Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1204 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7K Views

دف بجانا کیسا ہے؟ کیا اسلام میں دف بجانے کی اجازت ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

دف بجانا کیسا ہے؟ کیا اسلام میں دف بجانے کی اجازت ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

دف بجانا کیسا ہے؟ کیا اسلام میں دف بجانے کی اجازت ہے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں دف بجانا کیسا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔ محمد سلمان فارسی دیوریا یو پی  الجواب بتوفیق الملک الوہاب صورت مسئولہ میں دف بجانا جائز ہے۔ اگر دف کے ساتھ جھانج نہ ہو تو دف بجانے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ ہے اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو تو اجازت نہیں، ١) پہلی شرط یہ ہے کہ ہیئت تطرب پر نہ بجایا جائے یعنی قواعد موسیقی کی رعایت نہ کی جائے، ٢) دوسری شرط یہ ہے کہ بجانے والے مرد نہ ہوں کہ ان کے لئے دف بجانا مطلقا مکروہ ہے۔ ٣) تیسری شرط یہ ہے کہ بجانے والی عزت دار بیبیاں نہ ہوں اور جو بچیاں وغیرہ بجائیں وہ بھی غیر محل فتنہ میں بجائیں تو جائز ہے ۔ فتاوی مصطفویہ میں ہے۔ ہرگز نہ چاہیٔے ظاہر ہے کہ یہ سخت سوءادب ہے۔ اور اگر جھا نجھ بھی ہوں، یا اس طرح بجایا جائے کہ گت پیدا ہو فن کے قواعد پر جب تو حرام اشد حرام ہے۔ حرام در حرام ہے۔ (الفتاوی المصطفوئۃ ،ص،٤٤٨) فتاوی امجدیہ میں ہے۔ بغیر جھانجھ کا دف بجا نا بھی جائز ہے جب کہ قواعد موسیقی پر بجایا نہ جائے لاباس بالدف فی العرس یشتھر فی السراجیۃ ھذا اذا لم یکن لہ جلاجل و لایضرب علی ھیئۃ التطرب، دف کے علا وہ اور باجے حرام ہیں، (فتاوی امجدیہ کتاب النکاح ج،دوم،ص،١١) اور فتاوی رضویہ میں ہے۔ دف کہ بے جلاجل یعنی بغیر جھانجھ کا ہو اور تال سم کی رعایت سے نہ بجایا جائے اور بجانے والے نہ مرد ہوں نہ ذی عزت عورتیں،بلکہ کنیزیں یا ایسی کم حئثیت عورتیں اور وہ غیر محل فتنہ میں بجائیں تو نہ صرف جائز بلکہ مستحب و مندوب ہے ۔ “للامر بہ فی الحدیث والقیود مذکورۃ فی رد المحتار وغیرہ شرحناحا” حدیث میں مشروط دف کے بجانے کا حکم دیا گیا اور اسکی تمام قیود کو فتاوی شامی وغیرہ میں ذکر کر دیا گیا اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسکی تشریح کر دی ہے ۔ (فتاوی رضویہ رضا فاؤنڈیشن نظامیہ لاہور،ج،٢١ ص،٦٤٢) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>دف بجانا کیسا ہے؟ کیا اسلام میں دف بجانے کی اجازت ہے ؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں دف بجانا کیسا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔ محمد سلمان فارسی دیوریا یو پی <span style="color: #ff0000;"><strong> الجواب بتوفیق الملک الوہاب</strong></span> صورت مسئولہ میں دف بجانا جائز ہے۔ اگر دف کے ساتھ جھانج نہ ہو تو دف بجانے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ ہے اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو تو اجازت نہیں، ١) پہلی شرط یہ ہے کہ ہیئت تطرب پر نہ بجایا جائے یعنی قواعد موسیقی کی رعایت نہ کی جائے، ٢) دوسری شرط یہ ہے کہ بجانے والے مرد نہ ہوں کہ ان کے لئے دف بجانا مطلقا مکروہ ہے۔ ٣) تیسری شرط یہ ہے کہ بجانے والی عزت دار بیبیاں نہ ہوں اور جو بچیاں وغیرہ بجائیں وہ بھی غیر محل فتنہ میں بجائیں تو جائز ہے ۔ فتاوی مصطفویہ میں ہے۔ ہرگز نہ چاہیٔے ظاہر ہے کہ یہ سخت سوءادب ہے۔ اور اگر جھا نجھ بھی ہوں، یا اس طرح بجایا جائے کہ گت پیدا ہو فن کے قواعد پر جب تو حرام اشد حرام ہے۔ حرام در حرام ہے۔ (الفتاوی المصطفوئۃ ،ص،٤٤٨) فتاوی امجدیہ میں ہے۔ بغیر جھانجھ کا دف بجا نا بھی جائز ہے جب کہ قواعد موسیقی پر بجایا نہ جائے لاباس بالدف فی العرس یشتھر فی السراجیۃ ھذا اذا لم یکن لہ جلاجل و لایضرب علی ھیئۃ التطرب، دف کے علا وہ اور باجے حرام ہیں، (فتاوی امجدیہ کتاب النکاح ج،دوم،ص،١١) اور فتاوی رضویہ میں ہے۔ دف کہ بے جلاجل یعنی بغیر جھانجھ کا ہو اور تال سم کی رعایت سے نہ بجایا جائے اور بجانے والے نہ مرد ہوں نہ ذی عزت عورتیں،بلکہ کنیزیں یا ایسی کم حئثیت عورتیں اور وہ غیر محل فتنہ میں بجائیں تو نہ صرف جائز بلکہ مستحب و مندوب ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>"للامر بہ فی الحدیث والقیود مذکورۃ فی رد المحتار وغیرہ شرحناحا"</strong></span> حدیث میں مشروط دف کے بجانے کا حکم دیا گیا اور اسکی تمام قیود کو فتاوی شامی وغیرہ میں ذکر کر دیا گیا اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسکی تشریح کر دی ہے ۔ (فتاوی رضویہ رضا فاؤنڈیشن نظامیہ لاہور،ج،٢١ ص،٦٤٢) واللہ تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...