Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1217 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.7K Views

ایک بیوی کی لڑکی کا نکاح دوسری بیوی کے لڑکے سے درست ہے یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ایک بیوی کی لڑکی کا نکاح دوسری بیوی کے لڑکے سے درست ہے یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ایک بیوی کی لڑکی کا نکاح دوسری بیوی کے لڑکے سے درست ہے یا نہیں؟

سوال : زید کی بیوی کا انتقال ہونے کے بعد اس نے دوسری شادی یعنی نکاح بیوہ ہندسے کر لیا. پہلی بیوی سے ایک لڑکا تھا اتفاقاً ہندہ کو بھی پہلے شوہر سے ایک لڑکی تھی جو نانا نانی کے یہاں پل بڑھ کر جوان ہوئی اور انہیں کی کفالت میں ہے کیا یہ جائز ہے کہ زید کی پہلی بیوی کے لڑکے سے ہندہ کے پہلے شوہر کی لڑکی سے نکاح کیا جائے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــــــ زید کی پہلی بیوی کے لڑکے کے ساتھ ہندہ کے پہلے شوہر کے لڑکی سے نکاح جائز ہے یہ دونوں شرعاً اجنبی ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماں باپ الگ الگ ہیں تو ان کے درمیان کوئی رشتہ نسبی یا رضاعی نہیں. فتاوی ہندیہ میں ہے ” لا باس ان یتزوج الرجل امراۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا او امھا کذا فی محیط السرخسی ۔ جلد 1 صفحہ 277 ۔ واللہ تعالی عالم کتبہ : مفتی محمد شمیم مصباحی الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>ایک بیوی کی لڑکی کا نکاح دوسری بیوی کے لڑکے سے درست ہے یا نہیں؟</h2> سوال : زید کی بیوی کا انتقال ہونے کے بعد اس نے دوسری شادی یعنی نکاح بیوہ ہندسے کر لیا. پہلی بیوی سے ایک لڑکا تھا اتفاقاً ہندہ کو بھی پہلے شوہر سے ایک لڑکی تھی جو نانا نانی کے یہاں پل بڑھ کر جوان ہوئی اور انہیں کی کفالت میں ہے کیا یہ جائز ہے کہ زید کی پہلی بیوی کے لڑکے سے ہندہ کے پہلے شوہر کی لڑکی سے نکاح کیا جائے؟ بینوا و توجروا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــ</strong></span> زید کی پہلی بیوی کے لڑکے کے ساتھ ہندہ کے پہلے شوہر کے لڑکی سے <a href="https://masailworld.com/nikah-ke-masail-4/"><strong>نکاح</strong> </a>جائز ہے یہ دونوں شرعاً اجنبی ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماں باپ الگ الگ ہیں تو ان کے درمیان کوئی رشتہ نسبی یا رضاعی نہیں. فتاوی ہندیہ میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong> '' لا باس ان یتزوج الرجل امراۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا او امھا کذا فی محیط السرخسی ۔</strong></span> جلد 1 صفحہ 277 ۔ واللہ تعالی عالم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد شمیم مصباحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...