Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1253 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.7K Views

شرابی کاجنازہ پڑھنا کیسا ہے ؟ مفتی صدام حسین فیضی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شرابی کاجنازہ پڑھنا کیسا ہے ؟ مفتی صدام حسین فیضی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شرابی کاجنازہ پڑھنا کیسا ہے ؟

السلام عليكم ورحمة الله تعالى وبركاتہ ۔ شرابی کی نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے جبکہ وہ ہمیشہ شراب کے نشہ میں رہتا ہو؟ سائل: قاری عرفان بھجواری ضلع سدھارتھ نگر ، یوپی انڈیا. بسم اللہ الرحمن الرحیم وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاتہ الجوابـــــــــــــــــ مسلمان خواہ پرہیز گار ہو یابدکار اس کے جنازہ کی نماز پڑھنا فرض کفایہ ہے حدیث پاک میں ہے: “الصلوة واجبة علی کل مسلم یموت برا کان او فاجرا وان عمل الکبائر” (سنن ابي داؤد ، حدیث نمبر: 2533 كتاب الجهاد ، باب فی الغزو مع ائمة الجور) يعني ہر مسلمان کی نماز جنازہ واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا برا اگرچہ مرتکب کبیرہ ہو. لہذا صورت مستفسرہ میں اگرچہ شرابی ارتکاب حرام کے سبب سخت فاسق وفاجر اور بدکار ہے مگر اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔ کماورد فی الحدیث السابق ۔ فتاوی فیض الرسول میں ہے : “جب کوئی مسلمان مرجائے خواہ متقی و پرہیز گار ہو یا شرابی وبدکار اسلامی طریقہ پر اس کی تجہیزو تکفین کرنا اور جنازہ کی نماز پڑھنا ہر اس مسلمان پر فرض کفایہ ہے جس کو موت کی اطلاع ہوجائے.” اھ (ج :1 ص:440 کتاب الجنائز ) کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء

Kutubahu & Verified by:

<h2>شرابی کاجنازہ پڑھنا کیسا ہے ؟</h2> السلام عليكم ورحمة الله تعالى وبركاتہ ۔ شرابی کی نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے جبکہ وہ ہمیشہ شراب کے نشہ میں رہتا ہو؟ سائل: قاری عرفان بھجواری ضلع سدھارتھ نگر ، یوپی انڈیا. بسم اللہ الرحمن الرحیم وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــ</strong></span> مسلمان خواہ پرہیز گار ہو یابدکار اس کے جنازہ کی نماز پڑھنا فرض کفایہ ہے حدیث پاک میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"الصلوة واجبة علی کل مسلم یموت برا کان او فاجرا وان عمل الکبائر"</strong></span> (سنن ابي داؤد ، حدیث نمبر: 2533 كتاب الجهاد ، باب فی الغزو مع ائمة الجور) يعني ہر مسلمان کی نماز جنازہ واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا برا اگرچہ مرتکب کبیرہ ہو. لہذا صورت مستفسرہ میں اگرچہ شرابی ارتکاب حرام کے سبب سخت فاسق وفاجر اور بدکار ہے مگر اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔ کماورد فی الحدیث السابق ۔ فتاوی فیض الرسول میں ہے : "جب کوئی مسلمان مرجائے خواہ متقی و پرہیز گار ہو یا شرابی وبدکار اسلامی طریقہ پر اس کی تجہیزو تکفین کرنا اور جنازہ کی نماز پڑھنا ہر اس مسلمان پر فرض کفایہ ہے جس کو موت کی اطلاع ہوجائے." اھ (ج :1 ص:440 کتاب الجنائز ) <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...