Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1224
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.5K Views
مائک میں تلاوت کی اواز آئے تو کام چھوڑ کر سننا ضروری ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مائک میں تلاوت کی اواز آئے تو کام چھوڑ کر سننا ضروری ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مائک میں تلاوت کی اواز آئے تو کام چھوڑ کر سننا ضروری ہے ؟
السوال :- آپ علمائے کرام و مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے؟ قرآن مجید مکان کے اندر لاؤڈ اسپیکر میں تلاوت ہو سننے والے پاس میں سنے یہ تو ثواب اور نیک کام ہے– لیکن وہ آواز پورے گاؤں میں سنائی دے اور آبادی کے حساب سے نا سننے والوں کی تعداد زیادہ ہو اور سننے والوں کی تعداد بہت کم ہو اور انہی کم تعداد والوں کا حکم ہو کہ لاؤڈ اسپیکر میں پڑھی جاۓ تاکہ گھر سے باآسانی سن سکیں؟علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے پر رہنمائی فرمائیں ! جزاك الله خيراً ۔ السائل_:عارف حسين برکاتی ۔ نچلول، مہراجگنج، یوپی۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بتوفیق الملک الوھاب قرآن مجید کی تلاوت آواز سےکرنابہترہےمگر اتنی آواز سے کہ کسی کے کام کاج میں خلل ہو یاتلاوت قرآن سننے کے لۓ بوجہ شغل ہمہ تن گوش نہ ہو سکےگا تو ان صورتوں میں آہستہ پڑھنے کا حکم ہے۔تاہم لا ؤڈ اسپیکر سے آواز کو اونچی کرنےاور دور تک پہونچانےکا کام لیا جاتا ہے اس لۓ اس آبادی کے کچھ فارغ لوگوں کےقرآن کریم کی آیت پرکان دھرنے سے “فاستمعوا” کے وجوب پرعمل ہو جاۓگا۔ اور اس کاادب و وقار بھی ملحوظ رہےگا،باقی لوگ بوجہ شغل کاربے ادب وگنہ گار نہ ہونگے۔ امام اہل سنت اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں قرآن مجید کی تلاوت آواز سے کرنابہترہےمگرنہ اتنی آواز کہ اپنےآپ کوتکلیف یاکسی نمازی یا ذاکرکےکام میں خلل ہو یا کسی جائزنیند سونے والے کی نیند میں خلل آۓ یاکسی بیمارکو تکلیف پہونچےیا بازار کا سرایا عام سڑک ہو یا لوگ اپنےکام کاج میں مشغول ہیں اور کوئی سننے کے لۓ حاضر نہ رہےگا ان صورتوں میں آہستہ ہی پڑھنےکا حکم ہے ۔ لہذا لاؤڈاسپیکر سے سنی جانے والی قرأت قرآن کی سماعت فارغ از کار لوگوں نے کرلی تو یہ سننا جائز ہوگا۔ اور باقی کا بوجہ حاجت نہ سننا باعث گناہ نہ ہوگا ۔ (فتاوی رضویہ ج دہم نصف آخرص١٣٣) واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبـــــــہ : مفتی منظورالقادری،خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>مائک میں تلاوت کی اواز آئے تو کام چھوڑ کر سننا ضروری ہے ؟</h2> السوال :- آپ علمائے کرام و مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے؟ قرآن مجید مکان کے اندر لاؤڈ اسپیکر میں تلاوت ہو سننے والے پاس میں سنے یہ تو ثواب اور نیک کام ہے-- لیکن وہ آواز پورے گاؤں میں سنائی دے اور آبادی کے حساب سے نا سننے والوں کی تعداد زیادہ ہو اور سننے والوں کی تعداد بہت کم ہو اور انہی کم تعداد والوں کا حکم ہو کہ لاؤڈ اسپیکر میں پڑھی جاۓ تاکہ گھر سے باآسانی سن سکیں؟علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے پر رہنمائی فرمائیں ! جزاك الله خيراً ۔ السائل_:عارف حسين برکاتی ۔ نچلول، مہراجگنج، یوپی۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بتوفیق الملک الوھاب</strong></span> قرآن مجید کی تلاوت آواز سےکرنابہترہےمگر اتنی آواز سے کہ کسی کے کام کاج میں خلل ہو یاتلاوت قرآن سننے کے لۓ بوجہ شغل ہمہ تن گوش نہ ہو سکےگا تو ان صورتوں میں آہستہ پڑھنے کا حکم ہے۔تاہم لا ؤڈ اسپیکر سے آواز کو اونچی کرنےاور دور تک پہونچانےکا کام لیا جاتا ہے اس لۓ اس آبادی کے کچھ فارغ لوگوں کےقرآن کریم کی آیت پرکان دھرنے سے <span style="color: #ff0000;"><strong>"فاستمعوا"</strong></span> کے وجوب پرعمل ہو جاۓگا۔ اور اس کاادب و وقار بھی ملحوظ رہےگا،باقی لوگ بوجہ شغل کاربے ادب وگنہ گار نہ ہونگے۔ امام اہل سنت اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں قرآن مجید کی تلاوت آواز سے کرنابہترہےمگرنہ اتنی آواز کہ اپنےآپ کوتکلیف یاکسی نمازی یا ذاکرکےکام میں خلل ہو یا کسی جائزنیند سونے والے کی نیند میں خلل آۓ یاکسی بیمارکو تکلیف پہونچےیا بازار کا سرایا عام سڑک ہو یا لوگ اپنےکام کاج میں مشغول ہیں اور کوئی سننے کے لۓ حاضر نہ رہےگا ان صورتوں میں آہستہ ہی پڑھنےکا حکم ہے ۔ لہذا لاؤڈاسپیکر سے سنی جانے والی قرأت قرآن کی سماعت فارغ از کار لوگوں نے کرلی تو یہ سننا جائز ہوگا۔ اور باقی کا بوجہ حاجت نہ سننا باعث گناہ نہ ہوگا ۔ (فتاوی رضویہ ج دہم نصف آخرص١٣٣) واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــہ : مفتی منظورالقادری،خادم التدریس لدرجات العالیہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...