Fatwa #1263
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
پانی کی ٹنکی سے اگر بندر پانی پی لے تو اس سے وضو کا حکم
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,763
سوال (Question):
پانی کی ٹنکی سے اگر بندر پانی پی لے تو اس سے وضو کا حکم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پانی کی ٹنکی سے اگر بندر پانی پی لے تو اس سے وضو کا حکم
حضرت ہمارے یہاں مسجد کے ٹینک کے پانی کا ڈھکن تھوڑا سا ٹوٹ گیا جس میں سے بندر اس میں گھس رہے تھے قریب پانچ مہینے پہلے ایک صاحب نے دیکھا تھا تو انہوں نے مسجد کے انتظامیہ کو بتایا تو انہوں نے اس پر توجہ نہ دی۔ اور آج پھر انہوں نے بندروں کو نہاتے اور پانی پیتے دیکھا۔ تو اس صورت میں ٹینک کو کس طرح سے پاک کیا جائےگا اور پانچ مہینے سے اب تک جو نمازیں وضو کر کے پڑھی گئیں ہیں تو ان نمازوں کا کیا حکم ہے؟ سائل: محمد ساجد تحسینی، بریلی شریف یو۔پی باسمه تعالٰی والصلاة و السلام علی رسوله الأعلی الجوابــــــــــــــــــــــــــ آج کل ٹینک عمومًا چھوٹے ہوتے ہیں، وہ دہ در دہ کے حکم میں نہیں ہیں اگر بندر اس میں نہائے یا اس کے منہ تک پانی پہنچے تو پانی ناپاک ہو جائےگا۔ کیوں کہ بندر کا جھوٹا ناپاک ہے۔ جوہرہ نیرہ میں ہے:’’کذا سؤر القرد نجس ایضًا لانه سبع‘‘۔(الجوھرة النیرۃ، جلد:۱، صفحہ: ۴۶، دارالکتب العلمیۃ، بیروت) رد المحتار میں ہے:’’سور خنزیر و کلب و سبع بھائم نجس‘‘۔(رد المحتار، جلد ۱، صفحہ: ۳۸۲، زکریا) بہار شریعت میں ہے:”سور، خنزیر، شیر، چیتا، بھیڑیا، ہاتھی، گیدڑ اور دوسرے درندوں کا جھوٹا ناپاک ہے” ۔ (بہار شریعت، جلد ۱، صفحہ:۳۴۲، مکتبۃ المدینہ) ٹینک کا کل پانی نکال کر اس میں سمر سیول یا ٹنکی سے اس قدر پانی ڈالا جائے کہ پانی نکل کر بہ جائے۔ المحیط البرھانی میں ہے:”حوض صغير ماؤہ فدخل الماء الطاهر فیه من جانب و سال ماء الحوض من جانب آخر کان الفقیه ابو جعفر رحمه الله یقول: کمال سال ماء الحوض من جانب الآخر یحکم بطھارة الحوض وھو اختیار الصدر الشھید رحمه اللہ و کان الفقیه ابو بکر بن سعد اللہ یقول لا یحکم بطھارة الحوض حتى یخرج منه ثلاث مرات ‘‘۔(المحیط البرھانی جلد ۱ صفحہ ۹۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت) ناپاک پانی سے وضو ہے ہی نہیں نماز کے شرائط میں سے طہارت اہم شرط ہے۔ حدیث شریف میں ہے:’’لا یقبل اللہ صلاة بغیر طھور ولا صدقة من غلول‘‘۔(سنن دارمی جلد ۱، صفحہ ۵۳۹ دار المغنی سعودیہ عربیہ) صورت مسؤلہ میں ٹینک کا کل پانی نکالا جائےگا اور جن لوگوں نے پانی نجس ہونے کے بعد جتنی نمازیں اس سے وضو کرکے پڑھی ہیں وہ ان تمام نمازوں کااعادہ کریں گے، انتظامیہ کو آگاہ کرنے کے بعد بھی توجہ نا دینے کی وجہ سے منتظمین بھی گناہ گار ہوئے۔ واللہ تعالی اعلم
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9