندی کی میت کی مٹی دینا کیسا ہے یہ جانتے ہوئے کہ یہ شخص دیوبندی ہے قرآن وحدیث اور اقوال ائمہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں فقط والسلام محمد نعمان رضا جمدا شاہی بستی   الجواب علمائے اہل سنت اپنی تصانیف میں واضح کرچکے کہ دیوبندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب کافر مرتد ہیں۔امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “دیوبندیہ کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا کہ وُہ مرتد ہیں۔اور شفائے قاضی عیاض وبزازیہ و مجمع الانہر ودُرمختار وغیرہا کے حوالے سے فرمایا:”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر”(فتاوی رضویہ ج٣ ص٢٦۵)   *اور کافر کے لیے* دعائے مغفرت حرام ، بلکہ بعض علماء نے کفر تک کا قول اختیار کیا ہے، اگرچہ تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بلکہ حرام ہے۔امام اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “ردالمحتار میں ہے :الدعاء بہ کفر لعدم جوازہ عقلاً و لاشرعاً ولتکذیب النصوص القطعیۃ، بخلاف الدعاء للمؤمنین کما علمت فالحق ما فی الحلیِة” درمختار میں ہے:الحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر” اسی طرح بحرالرائق میں ہے_ *اقول* : ومانحا الیہ العلامۃ الشامی من عدم جواز عفو الکفر عقلا، فانما تبع فیہ الامام النسفی صاحب عمدۃ الکلام وشرذمۃ قلیلۃ من اھل السنۃ ، والجمھور علی امتناعہ شرعا وجوازہ عقلا کما فی شرح المقاصد و المسایرۃ وغیرھما وبہ تقتضی الدلائل *فہوالصحیح وعلیہ التعویل ،فاذن الحق ماذھب الیہ البحر،وتبعہ فی الدر۔وتمام الکلام فی ھذاالمقام فیما علقناہ علی ردالمحتار”* (فتاوی رضویہ ج٢٩ ص١۵۴، نسخہ دعوت اسلامی ایپ)   *ہاں!* اگر کسی نے دیوبندی کو مسلمان سمجھ کر نماز جنازہ پڑھی تو کافر کو مسلمان سمجھنے کی وجہ سے اس نے کفر کیا۔ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “وہابیہ وغیر مقلدین ودیوبندی ومرزائی وغیرہم فرقے آج کل سب کفار مرتدین ہیں، ان کے پاس نشست وبرخاست حرام ہے، ان سے میل جول حرام ہے، اگرچہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں۔قال ﷲ تعالٰی: واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین o وقال تعالٰی : لا تجد قوما یومنون باﷲ و الیوم الاخر یوادون من حاد ﷲ و رسولہ ولو کانوا آبائہم او اخوانہم اوعشیرتہم۔ اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں،کما بیناہ فی المحجة الموتمنہ۔ *ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شک رکھتاہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلاشبہ خود کافر ہے۔فتاوٰی بزایہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا میں ہے :من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر*_ اوراگر ان کو یقینا کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگر چہ اس قدر سے کافر نہ ہوگا مگر فاسق ضرور ہے”(فتاوی رضویہ ج٩ نصف آخر ص ٣١١ ) واللہ تعالی اعلم۔ *(٢)* چوں کہ دیابنہ مرتد ہیں اورکسی مرتد میت کے لیے مسلمان کے طور طریقہ پر کفن دفن وغیرہ نہیں، اگر کوئی دفن کرنے والا نہ ہو تو مسلمان کو دفعِ عفونت کی نیت سے کسی گڈھے میں ڈال کر اوپر سے مٹی ڈال دینے کی اجازت ہے۔ کافر مردہ کے دفن وغیرہ امور سے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئےامام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “کافر دو قسم ہے : اصلی ومرتد۔ اصلی وہ کہ ابتداء سے کافر ہو۔ اور مرتد وہ کہ بعدِ اسلام کافر ہوا، یا باوصفِ دعوائے اسلام عقائدِ کفر رکھے ،جیسے آج کل نیچری۔ مرتد کے لیے تو اصلاً نہ غسل، نہ کفن، نہ دفن، نہ مسلمان کے ہاتھ سے کسی کافر کو دیا جائے اگر چہ وہ اسی کے مذہب کا ہو، اگر چہ اس کا باپ یا بیٹا ہو، بلکہ اس کا علاج وہی مردار کتے کی طرح دبادینا ہے۔ اور کافر اصلی سے اگر مسلمان کو قرابت نہیں توا س کے بھی کسی کام میں شریک نہ ہو، بلکہ چھوڑ دیا جائے کہ اس کا عزیز قریب یا مذہب والے جو چاہیں کریں، او ر وہ بھی نہ ہوں تو علاج، مثلِ علاجِ مرتد ہے۔ اور اگر مسلمان کو اس سے قرابتِ قریبہ ہے تاہم جب کوئی قریب کافر موجود ہو بہتر یہی ہے کہ اس کی تجہیز میں شرکت نہ کرے، ہاں ادائے حقِ قرابت کے لئے اگر ا سکے جنازہ کے ساتھ، جنازہ سے دور دور چلاجائے تو مضائقہ نہیں ۔ اور اگر مسلمان ہی قریب ہے ،کوئی کافر قرابت دار نہیں جب بھی مسلمان پر اس کی تجہیز و تکفین ضروری نہیں، اگر اس کے ہم مذہب کافروں کو دے دے یا بے غسل وکفن کسی گڑھے میں پھنکوادے ، جائز ہے۔ اور اگر بلحاظِ قرابت، غسل و کفن ودفن کرے تو بھی اجازت ہے، مگر کسی کام میں رعایت طریقہ مسنونہ نہ کرے، نجاست دھونے کی طرح پانی بہادے، کسی چیتھڑے میں لپیٹ کر تنگ گڑھے میں دبادے۔رب انی اعوذبک من الکفر والکافرین”(فتاوی رضویہ ج ۴ص ١١٣، ١١۴)   *مذکورہ بالا تفصیل* سے معلوم ہوا کہ اگر کسی نے دیوبندی کو اسلامی طور طریقہ پر مٹی دی تو خلافِ شرع کیا اور اگر دیوبندی کو مسلمان سمجھ کر مٹی دی تب تو یہ کفر ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ *کتبہ* محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٧/شوال المکرم ١۴۴٢ھ//٢٠/مئی٢٠٢١ء

Kutubahu & Verified by:

    <h2>دیوبندی کی نمازِ جنازہ پڑھنا اور مٹی دینا کیسا ہے؟</h2>     السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ١ ۔ دیوبندی کی نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے ، ٢ ۔ دیوبندی کی میت کی مٹی دینا کیسا ہے یہ جانتے ہوئے کہ یہ شخص دیوبندی ہے قرآن وحدیث اور اقوال ائمہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں فقط والسلام محمد نعمان رضا جمدا شاہی بستی   الجواب علمائے اہل سنت اپنی تصانیف میں واضح کرچکے کہ دیوبندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب کافر مرتد ہیں۔امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "دیوبندیہ کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا کہ وُہ مرتد ہیں۔اور شفائے قاضی عیاض وبزازیہ و مجمع الانہر ودُرمختار وغیرہا کے حوالے سے فرمایا:"من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر"(فتاوی رضویہ ج٣ ص٢٦۵)   *اور کافر کے لیے* دعائے مغفرت حرام ، بلکہ بعض علماء نے کفر تک کا قول اختیار کیا ہے، اگرچہ تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بلکہ حرام ہے۔امام اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "ردالمحتار میں ہے :الدعاء بہ کفر لعدم جوازہ عقلاً و لاشرعاً ولتکذیب النصوص القطعیۃ، بخلاف الدعاء للمؤمنین کما علمت فالحق ما فی الحلیِة" درمختار میں ہے:الحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر" اسی طرح بحرالرائق میں ہے_ *اقول* : ومانحا الیہ العلامۃ الشامی من عدم جواز عفو الکفر عقلا، فانما تبع فیہ الامام النسفی صاحب عمدۃ الکلام وشرذمۃ قلیلۃ من اھل السنۃ ، والجمھور علی امتناعہ شرعا وجوازہ عقلا کما فی شرح المقاصد و المسایرۃ وغیرھما وبہ تقتضی الدلائل *فہوالصحیح وعلیہ التعویل ،فاذن الحق ماذھب الیہ البحر،وتبعہ فی الدر۔وتمام الکلام فی ھذاالمقام فیما علقناہ علی ردالمحتار"* (فتاوی رضویہ ج٢٩ ص١۵۴، نسخہ دعوت اسلامی ایپ)   *ہاں!* اگر کسی نے دیوبندی کو مسلمان سمجھ کر نماز جنازہ پڑھی تو کافر کو مسلمان سمجھنے کی وجہ سے اس نے کفر کیا۔ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "وہابیہ وغیر مقلدین ودیوبندی ومرزائی وغیرہم فرقے آج کل سب کفار مرتدین ہیں، ان کے پاس نشست وبرخاست حرام ہے، ان سے میل جول حرام ہے، اگرچہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں۔قال ﷲ تعالٰی: واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین o وقال تعالٰی : لا تجد قوما یومنون باﷲ و الیوم الاخر یوادون من حاد ﷲ و رسولہ ولو کانوا آبائہم او اخوانہم اوعشیرتہم۔ اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں،کما بیناہ فی المحجة الموتمنہ۔ *ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شک رکھتاہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلاشبہ خود کافر ہے۔فتاوٰی بزایہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا میں ہے :من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر*_ اوراگر ان کو یقینا کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگر چہ اس قدر سے کافر نہ ہوگا مگر فاسق ضرور ہے"(فتاوی رضویہ ج٩ نصف آخر ص ٣١١ ) واللہ تعالی اعلم۔ *(٢)* چوں کہ دیابنہ مرتد ہیں اورکسی مرتد میت کے لیے مسلمان کے طور طریقہ پر کفن دفن وغیرہ نہیں، اگر کوئی دفن کرنے والا نہ ہو تو مسلمان کو دفعِ عفونت کی نیت سے کسی گڈھے میں ڈال کر اوپر سے مٹی ڈال دینے کی اجازت ہے۔ کافر مردہ کے دفن وغیرہ امور سے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئےامام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "کافر دو قسم ہے : اصلی ومرتد۔ اصلی وہ کہ ابتداء سے کافر ہو۔ اور مرتد وہ کہ بعدِ اسلام کافر ہوا، یا باوصفِ دعوائے اسلام عقائدِ کفر رکھے ،جیسے آج کل نیچری۔ مرتد کے لیے تو اصلاً نہ غسل، نہ کفن، نہ دفن، نہ مسلمان کے ہاتھ سے کسی کافر کو دیا جائے اگر چہ وہ اسی کے مذہب کا ہو، اگر چہ اس کا باپ یا بیٹا ہو، بلکہ اس کا علاج وہی مردار کتے کی طرح دبادینا ہے۔ اور کافر اصلی سے اگر مسلمان کو قرابت نہیں توا س کے بھی کسی کام میں شریک نہ ہو، بلکہ چھوڑ دیا جائے کہ اس کا عزیز قریب یا مذہب والے جو چاہیں کریں، او ر وہ بھی نہ ہوں تو علاج، مثلِ علاجِ مرتد ہے۔ اور اگر مسلمان کو اس سے قرابتِ قریبہ ہے تاہم جب کوئی قریب کافر موجود ہو بہتر یہی ہے کہ اس کی تجہیز میں شرکت نہ کرے، ہاں ادائے حقِ قرابت کے لئے اگر ا سکے جنازہ کے ساتھ، جنازہ سے دور دور چلاجائے تو مضائقہ نہیں ۔ اور اگر مسلمان ہی قریب ہے ،کوئی کافر قرابت دار نہیں جب بھی مسلمان پر اس کی تجہیز و تکفین ضروری نہیں، اگر اس کے ہم مذہب کافروں کو دے دے یا بے غسل وکفن کسی گڑھے میں پھنکوادے ، جائز ہے۔ اور اگر بلحاظِ قرابت، غسل و کفن ودفن کرے تو بھی اجازت ہے، مگر کسی کام میں رعایت طریقہ مسنونہ نہ کرے، نجاست دھونے کی طرح پانی بہادے، کسی چیتھڑے میں لپیٹ کر تنگ گڑھے میں دبادے۔رب انی اعوذبک من الکفر والکافرین"(فتاوی رضویہ ج ۴ص ١١٣، ١١۴)   *مذکورہ بالا تفصیل* سے معلوم ہوا کہ اگر کسی نے دیوبندی کو اسلامی طور طریقہ پر مٹی دی تو خلافِ شرع کیا اور اگر دیوبندی کو مسلمان سمجھ کر مٹی دی تب تو یہ کفر ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ *کتبہ* محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٧/شوال المکرم ١۴۴٢ھ//٢٠/مئی٢٠٢١ء

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...