Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

کیا نکاح کا نذرانہ سارے اساتذہ مل کر لے سکتے ہیں از مفتی محمد نظام الدین قادری

کیا نکاح کا نذرانہ سارے اساتذہ مل کر لے سکتے ہیں از مفتی محمد نظام الدین قادری
Reference 110 September 18, 2025 5,521 views
اصل سوالکیا نکاح کا نذرانہ سارے اساتذہ مل کر لے سکتے ہیں از مفتی محمد نظام الدین قادری

نکاح خوانی کے نذرانے سے متعلق ایک صورت کا حکم


السلام علیکم ورحمتہ اللہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید امام ہے زید کی غیر موجودگی میں بکر نماز پڑھاتا ہے ۔ اس بکر نے نکاح پڑھایا تو اس نکاح کی اجرت زید کو لینا کیسا ہے ۔ بینوا توجروا.


الجواب:

       اگر نکاح بکر نے پڑھایا اورنکاح کا نذرانہ دینے والے نے وہ نذرانہ صرف بکر کو دیا تو بکر کی رضامندی کے بغیر وہ نذرانہ زید کو لینا ناجائزوحرام ہے۔ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: “ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل” (اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر نہ کھاو ۔

سورہ بقرہ: آیت ١٨٨)

    البتہ بعض جگہوں پر یہ رواج ہے کہ کسی مدرسہ میں پڑھانے والے تمام مدرسین نکاح کا نذرانہ آپس میں تقسیم کرتے ہیں ۔ اور اس رواج اور عمل درآمد کی وجہ سے لوگ نکاح کا نذرانہ اسی نیت سے دیتے ہیں کہ تمام مدرسین اس کو تقسیم کرلیں تو وہاں اس رواج اور تعامل کی وجہ سے نکاح نہ پڑھانے والا مدرس بھی نذرانہ میں شریک ہوگا؛ فان المعہود کالمشروط۔ ۔

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔

١٠/شوال المکرم ١۴۴٢ھ//٢٣/مئی ٢٠٢١ء

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.