Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1231 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.4K Views

عورت طلاق کی عدت گزارے بغیر دوسرا نکاح کرے تو کیا حکم ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عورت طلاق کی عدت گزارے بغیر دوسرا نکاح کرے تو کیا حکم ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عورت طلاق کی عدت گزارے بغیر دوسرا نکاح کرے تو کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ومشائخ عظام اس مسئلہ کے بارے کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کو تین طلاقیں دیں اور پھر ہندہ کے والدین نے عدت پوری نہ ہونے کے باوجود عمرو سے نکاح کرادیا اب اس نکاح کا کیا حکم ہے بینواتوجروا سائل محمد طاہر باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب: اگر زید کی بیوی ہندہ مدخولہ تھی اور اسکے والدین نے قبل تکمیل عدت اسکا نکاح عمرو سے کروا دیا تو یہ نکاح ہرگز نہ ہوا ، عمرو پر لازم ہے کہ وہ ہندہ کو فورا الگ کردے اور ہندہ پر بھی لازم ہے کہ وہ عمرو سے الگ ہوجائے. اب اگر عمرو کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہندہ کی عدت پوری نہیں ہوئی ہے اور لا علمی میں اس نے اس سے نکاح کر لیا اور صحبت بھی کرلی تو اب ہندہ پر دو عدت ہیں لیکن یہ عدتیں الگ الگ نہ ہوں گی کہ پہلی مکمل ہوجائے پھر دوسری گزارے بلکہ تفریق کے بعد دوسری پہلی میں داخل ہوجائے گی بایں طور کہ کسی مطلقہ نے دو حیض گزرنے کے بعد دوسرے سے نکاح کرلیا اور اس نے لاعلمی میں اس سے وطی بھی کرلی تو اب اس کو ایک ساتھ پہلی عدت مکمل کرنے کے ساتھ وطی بالشبہہ کی عدت بھی گزارنی ہوگی۔ اب اس کے بعد ایک حیض آیا تو پہلی عدت ختم ہوگئی لیکن ابھی دوسری ختم نہ ہوئی دوسری تبھی ختم ہوگی جب دو حیض اور آجائیں ۔ اور اب ہندہ کا زید کے علاوہ دوسرے شخص سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔ اور اگر عمرو کو معلوم تھا کہ ہندہ مطلقہ ہے اور ابھی اس کی عدت پوری نہیں ہوئی اس کے باوجود اس نے ہندہ سے نکاح کرلیا اور صحبت بھی کرلی تو اس صورت میں عورت پر دوسری عدت نہیں بلکہ پہلی ہی مکمل کرنی ہوگی اس کے بعد وہ دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے۔ ہندہ کے والدین قبل تکمیل عدت اسکا نکاح عمرو سے کروانے کی وجہ سے فاسق وفاجر اور مستحق غضب جبار وعذاب نار ہیں، اگر عمرو کو معلوم تھا کہ ہندہ مطلقہ ہے اور ابھی اسکی عدت ختم نہیں ہوئی یا معلوم نہیں تھا اب معلوم ہوگیا پھر بھی وہ فورا اس سے جدا نہ ہوا تو وہ بھی ہندہ کے والدین کی طرح سخت فاسق وفاجر گناہ کبیرہ کا مرتکب اور مستحق غضب جبار وعذاب نار ہے ان سب پر لازم ہے کہ اپنی اس قبیح حرکت پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ واستغفار کریں اور آئندہ ایسی بری حرکتوں سے باز رہنے کا پختہ عہد بھی کریں۔ اگر یہ لوگ مذکورہ احکام شرعیہ پر عمل پیرا نہیں ہوتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ انکا مکمل بائیکاٹ کریں۔ لیکن اگر عمرو کو معلوم نہ تھا کہ ہندہ مطلقہ ہے اور ابھی اسکی عدت مکمل نہیں ہوئی اس نے اس سے نکاح کرلیا اور نکاح کے بعد معلوم ہونے پر اس سے فورا جدا ہوگیا تو اس صورت میں اس پر کوئی الزام نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ” لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذالك المعتدة،كذا في السراج الوهاج،سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح،كذا في البدائع.ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير،فوطئھا؛ تجب العدة،وان كان يعلم أنها منكوحة الغير لا تجب”(ج ۱ ص ۲۸۰/المكتبة الشاملة الحديثة) تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے “قال رحمه الله(وتجب عدة أخرى بوطء المعتدة بشبهة، وتداخلتا، والمرئی منهما، وتتم الثانية ان تمت الاولى) أي اذا وطئت المعتدة بشبهة يجب عليها عدة أخرى،و تداخلت العدتان، والدم الذى تراه محتسب به من العدتين”(ج ۷ ص ۲۱۳/ الموسوعة الشاملة) اور در مختار میں ہے “اذا وطئت المعتدة بشبهة وجبت عدة أخرى وتداخلتا وعليها ان تتم العدة الثانيه ان تمت الاولى”(ج ۳ ص ۵۱۹/المكتبة الاسلامية) اور بنایہ شرح ھدایہ میں ہے “واذا وطئت المعتدة بشبهة فعليها عدة أخرى،وتداخلت العدتان، ويكون ما تراه من الحيض محتسبا”(ج ۵ ص ۶۰۷/المكتبة الشاملة الحديثة) اور رد المحتار میں ہے “أما منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة ان علم أنها للغير لأنه لم يقل بجوازه أحد فلم ينعقد أصلا ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما فى القنية وغيرها”(ج ۳ ص ۱۴۵/المكتبة الشيعيه اور فتاوی رضویہ میں ہے ” اگر وہ لڑکی اپنے شوہر کی مدخولہ تھی اور حاملہ نہ تھی کہ اس مہینہ کے اندر بعد طلاق بچہ پیدا ہوگیا ہو اسکے بعد نکاح ثانی ہوا ہو تو یہ دوسرا نکاح عدت کے اندر ہوا اور محض حرام حرام حرام ہوا اور اسمیں قربت خالص زنا اگر جسکے ساتھ نکاح ہوا اسے خبر تھی کہ یہ مطلقہ ہے اور ہنوز عدت نہ گزری جان کر نکاح کرلیا تو سخت اشد فاسق وفاجر ہے-یوں ہی اگر معلوم نہ تھا اور اب معلوم ہوا اور فورا جدا نہ ہوگیا جب بھی اسپر یہی احکام ہیں اور جو لوگ دانستہ اس حرام نکاح میں شامل ہوئے اور کھایا پیا وہ بھی سخت گنہگار ہوے اور وہ حرام کھانے والے ہوے ان سب پر بھی توبہ فرض ہے” ملتقطا،(ج۵ ص ۸۵۰) اور بہار شریعت میں ہے ” مطلقہ نے ایک حیض کے بعد دوسرے سے نکاح کیا اور اس دوسرے نے اس سے وطی کی پھر دونوں میں تفریق کردی گئی اور تفریق کے بعد دو حیض آئے تو پہلی عدت ختم ہوگئی مگر ابھی دوسری ختم نہ ہوئی-جب تک بعد تفریق تین حیض نہ آلیں اور تین حیض آنے پر دونوں عدتیں ختم ہوگئیں”ملتقطا،(ج ۲ ح ۸ ص ۲۳۷/المكتبة المدينه دعوت اسلامی) نیز اسی میں ہے ” خاوند والی عورت تھی اور شبہتہ اس سے کسی اور نے وطی کی پھر شوہر نے اس کو طلاق دیدی ان سب صورتوں میں عورت پر دو عدتیں ہیں اور بعد تفریق دوسری عدت پہلی عدت میں داخل ہو جائے گی یعنی اب جو حیض آئیگا دونوں عدتوں میں شمار ہوگا”(حوالہ سابق) اور فتاوی رضویہ میں ہے ” جبکہ اسے معلوم نہ تھا اور جس وقت معلوم ہوا فورا جدا کردیا تو اس کے حق میں کسی طرح زنا نہیں، زنا ہونا درکنار اس پر کوئی الزام بھی نہیں البتہ وہ وطی واقع میں ضرور وطی حرام تھی اور اثم مرفوع کما نصوا علیه وذالك لان الجهل فى موضع الخفاء عذر مقبول”(ج ۵ ص ۸۴۹) واللہ تعالی اعلم بالحق والصواب کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۲۶/جمادی الآخرہ ۱۴۴۳ ھ مطابق ۲۸/جنوری ۲۰۲۲ ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h2>عورت طلاق کی عدت گزارے بغیر دوسرا نکاح کرے تو کیا حکم ہے ؟</h2> کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ومشائخ عظام اس مسئلہ کے بارے کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کو تین طلاقیں دیں اور پھر ہندہ کے والدین نے عدت پوری نہ ہونے کے باوجود عمرو سے نکاح کرادیا اب اس نکاح کا کیا حکم ہے بینواتوجروا سائل محمد طاہر باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong> الجواب بعون الملك الوهاب:</strong></span> اگر زید کی بیوی ہندہ مدخولہ تھی اور اسکے والدین نے قبل تکمیل عدت اسکا نکاح عمرو سے کروا دیا تو یہ نکاح ہرگز نہ ہوا ، عمرو پر لازم ہے کہ وہ ہندہ کو فورا الگ کردے اور ہندہ پر بھی لازم ہے کہ وہ عمرو سے الگ ہوجائے. اب اگر عمرو کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہندہ کی عدت پوری نہیں ہوئی ہے اور لا علمی میں اس نے اس سے نکاح کر لیا اور صحبت بھی کرلی تو اب ہندہ پر دو عدت ہیں لیکن یہ عدتیں الگ الگ نہ ہوں گی کہ پہلی مکمل ہوجائے پھر دوسری گزارے بلکہ تفریق کے بعد دوسری پہلی میں داخل ہوجائے گی بایں طور کہ کسی مطلقہ نے دو حیض گزرنے کے بعد دوسرے سے نکاح کرلیا اور اس نے لاعلمی میں اس سے وطی بھی کرلی تو اب اس کو ایک ساتھ پہلی عدت مکمل کرنے کے ساتھ وطی بالشبہہ کی عدت بھی گزارنی ہوگی۔ اب اس کے بعد ایک حیض آیا تو پہلی عدت ختم ہوگئی لیکن ابھی دوسری ختم نہ ہوئی دوسری تبھی ختم ہوگی جب دو حیض اور آجائیں ۔ اور اب ہندہ کا زید کے علاوہ دوسرے شخص سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔ اور اگر عمرو کو معلوم تھا کہ ہندہ مطلقہ ہے اور ابھی اس کی عدت پوری نہیں ہوئی اس کے باوجود اس نے ہندہ سے نکاح کرلیا اور صحبت بھی کرلی تو اس صورت میں عورت پر دوسری عدت نہیں بلکہ پہلی ہی مکمل کرنی ہوگی اس کے بعد وہ دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے۔ ہندہ کے والدین قبل تکمیل عدت اسکا نکاح عمرو سے کروانے کی وجہ سے فاسق وفاجر اور مستحق غضب جبار وعذاب نار ہیں، اگر عمرو کو معلوم تھا کہ ہندہ مطلقہ ہے اور ابھی اسکی عدت ختم نہیں ہوئی یا معلوم نہیں تھا اب معلوم ہوگیا پھر بھی وہ فورا اس سے جدا نہ ہوا تو وہ بھی ہندہ کے والدین کی طرح سخت فاسق وفاجر گناہ کبیرہ کا مرتکب اور مستحق غضب جبار وعذاب نار ہے ان سب پر لازم ہے کہ اپنی اس قبیح حرکت پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ واستغفار کریں اور آئندہ ایسی بری حرکتوں سے باز رہنے کا پختہ عہد بھی کریں۔ اگر یہ لوگ مذکورہ احکام شرعیہ پر عمل پیرا نہیں ہوتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ انکا مکمل بائیکاٹ کریں۔ لیکن اگر عمرو کو معلوم نہ تھا کہ ہندہ مطلقہ ہے اور ابھی اسکی عدت مکمل نہیں ہوئی اس نے اس سے نکاح کرلیا اور نکاح کے بعد معلوم ہونے پر اس سے فورا جدا ہوگیا تو اس صورت میں اس پر کوئی الزام نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>" لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذالك المعتدة،كذا في السراج الوهاج،سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح،كذا في البدائع.ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير،فوطئھا؛ تجب العدة،وان كان يعلم أنها منكوحة الغير لا تجب"(ج ۱ ص ۲۸۰/المكتبة الشاملة الحديثة)</strong></span> تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"قال رحمه الله(وتجب عدة أخرى بوطء المعتدة بشبهة، وتداخلتا، والمرئی منهما، وتتم الثانية ان تمت الاولى) أي اذا وطئت المعتدة بشبهة يجب عليها عدة أخرى،و تداخلت العدتان، والدم الذى تراه محتسب به من العدتين"(ج ۷ ص ۲۱۳/ الموسوعة الشاملة)</strong></span> اور در مختار میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"اذا وطئت المعتدة بشبهة وجبت عدة أخرى وتداخلتا وعليها ان تتم العدة الثانيه ان تمت الاولى"(ج ۳ ص ۵۱۹/المكتبة الاسلامية)</strong></span> اور بنایہ شرح ھدایہ میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"واذا وطئت المعتدة بشبهة فعليها عدة أخرى،وتداخلت العدتان، ويكون ما تراه من الحيض محتسبا"(ج ۵ ص ۶۰۷/المكتبة الشاملة الحديثة)</strong></span> اور رد المحتار میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"أما منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة ان علم أنها للغير لأنه لم يقل بجوازه أحد فلم ينعقد أصلا ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما فى القنية وغيرها"(ج ۳ ص ۱۴۵/المكتبة الشيعيه</strong></span> اور فتاوی رضویہ میں ہے " اگر وہ لڑکی اپنے شوہر کی مدخولہ تھی اور حاملہ نہ تھی کہ اس مہینہ کے اندر بعد طلاق بچہ پیدا ہوگیا ہو اسکے بعد نکاح ثانی ہوا ہو تو یہ دوسرا نکاح عدت کے اندر ہوا اور محض حرام حرام حرام ہوا اور اسمیں قربت خالص زنا اگر جسکے ساتھ نکاح ہوا اسے خبر تھی کہ یہ مطلقہ ہے اور ہنوز عدت نہ گزری جان کر نکاح کرلیا تو سخت اشد فاسق وفاجر ہے-یوں ہی اگر معلوم نہ تھا اور اب معلوم ہوا اور فورا جدا نہ ہوگیا جب بھی اسپر یہی احکام ہیں اور جو لوگ دانستہ اس حرام نکاح میں شامل ہوئے اور کھایا پیا وہ بھی سخت گنہگار ہوے اور وہ حرام کھانے والے ہوے ان سب پر بھی توبہ فرض ہے" ملتقطا،(ج۵ ص ۸۵۰) اور بہار شریعت میں ہے " مطلقہ نے ایک حیض کے بعد دوسرے سے نکاح کیا اور اس دوسرے نے اس سے وطی کی پھر دونوں میں تفریق کردی گئی اور تفریق کے بعد دو حیض آئے تو پہلی عدت ختم ہوگئی مگر ابھی دوسری ختم نہ ہوئی-جب تک بعد تفریق تین حیض نہ آلیں اور تین حیض آنے پر دونوں عدتیں ختم ہوگئیں"ملتقطا،(ج ۲ ح ۸ ص ۲۳۷/المكتبة المدينه دعوت اسلامی) نیز اسی میں ہے " خاوند والی عورت تھی اور شبہتہ اس سے کسی اور نے وطی کی پھر شوہر نے اس کو طلاق دیدی ان سب صورتوں میں عورت پر دو عدتیں ہیں اور بعد تفریق دوسری عدت پہلی عدت میں داخل ہو جائے گی یعنی اب جو حیض آئیگا دونوں عدتوں میں شمار ہوگا"(حوالہ سابق) اور فتاوی رضویہ میں ہے " جبکہ اسے معلوم نہ تھا اور جس وقت معلوم ہوا فورا جدا کردیا تو اس کے حق میں کسی طرح زنا نہیں، زنا ہونا درکنار اس پر کوئی الزام بھی نہیں البتہ وہ وطی واقع میں ضرور وطی حرام تھی اور اثم مرفوع کما نصوا علیه وذالك لان الجهل فى موضع الخفاء عذر مقبول"(ج ۵ ص ۸۴۹) واللہ تعالی اعلم بالحق والصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۲۶/جمادی الآخرہ ۱۴۴۳ ھ مطابق ۲۸/جنوری ۲۰۲۲ ء</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...