Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1259 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.4K Views

مسجد کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مسجد کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مسجد کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کیسا ہے ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ! کیا فرماتے ہیں علمائے ذوی الاحترام ومفتیان ذوی احتشام مسئلہ مندرجہ ذیل کے متعلق کہ! ایک گاؤں میں مسجد کی بنیاد رکھی گئی جس کی دیواریں کم و بیش ۳یا۴ فٹ ہو گئیں ہیں پھر گاؤں والوں نے جب مسجد جانے کے راستے پر غور کیا تو پتہ چلا کہ مسجد کی مجیئت و ذھاب کا جو راستہ ہے وہ نہایت ہی تنگ ہے جس سے مسجد آنے جانے والوں کو کافی دقتیں اور صعوبتیں برداشت کرنی پڑینگی ۔تو اب گاؤں کے جملہ حضرات مع واقف زمین کے اس مسجد کو (جو محل اول میں بننی تھی )محل ثانی کی طرف(جہاں کہ کشادہ راستہ ہے ) منتقل کرنا چاہتے ہیں ۔اور ابھی تک اس میں نماز بھی نہیں ہوئی ہے نہ انفرادی طور پر اور نہ ہی باجماعت ۔۔ آیا اس مسجد کو جو محل اول میں بنائی جانے والی تھی اسے محل ثانی کی طرف منتقل کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر منتقل کر سکتے ہیں تو پھر اس پہلی جگہ کا کیا کریں؟ اور اگر نہیں منتقل کر سکتے تو پھر کیا صورت اختیار کی جائے؟ مستفتیان : جملہ مسلمانان سالارپوروہ نزد مہین پوروہ بازار ضلع بہرائچ شریف یوپی الہند ۔۔۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ الجواب اللہم ھدایۃ الحق والصواب مسجد ہونے کے لئے عمارت مسجد کامکمل ہوجانا یا اس میں نماز پڑھنا ضروری نہیں بلکہ واقف کا زبان سے صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نےاس زمین کو مسجد کیا درمختار میں ہے: “ويزول ملكه عن المسجد والمصلي بالفعل وبقوله جعلته مسجداعند الثاني” (ج: ٦ ص: ٥٤٤ – ٥٤٥ كتاب الوقف) مجدد دین وملت سرکار اعلی حضرت رضي الله تعالي عنه تحریر فرماتے ہیں: “مسجد مذھب راجح پر واقف کے صرف اس کہنے سے کہ میں نے اس زمین کو مسجد کیا بجمیع اجزائہ مسجد ہوجاتی ہے” اھ ملخصا (فتاوی رضویہ مترجم ج: ۸ ص: ٧۰ باب احکام المسجد) صدرالشریعہ علامہ امجد علی تحریر فرماتے ہیں : “مسجد جس کی عمارت نامکمل رہی اگر بنانے والے نے اسے مسجد کردایا یعنی زبان سے کہہ دیا کہ اس زمین کو میں نے مسجد کیا تو وہ مسجد ہوگئی کہ مسجد ہونے کے لئے اس میں نماز ہونا ضرور نہیں بلکہ یہ کہہ دینے سے بھی مسجد ہوجاتی ہے کہ میں نے اسے مسجد کیا” اھ (فتاوی امجدیہ ج: ٣ ص: ١٣٤ باب المسجد) لہذا صورمستفسرہ میں اگرچہ محل اول میں بننے والی مسجد میں نماز نہیں ہوئی لیکن اگر واقف نے اسے مسجد کردیا تو وہ مسجد ہوگئی اب دوسرے مسلمان تو درکنار اگر واقف بھی اسے محل ثانی میں منتقل کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا کہ وہ واقف کی ملک نہ رہی بلکہ خالص اللہ تعالی کی ملک ہوگئی قرآن پاک میں ہے: “وَاَنّ المَسٰجِدَ لِلّٰہِ”(سورة الجن 72 : 18) اور یہ کہ مسجدیں اللہ تعالی ہی کی ہیں (کنزالایمان) فتاوی امجدیہ ج: ٣ ص: ١٤٦ پر ہے: “جب اس مسجد کامسجد ہونا ثابت ہوگیا تو اب اگرچہ بنانے والا چاہے بھی کہ میں اپنی ملک قرار دےدوں تو نہیں کرسکتا” اھ ہاں یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہےکہ محل اول کی مسجد کی تعمیر مکمل کرکے اسے آباد رکھا جائے اور محل ثانی میں بھی مسجد بناکر اسے آباد رکھاجائے. واللہ تعالی اعلم بالصواب . الجواب صحيح مفتي نظام الدين عليمي صدر شعبہ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی یوپی انڈیا. کتبہ:گدائےحضوررئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء

Kutubahu & Verified by:

<h2>مسجد کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کیسا ہے ؟</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ! کیا فرماتے ہیں علمائے ذوی الاحترام ومفتیان ذوی احتشام مسئلہ مندرجہ ذیل کے متعلق کہ! ایک گاؤں میں مسجد کی بنیاد رکھی گئی جس کی دیواریں کم و بیش ۳یا۴ فٹ ہو گئیں ہیں پھر گاؤں والوں نے جب مسجد جانے کے راستے پر غور کیا تو پتہ چلا کہ مسجد کی مجیئت و ذھاب کا جو راستہ ہے وہ نہایت ہی تنگ ہے جس سے مسجد آنے جانے والوں کو کافی دقتیں اور صعوبتیں برداشت کرنی پڑینگی ۔تو اب گاؤں کے جملہ حضرات مع واقف زمین کے اس مسجد کو (جو محل اول میں بننی تھی )محل ثانی کی طرف(جہاں کہ کشادہ راستہ ہے ) منتقل کرنا چاہتے ہیں ۔اور ابھی تک اس میں نماز بھی نہیں ہوئی ہے نہ انفرادی طور پر اور نہ ہی باجماعت ۔۔ آیا اس مسجد کو جو محل اول میں بنائی جانے والی تھی اسے محل ثانی کی طرف منتقل کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر منتقل کر سکتے ہیں تو پھر اس پہلی جگہ کا کیا کریں؟ اور اگر نہیں منتقل کر سکتے تو پھر کیا صورت اختیار کی جائے؟ مستفتیان : جملہ مسلمانان سالارپوروہ نزد مہین پوروہ بازار ضلع بہرائچ شریف یوپی الہند ۔۔۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللہم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> مسجد ہونے کے لئے عمارت مسجد کامکمل ہوجانا یا اس میں نماز پڑھنا ضروری نہیں بلکہ واقف کا زبان سے صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نےاس زمین کو مسجد کیا درمختار میں ہے: "ويزول ملكه عن المسجد والمصلي بالفعل وبقوله جعلته مسجداعند الثاني" (ج: ٦ ص: ٥٤٤ - ٥٤٥ كتاب الوقف) مجدد دین وملت سرکار اعلی حضرت رضي الله تعالي عنه تحریر فرماتے ہیں: "مسجد مذھب راجح پر واقف کے صرف اس کہنے سے کہ میں نے اس زمین کو مسجد کیا بجمیع اجزائہ مسجد ہوجاتی ہے" اھ ملخصا (فتاوی رضویہ مترجم ج: ۸ ص: ٧۰ باب احکام المسجد) صدرالشریعہ علامہ امجد علی تحریر فرماتے ہیں : "مسجد جس کی عمارت نامکمل رہی اگر بنانے والے نے اسے مسجد کردایا یعنی زبان سے کہہ دیا کہ اس زمین کو میں نے مسجد کیا تو وہ مسجد ہوگئی کہ مسجد ہونے کے لئے اس میں نماز ہونا ضرور نہیں بلکہ یہ کہہ دینے سے بھی مسجد ہوجاتی ہے کہ میں نے اسے مسجد کیا" اھ (فتاوی امجدیہ ج: ٣ ص: ١٣٤ باب المسجد) لہذا صورمستفسرہ میں اگرچہ محل اول میں بننے والی مسجد میں نماز نہیں ہوئی لیکن اگر واقف نے اسے مسجد کردیا تو وہ مسجد ہوگئی اب دوسرے مسلمان تو درکنار اگر واقف بھی اسے محل ثانی میں منتقل کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا کہ وہ واقف کی ملک نہ رہی بلکہ خالص اللہ تعالی کی ملک ہوگئی قرآن پاک میں ہے: "وَاَنّ المَسٰجِدَ لِلّٰہِ"(سورة الجن 72 : 18) اور یہ کہ مسجدیں اللہ تعالی ہی کی ہیں (کنزالایمان) فتاوی امجدیہ ج: ٣ ص: ١٤٦ پر ہے: "جب اس مسجد کامسجد ہونا ثابت ہوگیا تو اب اگرچہ بنانے والا چاہے بھی کہ میں اپنی ملک قرار دےدوں تو نہیں کرسکتا" اھ ہاں یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہےکہ محل اول کی مسجد کی تعمیر مکمل کرکے اسے آباد رکھا جائے اور محل ثانی میں بھی مسجد بناکر اسے آباد رکھاجائے. واللہ تعالی اعلم بالصواب . <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح مفتي نظام الدين عليمي</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>صدر شعبہ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی یوپی انڈیا.</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:گدائےحضوررئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...