Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

کفر و شرک کسے کہتے ہیں؟کفر و شرک سے روزانہ توبہ کرنا مفتی محمد نظام الدین قادری

کفر و شرک کسے کہتے ہیں؟کفر و شرک سے روزانہ توبہ کرنا مفتی محمد نظام الدین قادری
Reference 111 September 18, 2025 5,626 views
اصل سوالکفر و شرک کسے کہتے ہیں؟کفر و شرک سے روزانہ توبہ کرنا مفتی محمد نظام الدین قادری

شرک وکفر سے متعلق چند سوالات کے جوابات


حضور مفتی علیمیہ حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں چند معروضات ۔ امید ہے کہ حضور جلد ہی جواب مل جائے گا ۔ 

سوال ١- کفر و شرک کسے کہتے ہے ۔

سوال -٢ کفر و شرک سے احتیاطا روزانہ توبہ کرنا کیسا ہے

سوال -٣ اگر کسی کو کفر و شرک کا علم نہ ہو اور وہ کفر و شرک بک دے تو اسپر کیا حکم لگےگا ۔

سوال -٤ اگر کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسنے کفر و شرک کیا ہے اور بغیر توبہ کے وفات کر گیا تو اسکا کیا حکم ہوگا-

المستفتی :امتیاز احمد رضوی متعلم مدرسہ الجامعة الاسلاميہ سدرہ جموں کشمیر


الجواب، اللہم ہدایة الحق والصواب:

(١) شرک، توحید کی ضد ہے اور عقیدہ توحید کا بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں:

“ﷲ(عزوجل) ایک ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ، نہ ذات میں ، نہ صفات میں ، نہ افعال میں نہ احکام میں، نہ اسماء میں”

(بہار شریعت ح ١ ص ۴)

          اور شرک کی وضاحت نیز کفر وشرک کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

“شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا، یعنی اُلوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا، اور یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے، اس کے سوا کوئی بات اگرچہ کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں ، ولہٰذا شرعِ مطہّر نے اہلِ کتاب کفّار کے احکام مشرکین کے احکام سے جدا فرمائے، کتابی کا ذبیحہ حلال، مشرک کا مُردار، کتابیہ سے نکاح ہو سکتا ہے، مشرکہ سے نہیں ہوسکتا، امام شافعی کے نزدیک کتابی سے جزیہ لیا جائے گا، مشرک سے نہ لیا جائے گا ۔

   اور کبھی شرک بول کر مطلق کفر مراد لیا جاتا ہے ۔ یہ جو قرآنِ عظیم میں فرمایا: کہ’’شرک نہ بخشا جائے گا‘‘ وہ اسی معنی پر ہے، یعنی اَصلاً کسی کفر کی مغفرت نہ ہوگی، باقی سب گناہ ﷲ عزوجل کی مشیت پر ہیں ، جسے چاہے بخش دے”

(بہار شریعت ح ١ ص١٨۵ ، ١٨٦ )

         مذکورہ بالا بیانوں سے واضح ہے کہ شرک خاص ہے اور کفر عام ہے، کیوں کہ کفر، کسی بھی ایسی چیز کے تکذیب وانکار کو کہتے ہیں جس کا دین سے ہونا ہر خاص وعام مسلمان پر روشن ہو، اسی لیے نماز، روزہ کی فرضیت کا انکار کفر ہے مگر شرک نہیں۔

لیکن کہیں شرک بول کر وہی کفر کا معنی مراد لیا جاتاہے، اور کفر ہو یا شرک یہ دونوں ایسے سنگین جرم ہیں جو پروردگار کے یہاں ناقابلِ معافی ہیں ۔

سوال -٢ کفر و شرک سے احتیاطا روزانہ توبہ کرنا کیسا ہے

جواب : کفر وشرک سے روزآنہ احتیاطاً توبہ کرنا ایک بہت ہی پسندیدہ اور محمود عمل ہے، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو شرک سے توبہ کرتے رہنے کی تعلیم وتلقین فرمائی ہے ۔

صدر الشریعہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

“کفر و شرک سے بدتر کوئی گناہ نہیں اور وہ بھی ارتداد کہ یہ کفر اصلی سے بھی باعتبار احکام سخت ترہے جیسا کہ اس کے احکام سے معلوم ہوگا۔ مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پناہ مانگتا رہے کہ شیطان ہر وقت ایمان کی گھات میں ہے ۔ اور حدیث میں فرمایا کہ شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح تیرتا ہے۔

آدمی کو کبھی اپنے اوپر یا اپنی طاعت واعمال پر بھروسا نہ چاہیے، ہر وقت خدا پر اعتماد کرے، اور اسی سے بقائے ایمان کی دعا چاہے، کہ اسی کے ہاتھ میں قلب ہے اور قلب کو قلب اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ لَوٹ پَوٹ ہوتا رہتا ہے ۔

       ایمان پر ثابت رہنا اسی کی توفیق سے ہے جس کے دستِ قدرت میں قلب ہے اور حدیث میں فرمایا کہ شرک سے بچو کہ وہ چیونٹی کی چال سے زیادہ مخفی ہے۔ اور اس سے بچنے کی حدیث میں ایک دعا ارشاد فرمائی اسے ہر روز تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ شرک سے محفوظ رہوگے، وہ دعا یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ۔”

(بہار شریعت ح٩ ص۴۵٧ ، ۴۵٨)

سوال -٣ اگر کسی کو کفر و شرک کا علم نہ ہو اور وہ کفر و شرک بک دے تو اسپر کیا حکم لگےگا ۔

جواب : 

     لاعلمی میں کفری بات بک دینے کی صورت میں توبہ اور تجدید ایمان اور تجدیدِ نکاح کا حکم دیا جائے گا۔

علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ زیر قول در مختار ” وشرائط صحتہا العقل والصحو والطوع” تحریر فرماتے ہیں:

“(قَوْلُهُ وَالطَّوْعُ) أَيْ الِاخْتِيَارُ احْتِرَازًا عَنْ الْإِكْرَاهِ، وَدَخَلَ فِيهِ الْهَازِلُ، كَمَا مَرَّ؛ لِأَنَّهُ يُعَدُّ مُسْتَخِفًّا لِتَعَمُّدِهِ التَّلَفُّظَ بِهِ، وَإِنْ لَمْ يَقْصِدْ مَعْنَاهُ۔ وَفِي الْبَحْرِ عَنْ الْجَامِعِ الْأَصْغَرِ: إذَا أَطْلَقَ الرَّجُلُ كَلِمَةَ الْكُفْرِ عَمْدًا، لَكِنَّهُ لَمْ يَعْتَقِدْ الْكُفْرَ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: لَا يَكْفُرُ لِأَنَّ الْكُفْرَ يَتَعَلَّقُ بِالضَّمِيرِ وَلَمْ يَعْقِدْ الضَّمِيرَ عَلَى الْكُفْرِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَكْفُرُ وَهُوَ الصَّحِيحُ عِنْدِي لِأَنَّهُ اسْتَخَفَّ بِدِينِهِ. اهـ. ثُمَّ قَالَ فِي الْبَحْرِ وَالْحَاصِلُ: أَنَّ مَنْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لِلْكُفْرِ هَازِلًا أَوْ لَاعِبًا كَفَرَ عِنْدَ الْكُلِّ وَلَا اعْتِبَارَ بِاعْتِقَادِهِ، كَمَا صَرَّحَ بِهِ فِي الْخَانِيَّةِ، وَمَنْ تَكَلَّمَ بِهَا مُخْطِئًا أَوْ مُكْرَهًا لَا يَكْفُرُ عِنْدَ الْكُلِّ، وَمَنْ تَكَلَّمَ بِهَا عَامِدًا عَالِمًا كَفَرَ عِنْدَ الْكُلِّ وَمَنْ تَكَلَّمَ بِهَا اخْتِيَارًا جَاهِلًا بِأَنَّهَا كُفْرٌ فَفِيهِ اخْتِلَافٌ اهـ” ۔

(رد المحتار)

اور امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:

“مسئلہ شرعیہ کو نئے مولویوں کی فتنہ انگریزی کہنا اگر براہِ جہالت نہ ہو کلمہ کفر ہے کہ توہینِ شریعت ہے” (فتاوی رضویہ ج ٢ ص۴٢٢)

نیز ایک دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں:

“پھرجب کہ ائمہ دین ان کے کفر میں مختلف ہو گئے تو راہ یہ ہےکہ اگر اپنا بھلا چاہیں، جلد از سرِ نو کلمہ اسلام اور اپنے مذہب نامہذب کی تکذیبِ صریح اور اس کے رد و تقبیح کی صاف تصریح کریں، ورنہ بطورِ عادت کلمہ شہادت کافی نہیں، کہ یہ تو وہ اب بھی پڑھتے ہیں اور اسے اپنے مذہب کا رد نہیں سمجھتے ۔

بحر الرائق میں بزازیہ و جامع الفصولین سے ہے :”لواتی باشہادتین علی وجہ العادۃ لم ینفعہ مالم یرجع عماقال”۔

اور جس طرح اس مذہبِ خبیث کا اعلان کیاہے ، ویسے ہی توبہ و رجوع کا صاف اعلان کریں، کہ توبہ نہاں کی نہاں ہے اورعیاں کی عیاں۔ حضور پر نور سید یوم النشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:اذا عملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ ، السر بالسر، والعلانیۃ بالعلانیۃ ۔ رواہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی المعجم الکبیر بسند حسن علی اصولنا عن معاذ بن جیل رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

اس سب کے بعد اپنی عورتوں سے تجدیدِ نکاح کریں کہ کفر خلافی کا حکم یہی ہے۔ علامہ حسن شرنبلالی شرح وہبانیہ پھر علامہ علائی شرح تنویر میں فرماتے ہیں:

“مایکون کفرا اتفاقاً یبطل العمل والنکاح، واولادہ اولاد زنی ۔ وما فیہ خلاف یومر بالاستغفاروالتوبۃ و تجدید النکاح”

(فتاوی رضویہ ج١۵ص٨٢ نسخہ دعوت اسلامی ایپ، رسالہ ” سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح”)

سوال -٤ اگر کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسنے کفر و شرک کیا ہے اور بغیر توبہ کے وفات کر گیا تو اسکا کیا حکم ہوگا-

(۴) جیسا کہ جواب نمبر (٣) میں گزرا کہ از راہِ جہالت کفری قول کی وجہ سے تکفیر میں اختلاف اقوال ائمہ ہے۔ اور جس قول کے کفر ہونے میں اختلافِ ائمہ ہو وہاں متکلمین کے مذہب احوط واسد کے مطابق اگرچہ تکفیر نہیں کی جاتی۔مگر بعض ائمہ کا تکفیر کرنا کیا کچھ کم شناعت ہے؟

ایسے شخص کامعاملہ اللہ عفو وغفور کی مشیئت پر ہے، اگر سزا دے اس کا عدل ہے، اور اگر معاف فرمائے اس کا فضل ہے ۔

نسال اللہ الکریم العصمة والسداد، وھو ذو الفضل العظیم وھو سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔

١٠/شوال المکرم (یوم میلاد الامام احمد رضا رحمہ اللہ تعالی)١۴۴٢ھ//٢٣/مئی ٢٠٢١ء


زکوٰۃ فطرہ کی رقم مسجد میں لگانے کا حکم

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.