رخصتی ہوئے بغیرطلاق کی صورت میں عدت لازم ہے یا نہیں؟ مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
رخصتی ہوئے بغیرطلاق کی صورت میں عدت لازم ہے یا نہیں؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی حفظہ اللہ استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
السلام و علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ حضور مفتی نظام الدین صاحب قبلہ حفظہ اللہ کی بارگاہ میں ایک مسئلہ عرض ہے کہ
حضرت کوئی لڑکی کی شادی ہوئی تھی وہ اپنے شوہر کے پاس سال بھر سے نہیں گئ تھی لیکن اب وہ طلاق لینا چاہتی ہے کیا اب اسے عدت پوری کرنی پڑے گی
سائل فیضان رضا سسواری بستی
الجواب
نکاح کے بعد اگر شوہر نے بیوی سے کبھی جماع کیا ہو یا نکاح کے بعد کم از کم دونوں تنہائی میں اس طرح اکٹھا ہوئے ہوں، جہاں جماع سے کوئی حقیقی مانع نہ ہو (مانع حقیقی کا مطلب یہ ہے کہ مثلا عورت کا مقام اس طرح بند ہو،جس سے جماع نہ ہوسکے یا بیوی یا شوہر اتنا کم عمر ہو جس عمر میں جماع عادة ممکن نہ ہو ) تو طلاق کے بعد عدت گزارنی ہوگی اگرچہ طلاق سے دس سال پہلے اپنے شوہر کے یہاں نہ گئی ہو۔یا کبھی شوہر کے یہاں رخصتی ہی نہ ہوئی ہو ۔
اور اگر نکاح کے بعد نہ تو شوہر نے جماع کیا ہو اور نہ ہی دونوں تنہائی میں کہیں یکجا ہوئے ہوں یا تنہائی میں یکجا تو ہوئے مگر جماع سے کوئی مانعِ حقیقی بھی موجود رہا ہو تو ان صورتوں میں اگر شوہر طلاق دیدے تو عورت پر عدت لازم نہیں ہے۔
وقایہ اور شرح وقایہ میں ہے:
“(وتجب العدّة فی الکل) ای: فی جمیع ما ذکر من اقسام الخلوة سواء وجد المانع کالمرض ونحوہ او لم یوجد”
(شرح وقایہ ج٢ ص۴٢)
فتاوی عالم گیری میں ہے:
“وتجب العدّة فی الخلوة سواء کانت الخلوة صحیحة او فاسدة استحسانا لتوہم الشغل” (فتاوی عالم گیری ج١ ص ٣٠٦)
در مختار میں ہے :
“(وَسَبَبُ وُجُوبِهَا) عَقْدُ (النِّكَاحِ الْمُتَأَكِّدُ بِالتَّسْلِيمِ وَمَا جَرَى مَجْرَاهُ) مِنْ مَوْتٍ، أَوْ خَلْوَةٍ أَيْ صَحِيحَةٍ، فَلَا عِدَّةَ بِخَلْوَةِ الرَّتْقَاءِ.”
علامہ شامی علیہ الرحمہ زیر قول “ای صحیحة” تحریر فرماتے ہیں:
“فیہ نظر؛ فان الذی تقدم فی باب المہر ان المذہب وجوب العدة للخلوة صحیحة او فاسدة، وقال القدوری: ان کان الفساد لمانع شرعی کالصوم وجبت وان کان لمانع حسی کالرتق لاتجب، فکلام الشارح لم یوافق واحدا من القولین”
(بحوالہ جد الممتار ج٢ ص۵٨٢)
ولقد ابان الامام احمد رضا رحمہ اللہ مراد الشارح الحصکفی رحمہ اللہ القوی بحیث یزول نظر العلامة الشامی علیہ الرحمہ فکتب فیما علق علی رد المحتار فی ہذا المقام قائلا:
“(قولہ: صحیحة او فاسدة) اطلقھا، فشمل ما اذا کان فسادھا لمانع حسی او شرعی، وھذا ھو الحق ١٢ ش ص٩٩٢
اقول: نص فی التبیین انہم استحسنوہ فی عدة لتوہم الشغل اھ۔ وایّ شغل فی بنت سنة او من ابن سنتین، فالذی یظھر ان کل خلوة یمکن فیھا الایلاج، ولو کان ثمة مانع شرعی، کالصوم او حسی، کمرض یزید بالجماع، فھی توجب العدة۔ وکل مانع لا یمکن ھو( معہ ؟) الشغل، کصغرہ او صغرھا او رتقھا، او مرض لا یستطیع معہ الجماع اصلا، لاتجب فیہا العدة، فلیکن محمل القولین، فالمراد بالصحیحة ما یصح فیھا الجماع امکانا عادیا”
(جد الممتار ج٢ص۵٨٢، ۵٨٣)
ولیکن ھذا ھو مراد صدر الشریعة العلامة المفتی محمد امجد علی الاعظمی رحمہ اللہ تعالی حیث قال فی الجزء الثامن من بہار الشریعة فی بیان العدّة ص٢٣٦: “نکاح زائل ہونے کے بعد اُسوقت عدت ہے کہ شوہر کا انتقال ہوا ہو یا خلوت صحیحہ ہوئی ہو”فتثبّت۔
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔
کتبہ محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔
٨/شوال المکرم١۴۴٢ھ//٢١/مئی ٢٠٢١ء