Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1263 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.8K Views

غسل کی حاجت ہو اور فجر کا وقت تنگ ہو تو کیا تیمم جائز ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

غسل کی حاجت ہو اور فجر کا وقت تنگ ہو تو کیا تیمم جائز ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

غسل کی حاجت ہو اور فجر کا وقت تنگ ہو تو کیا تیمم جائز ہے؟

سوال :ایک شخص کو غسل کی حاجت ہے اتفاق سے اس کی آنکھ ایسے وقت کھلی جب کہ فجر کی نماز کا وقت بہت تنگ ہو گیا کہ اگر غسل کرے تو نماز قضا ہو جائے گی. تو کیا ایسا شخص غسل کا تیمم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ جب کہ نماز کا وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ جلدی سے غسل کرکے نماز نہیں پڑھ سکتا تو اگر جسم پر کہیں نجاست لگی ہو تو اسے دھو کر غسل کا تیمم کرے اور وضو بنا کر نماز پڑھ لے. پھر غسل کرے اور سورج بلند ہونے کے بعد نماز دوبارہ پڑھے. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 584 میں ہے. مگر یہ اس صورت میں ہے جب کہ کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے اور سارے بدن پر پانی بہانے کے بعد دو رکعت فرض پڑھنے بھر کا بھی وقت نہیں ہے اور اگر اتنا وقت ہے لیکن صابن وغیرہ لگا کر اہتمام سے نہانے بھر کا وقت نہیں ہے تو فرض ہے کہ صابن وغیرہ کے بغیر غسل کے نماز پڑھے. اس صورت میں اگر تیمم کر کے نماز پڑھی تو سخت گناہ گار ہوگا. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ ١٧١

Kutubahu & Verified by:

<h2>غسل کی حاجت ہو اور فجر کا وقت تنگ ہو تو کیا تیمم جائز ہے؟</h2> سوال :ایک شخص کو غسل کی حاجت ہے اتفاق سے اس کی آنکھ ایسے وقت کھلی جب کہ فجر کی نماز کا وقت بہت تنگ ہو گیا کہ اگر غسل کرے تو نماز قضا ہو جائے گی. تو کیا ایسا شخص غسل کا تیمم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــ</strong></span> جب کہ نماز کا وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ جلدی سے غسل کرکے نماز نہیں پڑھ سکتا تو اگر جسم پر کہیں نجاست لگی ہو تو اسے دھو کر غسل کا تیمم کرے اور وضو بنا کر نماز پڑھ لے. پھر غسل کرے اور سورج بلند ہونے کے بعد نماز دوبارہ پڑھے. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 584 میں ہے. مگر یہ اس صورت میں ہے جب کہ کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے اور سارے بدن پر پانی بہانے کے بعد دو رکعت فرض پڑھنے بھر کا بھی وقت نہیں ہے اور اگر اتنا وقت ہے لیکن صابن وغیرہ لگا کر اہتمام سے نہانے بھر کا وقت نہیں ہے تو فرض ہے کہ صابن وغیرہ کے بغیر غسل کے نماز پڑھے. اس صورت میں اگر تیمم کر کے نماز پڑھی تو سخت گناہ گار ہوگا. واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ ١٧١</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...