Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟

جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟
Reference 1210 September 18, 2025 7,893 views
اصل سوالجو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟

جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟

سوال :بعد سلام عرض یہ ہے کہ جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟ سائل:- شفیق بہرائچی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسؤلہ میں فاسق کو اذان پڑھنا درست نہیں ہے اگر پڑھے تو اس کی اذان کا اعادہ کیا جائے (یعنی دوبارہ اذان پڑھی جائیگی) مذہب حنفی میں ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے اس سے کم رکھنا ناجائز و حرام ہے. اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں: داڑھی حد مقرر شرع سے کم نہ کرانا واجب ۔ اور حضور سرور عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور انبیاء علہیم الصلوٰۃ والسلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے اور اس کا خلاف ممنوع وحرام اور کفار کا شعارہے۔ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ ۔ یعنی دس چیزیں سنت قدیم انبیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ہیں ان سے مونچھیں کم کرانا اور داڑھی الحدیث،رواہ مسلم ۔ حد شرع تک چھوڑدینا(اس کو مسلم نے روایت کیا) شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ ﷲ تعالٰی شرح میں فرماتے ہیں: حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج وہنود وجوالقیان کہ ایشاں راقلندریہ نیز گویند وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآں کہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دردین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت ست چنانکہ نماز عیدرا سنت گفتہ اند داڑھی منڈانا حرام ہے،یہ افرنگیوں،ہندؤوں اور جوالقیوں کا طریقہ ہے جو قلندریہ بھی کہلاتے ہیں۔اور داڑھی بمقدار ایک مٹھی چھوڑنا واجب ہے اور داڑھی کے متعلق جو کہا جاتاہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین میں ایک جاری طریقہ ہے یا یہ وجہ ہے کہ اس کا ثبوت سنت کے ساتھ ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہتے ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ج،٢٢ ص، ٥٨٢) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ایک مشت سے کم داڑھی کاٹنا حرام و فسق ہے اور فاسق کی اذان کا اعادہ کیا جائے گا۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں خنثی و فاسق اگرچہ عالم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچے اور جنب کی اذان مکروہ ہے، ان سب کی اذان کا اعادہ کیا جائے۔ (درمختار) (بہار شریعت ج 1 ح 3 اذان کا بیان مسئلہ نمبر 15) لیکن اقامت کا اعادہ نہیں کیا جائے گا کہ اس میں تکرار نہیں ہے ۔ کتبــــــــہ : مفتی منظور عالم قادری صاحب زید مجدہ

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.