Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1209
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.8K Views
ایک سانس میں دونوں طرف سلام پھیرنا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ایک سانس میں دونوں طرف سلام پھیرنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ایک سانس میں دونوں طرف سلام پھیرنا کیسا ہے؟
سوال : کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک سانس میں دونوں طرف سلام پھیرنا کیساہے؟بحوالہ جواب عنایت فرمائیں. المستفتی:۔ محمد ہارون گائیڈیہ الجواب بعون الملک الوہاب صورت مسئولہ میں حکم یہ ہےکہ جس طرح دو تنفس کے ساتھ نماز میں سلام پھیرناصحیح ہے ٹھیک اسی طرح ایک تنفس کے ساتھ بھی صحیح ہے بشرطےکہ مقتدیوں پرایک تنفس سے ایک سلام کا اشتباہ نہ ہو۔وجہ یہ ہے کہ اول سلام میں صرف “السلام”کہنے سے ہی نماز اداکرنے والا نماز سے بصنعہ باہر ہوجاتا ہے۔اس کاخروج “علیکم” کہنے پر موقوف نہیں رہتا۔ اب مصلی اس کےبعد ایک سانس سے دونوں سلام پورا کرے یا دوسانس سے شرعاً کچھ حرج نہیں۔ فتح القدیریرمع ہدایہ میں ہے”والامام ینوی بالتسلیمتین” وبمجردلفظ السلام یخرج ولایتوقف علیٰ “علیکم”۔ (فتح القدیر مع ہدایہ جلد اول صفحہ ۱۲۸ مطبع نول کشور لکھنؤ) مندرجہ بالا عبارت کی روشنی میں سلام دونوں جانب پھیرنے کا حکم ہے خواہ دوسانس سے ہو یا ایک سانس سے ۔البتہ دو سانس سے ہونا افضل ہے کہ اس میں رفع اشتباہ ہے۔ ھٰذا ماعندی والعلم عند ربی ۔ کتبــــہ:مفتی منظو عالم قادری، استاذ دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ،میگھولی کلاں مہراجگنج یو پی انڈیا۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>ایک سانس میں دونوں طرف سلام پھیرنا کیسا ہے؟</h2> سوال : کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک سانس میں دونوں طرف سلام پھیرنا کیساہے؟بحوالہ جواب عنایت فرمائیں. المستفتی:۔ محمد ہارون گائیڈیہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوہاب</strong></span> صورت مسئولہ میں حکم یہ ہےکہ جس طرح دو تنفس کے ساتھ نماز میں سلام پھیرناصحیح ہے ٹھیک اسی طرح ایک تنفس کے ساتھ بھی صحیح ہے بشرطےکہ مقتدیوں پرایک تنفس سے ایک سلام کا اشتباہ نہ ہو۔وجہ یہ ہے کہ اول سلام میں صرف "السلام"کہنے سے ہی نماز اداکرنے والا نماز سے بصنعہ باہر ہوجاتا ہے۔اس کاخروج "علیکم" کہنے پر موقوف نہیں رہتا۔ اب مصلی اس کےبعد ایک سانس سے دونوں سلام پورا کرے یا دوسانس سے شرعاً کچھ حرج نہیں۔ <strong><span style="color: #ff0000;">فتح القدیریرمع ہدایہ میں ہے"والامام ینوی بالتسلیمتین" وبمجردلفظ السلام یخرج ولایتوقف علیٰ "علیکم"۔</span></strong> (فتح القدیر مع ہدایہ جلد اول صفحہ ۱۲۸ مطبع نول کشور لکھنؤ) مندرجہ بالا عبارت کی روشنی میں سلام دونوں جانب پھیرنے کا حکم ہے خواہ دوسانس سے ہو یا ایک سانس سے ۔البتہ دو سانس سے ہونا افضل ہے کہ اس میں رفع اشتباہ ہے۔ ھٰذا ماعندی والعلم عند ربی ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــہ:مفتی منظو عالم قادری، استاذ دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>چھتونہ،میگھولی کلاں مہراجگنج یو پی انڈیا۔</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...