01
The questionSawaal
اصل سوالشیعہ عورت سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ از علامہ کمال احمد علیمی
02
The responseAl-Jawab
شیعہ عورت سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ از علامہ کمال احمد علیمی
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا نکاح اول سنی صحیح العقیدہ سے ہوا اور نکاح ثانی شیعہ سے اور دونوں سے ہی اولاد نہیں ہوئی اور ایک قول کے مطابق منکوحہ ثانیہ کو زید نے طلاق بھی دے دیا تھا مگر اس پر زید کے انتقال کے بعد کوئی گواہ موجود نہیں ہے جسے ایک لوکل کورٹ میں پیش کیا جا سکے۔۔۔۔لیکن کیا کسی مسلم کا نکاح غیر مسلم عورت سے ہو سکتا ہے؟ نیز یہ مسلہ بھی درپیش ہے کہ اگر نکاح ہو گیا تھا تو کیا وراثت کا حقدار اس عورت کا کوئی رشتہ دار ہو سکتا ہے جبکہ نکاح اول کے رشتہ دار موجود ہیں۔(یہ مسلہ ما قبل والے سے جڑا ہوا ہے،وہ پہلی منکوحہ تھی اور یہ منکوحہ ثانیہ ہے جو مسلکا شیعہ تھی اور اس کا اعتراف خود اس کے وہ رشتہ دار کر رہے ہیں جو خود کو بھی وراثت کا مستحق مانتے ہیں۔) قرآن و احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ المستفتی خادم حسین الجواب بعون اللہ الوھاب برصغیر ہندوپاک میں عموماً اثنا عشری شیعہ پائے جاتے ہیں جو رافضی تبرائی ہوتے ہیں، شیخین اورعام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنھم سے بغض رکھتے ہیں اور طرح طرح کے کفریہ عقائد رکھتے ہیں ۔ چنانچہ فقیہ اسلام، امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ ان کے تعلق سے فرماتے ہیں : ” رافضی تبرائی جو حضرات شیخین سیدنا ابوبکر صدیق و سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما خواہ ان میں سے کسی ایک کی شان پاک میں گستاخی کرے اگر چہ صرف اسی قدر کہ امام و خلیفہ برحق نہ مانے کتب معتمدہ مع فقہ حنفی تصریحات عامہ ائمہ تصریح وفتوی کی تصحیحات پر مطلقا کافر ہے، فتح القدیر مطبع مصر جلداول میں ہے: فی الروافض من فضل علیا علی الثلاثة فمبتدع و ان انکر خلافۃ الصدیق او عمر رضی اللہ عنہما فھو کافر. یعنی رافضیوں میں جو شخص مولی علی کو خلفاۓ ثلثہ (سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمرفاروق، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہم سے افضل کہے گمراہ ہے اور اگر صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما کی خلافت کا انکار کرے تو وہ کافر ہے ۔(ردالرفضه:۲۷٢ ) بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفارمرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زناہے.. ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول سلام و کلام سخت کبیره اشد حرام (ردالرفضۃ:٢٣) مزید فرماتے ہیں : آج کل کے رافضی تبرائی علی العموم کافر مرتد ہیں، شاید ان میں گنتی کے ایسے نکلیں جو اسلام سے کچھ حصہ رکھتے ہوں، ان کا عام عقیدہ یہ ہے کہ یہ قرآن شریف جو بحمد اللہ تعالٰی ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے یہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد پورا نہ رہا، اس میں سے کچھ پارے یا سورتیں یا آیتیں صحابہ کرام اور اہلسنت نے معاذاللہ کم کردیں، اور یہ بھی ان کے چھوٹے بڑے سب مانتے ہیں کہ حضرت مولا علی ودیگر ائمہ اطہار کرم اللہ تعالٰی وجوہہم اگلے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے افضل تھے، یہ دونوں عقیدے خالص کفر ہیں جو شخص قرآن مجید سے ایک حرف، ایک نقطہ کی نسبت ادنٰی احتمال کے طور پر کہے کہ شاید کسی نے گھٹا دیا یا بڑھادیا یابدل دیا ہو وہ کافر ہے اور قرآن عظیم کا منکر۔ یونہی جو کسی غیرِ نبی کو کسی نبی سے افضل بتائے وہ بھی کافر۔اور جبکہ ان اشقیاء نے باوصف ادعائے اسلام عقائد کفر اختیار کئے تو مرتد ہوئے،فتاوٰی عالمگیری میں ہے: “ھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام و احکامھم احکام المرتدین۔” اور مرتد کے ہاتھ کا ذبیحہ نراحرام ومردار سوئر کی مانند ہے اگرچہ اس نے لاکھ تکبیریں پڑھ کر ذبح کیا ہو،درمختارمیں ہے: “لاتحل ذبیحۃ غیر کتابی من وثنی ومجوسی و مرتد۔” : (فتاوی رضویہ ج٨ص٣٢٩) معلوم ہوا کہ عصر حاضر کے روافض کافر مرتد ہیں اور مرتد سے کسی بھی طرح کا معاملہ ناجائز ہے. حدیث شریف میں ہے : ایاکم و ایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم إن مرضوا فلا تعودوھم و إن ماتوا فلا تشھدوھم و إن لقیتموھم فلا تسلموا ھم ولا تجالسوھم و لا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحو ھم ولا تصلوا علیھم و لا تصلوا معهم” (کنزالعمال حدیث ۳۲۵۲۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۴۰) فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں : ” معاملہ ہر کافر سے ہر وقت جائز ہے مگر مرتدین سے ” ( فتاوی رضویہ ١٤/ ٥٩٧) لہذا کسی بھی مسلمان کا نکاح شیعہ عورت سے نہیں ہوسکتا ہے فتاویٰ عالمگیری میں ہے: فلا يجوز له أن يتزوج امرأة مسلمة ولا مرتدة ولا ذمية ولا حرة ولا مملوکة. (فتاویٰ عالمگیری ٣/ ٥٨٠) فتاوی فیض الرسول میں ہے: نبی کریم علیہ السلام فرماتے ہیں : وان مرضوا فلا تعودوھم وان ماتوا فلا تشھدوھم وان لقیتموھم فلا تسلموا علیھم ولا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوھم ولا تصلوا علیھم ولا تصلوا معھم ۔ ترجمہ: اگر بدمذہب بد دین بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے نہ جاؤ اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازہ پر حاضر نہ ہو۔ اور ان کا سامنا ہو تو سلام نہ کرو۔ ان کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ نہ پیو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ۔ ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو، ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو ۔ یہ حدیث شریف ابو داؤد، ابن ماجہ، عقیلی اور ابن حبان کی روایات کا مجموعہ ہے ۔ لہٰذا حدیث شریف سے واضح ہو گیا کہ وہابیوں، دیوبندیوں، مودودی جماعت والوں تبلیغی جماعت والوں اور رافضیوں سے شادی بیاہ کرنا، ان سے میل جول رکھنا ناجائز و حرام ہے ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔ (فتاویٰ فیض الرسول ج ١ کتاب النکاح ص ٦٠٤) اور جب شیعہ عورت سے نکاح ہی نہیں ہوا تو خود اس عورت یا اس کے رشتے داروں کا ترکہ میں کوئی حق نہیں ہے۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں، اُنکے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے، ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے، معاذ اللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الٰہی ہے۔ اگر مرد سُنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو جب بھی ہر گز نکاح نہ ہو گا محض زنا ہو گا، اولاد ولد الزنا ہوگی، باپ کا ترکہ نہ پائےگی اگرچہ اولاد بھی سُنی ہی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں، عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی، کہ زانیہ کے لئے مہر نہیں، رافضی اپنے کسی قریب حتی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پاسکتا۔ سُنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلا کچھ حصہ نہیں۔ ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول ، سلام کلام سب سخت کبیرہ اشد حرام، جوان کے ان ملعون عقیدوں پرآگاہ ہوکر پھر بھی انھیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے باجماع تمام ائمہ دین خود کافر بے دین ہے، اور اُس کےلئے بھی یہی سب احکام ہیں جو اُن کےلئے مذکور ہُوئے ،مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس فتوی کو بگوش ہوش سنیں ۔ اور اس پر عمل کرکے سچے پکے مسلمان سنی بنیں۔” (فتاوی رضویہ ج١٠ ص۵٢٧) تنبیہ :جو بد مذہب دینِ اسلام کی ضروری باتوں سے کسی بات میں شک نہ کرتا ہو، صرف ان سے نیچے درجہ کے عقیدوں میں مخالف ہو، جیسے رافضیوں میں تفضیلی ، یا وہابیوں میں اسحاقی وغیرہم وہ اگر چہ گمراہ ہے کافر نہیں اس کے ہاتھ کاذبیحہ حلال ہے” (فتاوی رضویہ ج٨ص٣٢٩) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢٦جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ / ٣٠جنوری ٢٠٢٢ء الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.