Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1221
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.2K Views
رسول پاک کا نام سن کر انگوٹھا چومنا کہاں سے ثابت ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
رسول پاک کا نام سن کر انگوٹھا چومنا کہاں سے ثابت ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
رسول پاک کا نام سن کر انگوٹھا چومنا کہاں سے ثابت ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ رسول پاک کا نام سن کر انگوٹھا چومنا کہاں سے ثابت ہے؟ سائل : عبد الرزاق قادری الجواب بتوفیق الملک الوھاب صورت مسئولہ میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم وجہ تخلیق کائنات ہیں فرش گیتی پر ان کی تشریف آوری تمام مخلوقات کے لئے نعمت اور سب سے بڑا احسان عظیم ہے ۔ ان کی محبت ہر انسان پر لازم ہے کہ محبت کے ساتھ اپنے محسن اعظم کا نام پاک سن کر اپنے انگوٹھے کے ناخن کو چوم کر آنکھوں سے لگانا اپنے آقا سے سچی محبت و عقیدت عشق و الفت کی روشن دلیل ہے اور یہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کریمہ ہے ۔ جیسا کہ علامہ شیخ اسمٰعیل حقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تفسیر روح البیان میں تحریر فرمایا۔ کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت کے اندر نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شوق ہوا تو رب تعالی نے وحی بھیجی کہ وہ تمہارے پشت سے آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے تو حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا کہ ان سے ملاقات کرا دے تو اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں انگوٹھوں کے ناخن میں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال مثل آئینہ ظاہر فرمایا حضرت آدم علیہ السلام نے جب جمال مصطفی کی زیارت کی تو محبت سے انگوٹھوں کے ناخن کو چوم کر آنکھوں پر رکھ لیا۔ (تفسیر روح البیان ج٤،،ص٦٤٩) اسی طرح تفسیر مذکور میں حضرت اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور ایک ستون کے قریب تشریف فرما ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بھی برابر میں بیٹھ گئے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ اٹھے اور اذان پڑھنا شروع کیا جب انہوں نے “اشھد ان محمد رسول اللہ” کہا، تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دونوں انگوٹھوں کے ناخن کو اپنی آنکھوں پر رکھ کر چوم لیا اور کہا “قرۃ عینی بک یا رسول اللہ” (اےاللہ کے رسول آپ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں) حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ اذان سے فارغ ہوئے تو سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر جو شخص تیری طرح کرے گا اللہ تعالی اس کے نئے پرانے گناہوں کو معاف فرما دے گا خواہ وہ سہوا ہوں یا عمدا۔ ان دونوں تفسیروں سے معلوم ہوا کہ نام پاک سن کر دونوں انگوٹھوں کو آنکھوں پر چوم کے رکھنا ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت صدیق اکبر کی سنت ہے نام پاک سن کر انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگانا دنیاوی فائدہ بھی ہے اور اخروی بھی۔ (١) سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نام پاک کو سن کر انگوٹھے کو آنکھوں سے لگا کر چومنے والے کو سرکار دو عالم صلی اللہ وسلم اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے۔ جیسا کہ فقہ کی مشہور و معروف کتاب ردالمحتار معروف بہ شامی حاشیہ علی الدر المختار میں علامہ محمد امین بن عابدین شامی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں! جو شخص پہلی بار “اشھد ان محمد رسول اللہ” سن کر صلی اللہ علیک یا رسول اللہ کہے اور دوسری بار“قرۃ عینی بک یا رسول اللہ” کہے پھر اپنے انگوٹھے کے ناخن چوم کر آنکھوں پر رکھ کر کہے“اللھم متعنی بالسمع والبصر” تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے (رد المحتار ج١ ،٢٩٣) (٢) اللہ تعالی اور اس کے پیارے رسول سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا حاصل ہوگی جو سب سے بڑی نعمت ہے ۔ (٣) خطائیں معاف ہو جائیں گی اور گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (٤) حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کی ادائیگی ہوگی۔ (٥) بروز محشر سرکار دو عالم شفیع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی چنانچہ علامہ امام شمس الدین سخاوی علیہ الرحمۃ والرضوان دیلمی کے حوالے سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل فرماتے ہیں! لما سمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول اللہ قال ھذا وقبل باطن الانملتین السبابتین ومسح علی عینہ فقال صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من فعل مثل مافعل خلیلی فقد حلت لہ شفاعتی! حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب مؤذن کو “اشھد ان محمد رسول اللہ” کہتے سنا تو یہی کہا اور اپنی انگشتان شہادت کے اندرونی حصے کو چوم کر آنکھوں سے لگایا تو سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس طرح کرے گا جیسا کہ میرے خلیل (ابو بکر) نے کیا تو اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوگی۔ ممکن ہے کہ جائز نہ ماننے والے مثلا وہابی دیوبندی وغیرہم یہ کہہ کر سارے دلائل سے چشم پوشی کرنے کی کوشش کریں اور لوگوں کو بہکانے میں لگ جائیں اور یہ کہیں یہ روایت ضعیف ہے تو اس کے جواب کے لیے یہ کافی ہے کہ سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو سن کر انگوٹھے چومنا فضائل اعمال میں سے ہے اور فضائل اعمال کے ثبوت کے لئے حدیث ضعیف بھی بالاجماع مقبول و معمول ہے اس میں کسی کا انکار نہیں۔ حضرت علامہ ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! جب انگوٹھے چومنے کی حدیث حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سےمرفوعا ثابت ہے توعمل کے لیے کافی ہے۔ لہذا یہ ثابت ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک سن کر انگوٹھوں کو چومنا اور آنکھوں پر رکھنا جائز و درست ہے بلکہ باعث برکت اور جنت میں جانے کا ذریعہ ہے اورحضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت مبارکہ بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>رسول پاک کا نام سن کر انگوٹھا چومنا کہاں سے ثابت ہے؟</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ رسول پاک کا نام سن کر انگوٹھا چومنا کہاں سے ثابت ہے؟ سائل : عبد الرزاق قادری <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بتوفیق الملک الوھاب</strong></span> صورت مسئولہ میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم وجہ تخلیق کائنات ہیں فرش گیتی پر ان کی تشریف آوری تمام مخلوقات کے لئے نعمت اور سب سے بڑا احسان عظیم ہے ۔ ان کی محبت ہر انسان پر لازم ہے کہ محبت کے ساتھ اپنے محسن اعظم کا نام پاک سن کر اپنے انگوٹھے کے ناخن کو چوم کر آنکھوں سے لگانا اپنے آقا سے سچی محبت و عقیدت عشق و الفت کی روشن دلیل ہے اور یہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کریمہ ہے ۔ جیسا کہ علامہ شیخ اسمٰعیل حقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تفسیر روح البیان میں تحریر فرمایا۔ کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت کے اندر نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شوق ہوا تو رب تعالی نے وحی بھیجی کہ وہ تمہارے پشت سے آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے تو حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا کہ ان سے ملاقات کرا دے تو اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں انگوٹھوں کے ناخن میں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال مثل آئینہ ظاہر فرمایا حضرت آدم علیہ السلام نے جب جمال مصطفی کی زیارت کی تو محبت سے انگوٹھوں کے ناخن کو چوم کر آنکھوں پر رکھ لیا۔ (تفسیر روح البیان ج٤،،ص٦٤٩) اسی طرح تفسیر مذکور میں حضرت اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور ایک ستون کے قریب تشریف فرما ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بھی برابر میں بیٹھ گئے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ اٹھے اور اذان پڑھنا شروع کیا جب انہوں نے "اشھد ان محمد رسول اللہ" کہا، تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دونوں انگوٹھوں کے ناخن کو اپنی آنکھوں پر رکھ کر چوم لیا اور کہا "قرۃ عینی بک یا رسول اللہ" (اےاللہ کے رسول آپ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں) حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ اذان سے فارغ ہوئے تو سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر جو شخص تیری طرح کرے گا اللہ تعالی اس کے نئے پرانے گناہوں کو معاف فرما دے گا خواہ وہ سہوا ہوں یا عمدا۔ ان دونوں تفسیروں سے معلوم ہوا کہ نام پاک سن کر دونوں انگوٹھوں کو آنکھوں پر چوم کے رکھنا ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت صدیق اکبر کی سنت ہے نام پاک سن کر انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگانا دنیاوی فائدہ بھی ہے اور اخروی بھی۔ (١) سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نام پاک کو سن کر انگوٹھے کو آنکھوں سے لگا کر چومنے والے کو سرکار دو عالم صلی اللہ وسلم اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے۔ جیسا کہ فقہ کی مشہور و معروف کتاب ردالمحتار معروف بہ شامی حاشیہ علی الدر المختار میں علامہ محمد امین بن عابدین شامی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں! جو شخص پہلی بار "اشھد ان محمد رسول اللہ" سن کر صلی اللہ علیک یا رسول اللہ کہے اور دوسری بار<span style="color: #ff0000;"><strong>"قرۃ عینی بک یا رسول اللہ"</strong></span> کہے پھر اپنے انگوٹھے کے ناخن چوم کر آنکھوں پر رکھ کر کہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"اللھم متعنی بالسمع والبصر"</strong></span> تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے (رد المحتار ج١ ،٢٩٣) (٢) اللہ تعالی اور اس کے پیارے رسول سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا حاصل ہوگی جو سب سے بڑی نعمت ہے ۔ (٣) خطائیں معاف ہو جائیں گی اور گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (٤) حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کی ادائیگی ہوگی۔ (٥) بروز محشر سرکار دو عالم شفیع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی چنانچہ علامہ امام شمس الدین سخاوی علیہ الرحمۃ والرضوان دیلمی کے حوالے سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل فرماتے ہیں! <span style="color: #ff0000;"><strong>لما سمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول اللہ قال ھذا وقبل باطن الانملتین السبابتین ومسح علی عینہ فقال صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من فعل مثل مافعل خلیلی فقد حلت لہ شفاعتی!</strong></span> حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب مؤذن کو "اشھد ان محمد رسول اللہ" کہتے سنا تو یہی کہا اور اپنی انگشتان شہادت کے اندرونی حصے کو چوم کر آنکھوں سے لگایا تو سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس طرح کرے گا جیسا کہ میرے خلیل (ابو بکر) نے کیا تو اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوگی۔ ممکن ہے کہ جائز نہ ماننے والے مثلا وہابی دیوبندی وغیرہم یہ کہہ کر سارے دلائل سے چشم پوشی کرنے کی کوشش کریں اور لوگوں کو بہکانے میں لگ جائیں اور یہ کہیں یہ روایت ضعیف ہے تو اس کے جواب کے لیے یہ کافی ہے کہ سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو سن کر انگوٹھے چومنا فضائل اعمال میں سے ہے اور فضائل اعمال کے ثبوت کے لئے حدیث ضعیف بھی بالاجماع مقبول و معمول ہے اس میں کسی کا انکار نہیں۔ حضرت علامہ ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! جب انگوٹھے چومنے کی حدیث حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سےمرفوعا ثابت ہے توعمل کے لیے کافی ہے۔ لہذا یہ ثابت ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک سن کر انگوٹھوں کو چومنا اور آنکھوں پر رکھنا جائز و درست ہے بلکہ باعث برکت اور جنت میں جانے کا ذریعہ ہے اورحضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت مبارکہ بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...