Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1215 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.5K Views

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی لڑکی سے کرنا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی لڑکی سے کرنا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی لڑکی سے کرنا کیسا ہے؟

سوال : علمائے کرام کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی شادی پہلے زید کے ساتھ ہوئی تھی بعد میں زید نے ہندہ کو طلاق دے دیا اور زید نے اپنی دوسری شادی کرلی اور ہندہ نے بکر کے ساتھ نکاح کر لیا. اب بکر سے لڑکی پیدا ہوئی زید نے طلاق دینے کے بعد جب دوسری شادی کی تو اسے لڑکا پیدا ہوا اب ایسی حالت میں کیا ہندہ اپنی لڑکی کی شادی زید کے لڑکا ساتھ کر سکتی ہے یا نہیں؟ اور لڑکی لڑکا دونوں راضی ہیں اور دونوں کے ایمان و اعمال برباد ہونے کا خطرہ ہے ایسی حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے مع حوالہ تحریر فرمائیں عین نوازش ہوگی. الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہندہ کی لڑکی کی شادی زید کے لڑکے کے ساتھ کرنا جائز ہے جبکہ رضاعت وغیرہ کوئی دوسری چیز مانع نکاح نہ ہو کیونکہ زید کے مطلقہ ہندہ کی وہ اولاد جو زید سے نہیں بلکہ کسی دوسرے شوہر سے ہے اس کا نکاح زید کی دوسری بیوی کی اولاد سے کرنے میں شرعاً کوئی خرابی نہیں ہے. فتاویٰ عالمگیری میں ہے ” الاخ لاب اذا کانت لہ اخت من امہ یحل لاخیہ من ابیہ ان یتزوجھا کذا فی الکافی ” (جلد ١ صفحہ ٣٤٣ کتاب الرضاع) اسی طرح فتاوی فیض الرسول جلد 1 صفحہ 571 پر بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی علیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی لڑکی سے کرنا کیسا ہے؟</h2> سوال : علمائے کرام کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی شادی پہلے زید کے ساتھ ہوئی تھی بعد میں زید نے ہندہ کو طلاق دے دیا اور زید نے اپنی دوسری شادی کرلی اور ہندہ نے بکر کے ساتھ نکاح کر لیا. اب بکر سے لڑکی پیدا ہوئی زید نے طلاق دینے کے بعد جب دوسری شادی کی تو اسے لڑکا پیدا ہوا اب ایسی حالت میں کیا ہندہ اپنی لڑکی کی شادی زید کے لڑکا ساتھ کر سکتی ہے یا نہیں؟ اور لڑکی لڑکا دونوں راضی ہیں اور دونوں کے ایمان و اعمال برباد ہونے کا خطرہ ہے ایسی حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے مع حوالہ تحریر فرمائیں عین نوازش ہوگی. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ہندہ کی لڑکی کی شادی زید کے لڑکے کے ساتھ کرنا جائز ہے جبکہ رضاعت وغیرہ کوئی دوسری چیز مانع نکاح نہ ہو کیونکہ زید کے مطلقہ ہندہ کی وہ اولاد جو زید سے نہیں بلکہ کسی دوسرے شوہر سے ہے اس کا نکاح زید کی دوسری بیوی کی اولاد سے کرنے میں شرعاً کوئی خرابی نہیں ہے. فتاویٰ عالمگیری میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' الاخ لاب اذا کانت لہ اخت من امہ یحل لاخیہ من ابیہ ان یتزوجھا کذا فی الکافی ''</strong></span> (جلد ١ صفحہ ٣٤٣ کتاب الرضاع) اسی طرح فتاوی فیض الرسول جلد 1 صفحہ 571 پر بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی علیمی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...