Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1227 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10K Views

آپریشن سے جس عورت کی بچہ دانی نکال دی گئی ہو اس کی عدت کا مسئلہ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

آپریشن سے جس عورت کی بچہ دانی نکال دی گئی ہو اس کی عدت کا مسئلہ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

آپریشن سے جس عورت کی بچہ دانی نکال دی گئی ہو اس کی عدت کا مسئلہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے میکہ جانے کے لیے پیسے مانگا اس کے شوہرزید نے پانچ سو روپے دیے بیوی نے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا مگر شوہر نے نہیں دیا، ہندہ نے زور دے کر مطالبہ کیا مگر زید اپنی پرانی روش پر قائم رہا اور روپیہ نہیں دیا ہندہ نےجھلا کر کہا کہ جب آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے رہتے ہیں تو “ساتھ کیوں نہیں چھوڑ دیا” زید نے کہا” ساتھ چھوڑ تو دیہن “ساتھ چھوڑ تو دیہن”چھوڑ دیہن ” چھوڑ دیہن” موقع پر زید کا بیٹا موجود تھا، زید کا کہنا ہے کہ میں نے مذکورہ جملہ صرف دو ہی بار کیا ہے، مجھ سے قسم کے لو چاہے، حرم شریف لے جاکر مجھ سے قسم لے لو میں نے تو صرف دو ہی مرتبہ یہ بات کہی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ طلاق ایسی صورت میں واقع ہوئی یا نہیں، اگر طلاق واقع ہوگئی تو کون سی طلاق؟ اگر عورت کو عدت گزارنی ہو تو کیسے گزارے ، کہاں گزارے؟ اور کتنے ماہ عدت گزارے ، جبکہ ہندہ کا آپریشن کے ذریعہ بچہ دانی نکال دی گئی ہے۔ تفصیلی جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی : احمد سکونی بازار ضلع سراوستی الجوابـــــــــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں جب کہ زید دو مرتبہ سے زائد وہ جملہ بولنے کا منکر ہے تو اس صورت میں دو طلاقِ رجعی واقع ہونے کا حکم ہوگا، یعنی: زید کو حق ہوگا کہ عدت کے اندر رجعت کرلے، خواہ ہندہ راضی ہو یا راضی نہ ہو اور عدت گزر جانے کے بعد اگر ہندہ راضی ہو تو دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ طلاق دینے کی جگہ پر چوں کہ صرف زید کا بیٹا تھا اس لیے انکارِ زید کی صورت میں اگر وہ قابلِ ادائے شہادت ہو تب بھی ایک مرد کی شہادت سے طلاق کا ثبوت نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کے لیے نصابِ شہادت یعنی دو ثقہ مرد یا ایک ثقہ مرد اور دو ثقہ عورتوں کی گواہی درکار ہے۔واضح رہے کہ زید کے لڑکے کے علاوہ اگر ایک اور قابلِ قبول گواہ ہوتا بھی تو زید کے لڑکے کی گواہی اسی صورت میں قابلِ قبول ہوتی جبکہ زید کا وہ لڑکا اس کی بیوی ہندہ کے بطن سے نہ ہو ورنہ اس کی گواہی قابلِ قبول نہ ہوگی، کیوں کہ فرع کی گواہی اصل مثلاً ماں کے حق میں مقبول نہیں۔ اب یہاں چند امور کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے: امر اول: چھوڑنے کے لفظ سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟۔ اس کا حل یہ ہے کہ اردو زبان میں”چھوڑنا” صریح الفاظِ طلاق سے ہے، جس سے طلاق واقع ہونے میں نیت کی حاجت نہیں۔امام اہلِ سنت مجدد دین و ملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “وچھوڑنا من الصریح بلساننا” (فتاوی رضویہ ج۵ ص٧۴٦) امر دوم: زید کے قول (“ساتھ چھوڑ تو دیہن” ، “ساتھ چھوڑ تو دیہن” ، “چھوڑ دیہن” ، “چھوڑ دیہن”) میں بیوی کی طرف اضافت(یعنی: نسبت) نہیں ہے۔ یوں ہی بیوی نے اپنےقول(آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے رہتے ہیں تو ساتھ کیوں نہیں چھوڑ دیا) میں بھی “چھوڑنے” کی نسبت اپنی طرف ذکر نہ کی جس کے سبب زید کے کلام میں بھی لفظ میں نسبت پالیا جانا ثابت ہوجاتا کہ وہ اسی کے کلام کے جواب میں ہے؛ “فان السوال معاد فی الجواب”۔لیکن چوں کہ زید نے یہ بیان نہ دیا کہ میں نے اپنے قول:(“ساتھ چھوڑ تو دیہن” ، “ساتھ چھوڑ تو دیہن” ، “چھوڑ دیہن” ، “چھوڑ دیہن”) سے اپنی بیوی کو مراد نہیں لیا ہے، اس لیے یہاں لفظ میں اگرچہ نسبت موجود نہیں ہے، لیکن بظاہر نیت میں نسبت متحقق ہے اس لیے وقوعِ طلاق کا حکم ہوگا۔ ہاں! اگر زید قسم کے ساتھ یہ بیان دیتا کہ میں نے اپنے اس قول میں اپنی بیوی ہندہ کو مراد نہیں لیا ہے تو اس کی بات قسم کے ساتھ مان لی جاتی اور وقوعِ طلاق کا حکم نہ ہوتا۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے سوال ہوا کہ “میں نے چھوڑا، مجھے کچھ تعلق نہیں” کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟(فتاوی رضویہ ج۵ ص ٧٣۴ماخوذ بہ تلخیص) تو آپ نے جواب میں تحریر فرمایا: “صورتِ مستفسرہ میں ہندہ پر طلاق پڑجانے اور نکاحِ زید سے باہر ہوجانے کا حکم دیا جائےگا، ہاں اگرلفظ جو زید نےکہے اسی قدر ہیں اور اس حالت میں وُہ حلف شرعی کے ساتھ بیان کرے کہ میں نے یہ الفاظ ہندہ کی نسبت نہ کہے تھے اسے چھوڑنا مراد نہ تھا تو وقوعِ طلاق کا حکم نہ دیں گے پھر اگر وُہ اپنے اس حلف میں جُھوٹا ہوتو اس کا وبال اور عذابِ الہی کا استحقاق زید ہی پر رہے گا ہندہ پر الزام نہ آئے گا۔” (فتاوی رضویہ ج۵ ص٧٣۵) امرِ سوم: چوں کہ عورت کے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے ایسے الفاظ بولے ہیں،جن سے تین صریح طلاق واقع ہوتی ہے اور شوہر دو طلاق سے زائد کا منکر ہے ، جس پر ہندہ کے پاس شرعی شہادت موجود نہیں ۔تو اگر ہندہ کو اس چیز کا یقین ہے کہ واقعی اس کے شوہر نے اتنی بار وہ الفاظ بولے ہیں ، جن سے تین طلاق ہوجاتی ہے تو وہ اپنے مہر سے دستبردار ہوکر یا اور مال دے کر زید کو خلع یا طلاق پر راضی کرے اور اگر وہ کسی طرح چھوڑنے پر راضی نہ ہو تو ہندہ پر لازم ہے کہ جماع یا بوس و کنار کرنے میں وہ زید کو اپنے اوپر قابو نہ دے اور اگر وہ جبر کرے تو دل سے راضی نہ ہو۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “اور اگر خود زوجہ کے سامنے اُسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملتے تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے اگر چہ اپنا مہر چھوڑکر، یا اور مال دے کر، اور اگر وُہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو، پھر وبال اس پر ہے،لایکلّف ﷲ نفسا الا وسعھا” اب رہ گیا یہ سوال کہ عورت نے آپریشن کے ذریعہ اپنی بچہ دانی نکلوا دی ہے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہوگا اور کتنے دنوں میں اس کی عدت مکمل ہوگی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی عورت کی عدت “ممتدّة الطہر” کی طرح اس وقت تک مکمل نہ ہوگی جب تک وہ پچپن سال کی ہوکر مہینہ سے اپنی عدت نہ گزار لے۔یعنی: جس طرح وہ مطلقہ عورت جس کے طہر کی مدت کئی سال تک دراز ہوجائے، اس کی عدت سن ایاس تک پہونچنے کے وقت سے تین مہینہ بعد مکمل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے، اسی طرح یہاں بھی حکم ہوگا۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “قَالَ أَصْحَابُنَا: إذَا تَأَخَّرَ حَيْضُ الْمُطَلَّقَةِ لِعَارِضٍ، أَوْ غَيْرِهِ بَقِيَتْ فِي الْعِدَّةِ حَتَّى تَحِيضَ، أَوْ تَبْلُغَ حَدّالْإِيَاسِ. اهـ.” (رد المحتار، باب العدة ج۵ ص١٨٩) اس لیے کہ عدت لازم ہونے کے من جملہ مصالح و مقاصد سے حفاظتِ نسب کے پیشِ نظر اگرچہ یہ اطمنان حاصل کرنا ہوتا ہے کہ عورت کے شکم میں طلاق دینے والے کا بچہ تو نہیں ہے، لیکن عدت لازم کرنے کے کچھ دیگر مصالح ومقاصد( مثلا: عظمتِ نکاح کا اظہار) بھی ہیں۔ علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “(ثَلَاثَ حِيَضٍ كَوَامِلَ) لِعَدَمِ تَجَزِّي الْحَيْضَةِ، فَالْأُولَى لِتُعْرَفَ بَرَاءَةُ الرَّحِمِ، وَالثَّانِيَةُ لِحُرْمَةِ النِّكَاحِ، وَالثَّالِثَةُ لِفَضِيلَةِ الْحُرِّيَّةِ.” (در مختار ج۵ ص١٨٢) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “(قوله: فالأولى إلخ) بيان لحكمة كونها ثلاثًا مع أن مشروعية العدة لتعرف براءة الرحم أي خلوه عن الحمل وذلك يحصل بمرة فبين أن حكمة الثانية لحرمة النكاح أي لإظهار حرمته.وَاعْتِبَارِهِ حَيْثُ لَمْ يَنْقَطِعْ أَثَرُهُ بِحَيْضَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ، وَزِيدَ فِي الْحُرَّةِ ثَالِثَةً لِفَضِيلَتِهَا.” (رد المحتار مع الدر المختارج۵ص١٨٢) محقق علی الاطلاق تحریر فرماتے ہیں: “لأنّ العدة وجبت للتعرف عن براءة الرحم في الفرقة الطارئة على النكاح ۔ثمّ كونها تجب للتعرف لاينفي أن تجب لغيره أيضًا، وقد أفاد المصنف فيما سيأتي أنها أيضًا تجب لقضاء حق بإظهار الأسف عليه، فقد يجتمعان في مواضع وجوب الأقراء، وقد ينفرد الثاني كما في صور الأشهر.” (فتح القدیر، باب العدة) علاوہ ازیں احکام شرع میں جن مصالح کا اعتبار ہوتا ہے وہ مصالح مدارِ احکام نہیں ہوتے۔کہ ان مصالح کے فوت ہونے سے حکم بدل جائے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں: “حقیقتِ امر یہ ہے کہ ہر چندا حکام شرعیہ عموماً حِکٙم ومصالح سے ناشی ہوتے ہیں اور مشروعیت خطبہ کی حکمت یہی تذکیر وتذکر ہے ۔ مگر حکمت مدارِ حکم نہیں ہوتی کہ اُس کے فقدان سے فساد و بطلان لازم آئے، مثلا شرع نکاح کی حکمت تکثیر امت اور نفس کی عفت، کہ مردِ عنین وزنِ رتقاء وقرناء میں دونوں، اور بحالت عقم اول منتفی، مگر پھر بھی صحتِ نکاح میں شبہہ نہیں ۔ صوم کی حکمت کسرِ شہوت اور نفس کی ریاضت، پھر اگر کسی شخص کے مزاج پر رطوبت غالب اور اس کی وجہ سے شہوتین میں ضعف ہو کہ روزہ اُسے نافع و موجب قوت پڑے تو کیا اُسے روزے کا حکم نہ دیں گے یا اُس کے صوم کو فاسد مانیں گے؟ وقس علی ھذا۔” (فتاوی رضویہ ج٣ ص٦٧٦ ) اور ایسی عورت جب تک عدت مکمل ہونے کا اقرار نہ کرلے از روئے شرع نفقہ کی بھی حق دار ہوگی۔علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “وَلَوْ ادَّعَتْ امْتِدَادَ الطُّهْرِ فَلَهَا النَّفَقَةُ مَا لَمْ يَحْكُمْ بِانْقِضَائِهَا و مَا لَمْ تَدَّعِ الْحَبَلَ فَلَهَا النَّفَقَةُ إلَى سَنَتَيْنِ مُنْذُ طَلَّقَهَا۔” (در مختار، باب النفقة) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٢/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٦/جنوری ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>آپریشن سے جس عورت کی بچہ دانی نکال دی گئی ہو اس کی عدت کا مسئلہ</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے میکہ جانے کے لیے پیسے مانگا اس کے شوہرزید نے پانچ سو روپے دیے بیوی نے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا مگر شوہر نے نہیں دیا، ہندہ نے زور دے کر مطالبہ کیا مگر زید اپنی پرانی روش پر قائم رہا اور روپیہ نہیں دیا ہندہ نےجھلا کر کہا کہ جب آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے رہتے ہیں تو "ساتھ کیوں نہیں چھوڑ دیا" زید نے کہا" ساتھ چھوڑ تو دیہن "ساتھ چھوڑ تو دیہن"چھوڑ دیہن " چھوڑ دیہن" موقع پر زید کا بیٹا موجود تھا، زید کا کہنا ہے کہ میں نے مذکورہ جملہ صرف دو ہی بار کیا ہے، مجھ سے قسم کے لو چاہے، حرم شریف لے جاکر مجھ سے قسم لے لو میں نے تو صرف دو ہی مرتبہ یہ بات کہی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ طلاق ایسی صورت میں واقع ہوئی یا نہیں، اگر طلاق واقع ہوگئی تو کون سی طلاق؟ اگر عورت کو عدت گزارنی ہو تو کیسے گزارے ، کہاں گزارے؟ اور کتنے ماہ عدت گزارے ، جبکہ ہندہ کا آپریشن کے ذریعہ بچہ دانی نکال دی گئی ہے۔ تفصیلی جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی : احمد سکونی بازار ضلع سراوستی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورتِ مسئولہ میں جب کہ زید دو مرتبہ سے زائد وہ جملہ بولنے کا منکر ہے تو اس صورت میں دو طلاقِ رجعی واقع ہونے کا حکم ہوگا، یعنی: زید کو حق ہوگا کہ عدت کے اندر رجعت کرلے، خواہ ہندہ راضی ہو یا راضی نہ ہو اور عدت گزر جانے کے بعد اگر ہندہ راضی ہو تو دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ طلاق دینے کی جگہ پر چوں کہ صرف زید کا بیٹا تھا اس لیے انکارِ زید کی صورت میں اگر وہ قابلِ ادائے شہادت ہو تب بھی ایک مرد کی شہادت سے طلاق کا ثبوت نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کے لیے نصابِ شہادت یعنی دو ثقہ مرد یا ایک ثقہ مرد اور دو ثقہ عورتوں کی گواہی درکار ہے۔واضح رہے کہ زید کے لڑکے کے علاوہ اگر ایک اور قابلِ قبول گواہ ہوتا بھی تو زید کے لڑکے کی گواہی اسی صورت میں قابلِ قبول ہوتی جبکہ زید کا وہ لڑکا اس کی بیوی ہندہ کے بطن سے نہ ہو ورنہ اس کی گواہی قابلِ قبول نہ ہوگی، کیوں کہ فرع کی گواہی اصل مثلاً ماں کے حق میں مقبول نہیں۔ اب یہاں چند امور کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے: امر اول: چھوڑنے کے لفظ سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟۔ اس کا حل یہ ہے کہ اردو زبان میں"چھوڑنا" صریح الفاظِ طلاق سے ہے، جس سے طلاق واقع ہونے میں نیت کی حاجت نہیں۔امام اہلِ سنت مجدد دین و ملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "وچھوڑنا من الصریح بلساننا" (فتاوی رضویہ ج۵ ص٧۴٦) امر دوم: زید کے قول ("ساتھ چھوڑ تو دیہن" ، "ساتھ چھوڑ تو دیہن" ، "چھوڑ دیہن" ، "چھوڑ دیہن") میں بیوی کی طرف اضافت(یعنی: نسبت) نہیں ہے۔ یوں ہی بیوی نے اپنےقول(آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے رہتے ہیں تو ساتھ کیوں نہیں چھوڑ دیا) میں بھی "چھوڑنے" کی نسبت اپنی طرف ذکر نہ کی جس کے سبب زید کے کلام میں بھی لفظ میں نسبت پالیا جانا ثابت ہوجاتا کہ وہ اسی کے کلام کے جواب میں ہے؛ "فان السوال معاد فی الجواب"۔لیکن چوں کہ زید نے یہ بیان نہ دیا کہ میں نے اپنے قول:("ساتھ چھوڑ تو دیہن" ، "ساتھ چھوڑ تو دیہن" ، "چھوڑ دیہن" ، "چھوڑ دیہن") سے اپنی بیوی کو مراد نہیں لیا ہے، اس لیے یہاں لفظ میں اگرچہ نسبت موجود نہیں ہے، لیکن بظاہر نیت میں نسبت متحقق ہے اس لیے وقوعِ طلاق کا حکم ہوگا۔ ہاں! اگر زید قسم کے ساتھ یہ بیان دیتا کہ میں نے اپنے اس قول میں اپنی بیوی ہندہ کو مراد نہیں لیا ہے تو اس کی بات قسم کے ساتھ مان لی جاتی اور وقوعِ طلاق کا حکم نہ ہوتا۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے سوال ہوا کہ "میں نے چھوڑا، مجھے کچھ تعلق نہیں" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟(فتاوی رضویہ ج۵ ص ٧٣۴ماخوذ بہ تلخیص) تو آپ نے جواب میں تحریر فرمایا: "صورتِ مستفسرہ میں ہندہ پر طلاق پڑجانے اور نکاحِ زید سے باہر ہوجانے کا حکم دیا جائےگا، ہاں اگرلفظ جو زید نےکہے اسی قدر ہیں اور اس حالت میں وُہ حلف شرعی کے ساتھ بیان کرے کہ میں نے یہ الفاظ ہندہ کی نسبت نہ کہے تھے اسے چھوڑنا مراد نہ تھا تو وقوعِ طلاق کا حکم نہ دیں گے پھر اگر وُہ اپنے اس حلف میں جُھوٹا ہوتو اس کا وبال اور عذابِ الہی کا استحقاق زید ہی پر رہے گا ہندہ پر الزام نہ آئے گا۔" (فتاوی رضویہ ج۵ ص٧٣۵) امرِ سوم: چوں کہ عورت کے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے ایسے الفاظ بولے ہیں،جن سے تین صریح طلاق واقع ہوتی ہے اور شوہر دو طلاق سے زائد کا منکر ہے ، جس پر ہندہ کے پاس شرعی شہادت موجود نہیں ۔تو اگر ہندہ کو اس چیز کا یقین ہے کہ واقعی اس کے شوہر نے اتنی بار وہ الفاظ بولے ہیں ، جن سے تین طلاق ہوجاتی ہے تو وہ اپنے مہر سے دستبردار ہوکر یا اور مال دے کر زید کو خلع یا طلاق پر راضی کرے اور اگر وہ کسی طرح چھوڑنے پر راضی نہ ہو تو ہندہ پر لازم ہے کہ جماع یا بوس و کنار کرنے میں وہ زید کو اپنے اوپر قابو نہ دے اور اگر وہ جبر کرے تو دل سے راضی نہ ہو۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "اور اگر خود زوجہ کے سامنے اُسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملتے تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے اگر چہ اپنا مہر چھوڑکر، یا اور مال دے کر، اور اگر وُہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو، پھر وبال اس پر ہے،لایکلّف ﷲ نفسا الا وسعھا" اب رہ گیا یہ سوال کہ عورت نے آپریشن کے ذریعہ اپنی بچہ دانی نکلوا دی ہے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہوگا اور کتنے دنوں میں اس کی عدت مکمل ہوگی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی عورت کی عدت "ممتدّة الطہر" کی طرح اس وقت تک مکمل نہ ہوگی جب تک وہ پچپن سال کی ہوکر مہینہ سے اپنی عدت نہ گزار لے۔یعنی: جس طرح وہ مطلقہ عورت جس کے طہر کی مدت کئی سال تک دراز ہوجائے، اس کی عدت سن ایاس تک پہونچنے کے وقت سے تین مہینہ بعد مکمل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے، اسی طرح یہاں بھی حکم ہوگا۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"قَالَ أَصْحَابُنَا: إذَا تَأَخَّرَ حَيْضُ الْمُطَلَّقَةِ لِعَارِضٍ، أَوْ غَيْرِهِ بَقِيَتْ فِي الْعِدَّةِ حَتَّى تَحِيضَ، أَوْ تَبْلُغَ حَدّالْإِيَاسِ. اهـ."</strong></span> (رد المحتار، باب العدة ج۵ ص١٨٩) اس لیے کہ عدت لازم ہونے کے من جملہ مصالح و مقاصد سے حفاظتِ نسب کے پیشِ نظر اگرچہ یہ اطمنان حاصل کرنا ہوتا ہے کہ عورت کے شکم میں طلاق دینے والے کا بچہ تو نہیں ہے، لیکن عدت لازم کرنے کے کچھ دیگر مصالح ومقاصد( مثلا: عظمتِ نکاح کا اظہار) بھی ہیں۔ علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"(ثَلَاثَ حِيَضٍ كَوَامِلَ) لِعَدَمِ تَجَزِّي الْحَيْضَةِ، فَالْأُولَى لِتُعْرَفَ بَرَاءَةُ الرَّحِمِ، وَالثَّانِيَةُ لِحُرْمَةِ النِّكَاحِ، وَالثَّالِثَةُ لِفَضِيلَةِ الْحُرِّيَّةِ."</strong></span> (در مختار ج۵ ص١٨٢) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: <strong><span style="color: #ff0000;">"(قوله: فالأولى إلخ) بيان لحكمة كونها ثلاثًا مع أن مشروعية العدة لتعرف براءة الرحم أي خلوه عن الحمل وذلك يحصل بمرة فبين أن حكمة الثانية لحرمة النكاح أي لإظهار حرمته.وَاعْتِبَارِهِ حَيْثُ لَمْ يَنْقَطِعْ أَثَرُهُ بِحَيْضَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الْحُرَّةِ </span></strong> <strong><span style="color: #ff0000;">وَالْأَمَةِ، وَزِيدَ فِي الْحُرَّةِ ثَالِثَةً لِفَضِيلَتِهَا."</span></strong> (رد المحتار مع الدر المختارج۵ص١٨٢) محقق علی الاطلاق تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"لأنّ العدة وجبت للتعرف عن براءة الرحم في الفرقة الطارئة على النكاح ۔ثمّ كونها تجب للتعرف لاينفي أن تجب لغيره أيضًا، وقد أفاد المصنف فيما سيأتي أنها أيضًا تجب لقضاء حق بإظهار الأسف عليه، فقد يجتمعان في مواضع وجوب الأقراء، وقد ينفرد الثاني كما في صور الأشهر."</strong></span> (فتح القدیر، باب العدة) علاوہ ازیں احکام شرع میں جن مصالح کا اعتبار ہوتا ہے وہ مصالح مدارِ احکام نہیں ہوتے۔کہ ان مصالح کے فوت ہونے سے حکم بدل جائے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں: "حقیقتِ امر یہ ہے کہ ہر چندا حکام شرعیہ عموماً حِکٙم ومصالح سے ناشی ہوتے ہیں اور مشروعیت خطبہ کی حکمت یہی تذکیر وتذکر ہے ۔ مگر حکمت مدارِ حکم نہیں ہوتی کہ اُس کے فقدان سے فساد و بطلان لازم آئے، مثلا شرع نکاح کی حکمت تکثیر امت اور نفس کی عفت، کہ مردِ عنین وزنِ رتقاء وقرناء میں دونوں، اور بحالت عقم اول منتفی، مگر پھر بھی صحتِ نکاح میں شبہہ نہیں ۔ صوم کی حکمت کسرِ شہوت اور نفس کی ریاضت، پھر اگر کسی شخص کے مزاج پر رطوبت غالب اور اس کی وجہ سے شہوتین میں ضعف ہو کہ روزہ اُسے نافع و موجب قوت پڑے تو کیا اُسے روزے کا حکم نہ دیں گے یا اُس کے صوم کو فاسد مانیں گے؟ وقس علی ھذا۔" (فتاوی رضویہ ج٣ ص٦٧٦ ) اور ایسی عورت جب تک عدت مکمل ہونے کا اقرار نہ کرلے از روئے شرع نفقہ کی بھی حق دار ہوگی۔علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَلَوْ ادَّعَتْ امْتِدَادَ الطُّهْرِ فَلَهَا النَّفَقَةُ مَا لَمْ يَحْكُمْ بِانْقِضَائِهَا و مَا لَمْ تَدَّعِ الْحَبَلَ فَلَهَا النَّفَقَةُ إلَى سَنَتَيْنِ مُنْذُ طَلَّقَهَا۔"</strong></span> (در مختار، باب النفقة) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٢/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٦/جنوری ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...