Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1268
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.4K Views
دیوبندی صف میں کھڑاہوجائے تو نماز مکروہ ہوگی؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
دیوبندی صف میں کھڑاہوجائے تو نماز مکروہ ہوگی؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
دیوبندی صف میں کھڑاہوجائے تو نماز مکروہ ہوگی؟
جو دیوبندی علمائے دیوبند کے عقائد باطلہ نہ جانتا ہو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں
سوال : کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ وہابی دیوبندی اگر سنی کی صف میں جماعت کے ساتھ شریک ہو جائے تو سنی صحیح العقیدہ کی نماز ہو گی یا نہیں نیز دیہات کے نام کے دیوبندی جنہیں علماء دیوبندی کے عقائد کی معلومات نہ ہو ان پر حکم کفر ہو گا یا نہیں تفصیلی جواب عنایت فرمادیں۔حضرت مع حوالہ جلد جواب عطا فرمادیں سخت ضرورت ہے ۔ المستفتی خوشتر نورانی ہمت نگر گجرات انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب وہابی، دیوبندی اپنے کفری عقائد کی بنا پر کافر و مرتد ہیں اس کا روشن بیان اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے رسالہ الکوکبۃ الشہابیہ والنہی الاکید وغیرہ میں ہے اور کافر کی نماز باطل تو وہ جہاں کھڑا ہو گا وہ جگہ شرعاً خالی ہوگی تو قطع صف ہوگا اور قطع صف حرام ہے حضور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ” مَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ “. (سنن ابی داؤد باب تسویۃ الصفوف حدیث نمبر٦٦٦) یعنی جو صف کو ملائے اللہ تعالی اپنی رحمت سے اسے ملائے اور جو صف کو کاٹے اللہ تعالی اسے اپنی رحمت سے جدا کرے اور قطع صف کی وجہ سے نماز مکروہ تحریمی ہوگی مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کو مسجد میں آنے سے روکیں۔ اگر قدرت کے باوجود نہیں روکیں گے تو گنہگار اور مستحق وعید عذاب ہوں گے اور اگرصرف ایک ہی صف ہواور اس کے کنارہ پر بدعقیدہ کھڑاہو تو اس صورت میں اگرچہ فی الحال قطع صف نہیں مگر ہوسکتا ہے کہ کوئی مسلمان بعد کو آئے اور اس بدمذہب کے برابر یادوسری صف میں کھڑا ہو تو قطع صف ہوجائے گا ۔ اور جس طرح حرام کام کا کرنا حرام ہے یونہی وہ کام کرنا جس سے حرام کام کاسامان مہیا اور اس کا اندیشہ حاصل ہو وہ بھی ممنوع ہے۔ اسی لئے حدود اللہ کے قریب جانا بھی ممنوع ہے ۔ قرآن پاک میں ہے: “تلک حدوداﷲ فلاتقربوھا الآیۃ “ (سورۃ البقرۃ آیت ١٨٧) ترجمہ کنزالایمان: یہ اللہ تعالی کی حدیں ہیں ان کے قریب نہ جاؤ مع ھذا ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: “لاتصلوا علیھم ولاتصلوا معھم اھ” (کنزالعمال الفصل الاول فی فضائل الصحابہ اجمالا جلد 11 صفحہ 540) یعنی نہ بدمذہبوں کے جنازہ کی نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو ۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ کتاب الصلاۃ باب الجماعۃ جلد٧ صفحہ ١٥١ و ١٥٢ پر ہے۔ فتاوی امجدیہ میں ہے: “غیر مقلدین کا جماعت اہلسنت میں شامل ہونا قطع صف ہوگا اور یہ مکروہ ہے”اھ ملخصا. (کتاب الصلاۃ باب الجماعۃ جلد اول صفحہ ١٦٨) فتاوی فیض الرسول میں ہے: “جماعت میں غیر مقلدوں کے شامل ہونے سے بے شک نماز میں خرابی پیدا ہوتی ہے اس لئے کہ ان کی نماز باطل ہےتو جس صف کے بیچ وہ کھڑے ہوتے ہیں شریعت کے نزدیک وہ جگہ خالی ہوتی ہے جس سے صف قطع ہوتی ہے اور قطع صف حرام ہے حنفیوں پر لازم ہے کہ ان کو اپنی مسجد میں آنے سے منع کریں اگر قدرت کے باوجود ان کو نہیں روکیں گے تو گنہگار ہوں گے اھ” (کتاب الصلاۃ باب الجماعۃ جلد اول صفحہ ١٠٧)جو دیوبندی علمائے دیوبند کے عقائد باطلہ نہ جانتا ہو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں
اور وہ دیوبندی جو علمائے دیوبند کے عقائد باطلہ سے واقف نہیں صرف دیوبندی مولویوں کی ظاہری اسلامی صورت،ان کی نماز، ان کے روزوں کو دیکھ کر انہیں عالم، مولانا جانتے ہیں۔ان کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں ہیں ان پر حکم کفر نہیں ہے ۔ فتاوی شارح بخاری میں ہے :” رہ گئے وہ لوگ جو ان چاروں کے کفریات میں سے کسی ایک پر مطلع نہیں۔ انہیں قطعی یقینی اطلاع نہیں ۔ وہ صرف دیوبندی مولویوں کی ظاہری اسلامی صورت،ان کی نماز، ان کے روزوں کو دیکھ کر انہیں عالم، مولانا جانتے ہیں۔ان کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں۔ معمولات اہل سنت کو بدعت وحرام جانتے ہیں۔وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں اور ان کا یہ حکم نہیں۔اگر چہ وہ اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں،اور دوسرے لوگ بھی ان کو دیوبندی کہتے ہوں“اھ(جلددوم:ص 389-دائرۃ البرکات گھوسی) اسی میں ہے : ”اس لیے ایسا شخص جو اپنے آپ کو دیوبندی کہتا ہو، لوگ بھی اس کو دیوبندی کہتے ہوں، وہ ان چاروں علمائے دیوبندکو اپنا مقتدا وپیشوا بھی مانتا ہو،حتی کہ اہل سنت کو بدعتی بھی کہتا ہو،مگر ان چاروں کے مذکورہ بالا کفریات پر مطلع نہیں تووہ حقیقت میں دیوبندی نہیں۔ اس کا یہ حکم نہیں کہ یہ شخص کافر ہے،یا اس کی نماز جنازہ پڑھنی کفر ہے“۔ اھ (فتاوی شارح بخاری جلددوم ص 389-دائرۃ البرکات گھوسی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی صدر میرانی دار الافتاء
Kutubahu & Verified by:
<h2>دیوبندی صف میں کھڑاہوجائے تو نماز مکروہ ہوگی؟</h2> <h3>جو دیوبندی علمائے دیوبند کے عقائد باطلہ نہ جانتا ہو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں</h3> سوال : کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ وہابی دیوبندی اگر سنی کی صف میں جماعت کے ساتھ شریک ہو جائے تو سنی صحیح العقیدہ کی نماز ہو گی یا نہیں نیز دیہات کے نام کے دیوبندی جنہیں علماء دیوبندی کے عقائد کی معلومات نہ ہو ان پر حکم کفر ہو گا یا نہیں تفصیلی جواب عنایت فرمادیں۔حضرت مع حوالہ جلد جواب عطا فرمادیں سخت ضرورت ہے ۔ المستفتی خوشتر نورانی ہمت نگر گجرات انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> وہابی، دیوبندی اپنے کفری عقائد کی بنا پر کافر و مرتد ہیں اس کا روشن بیان اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے رسالہ الکوکبۃ الشہابیہ والنہی الاکید وغیرہ میں ہے اور کافر کی نماز باطل تو وہ جہاں کھڑا ہو گا وہ جگہ شرعاً خالی ہوگی تو قطع صف ہوگا اور قطع صف حرام ہے حضور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: " مَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ ". (سنن ابی داؤد باب تسویۃ الصفوف حدیث نمبر٦٦٦) یعنی جو صف کو ملائے اللہ تعالی اپنی رحمت سے اسے ملائے اور جو صف کو کاٹے اللہ تعالی اسے اپنی رحمت سے جدا کرے اور قطع صف کی وجہ سے نماز مکروہ تحریمی ہوگی مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کو مسجد میں آنے سے روکیں۔ اگر قدرت کے باوجود نہیں روکیں گے تو گنہگار اور مستحق وعید عذاب ہوں گے اور اگرصرف ایک ہی صف ہواور اس کے کنارہ پر بدعقیدہ کھڑاہو تو اس صورت میں اگرچہ فی الحال قطع صف نہیں مگر ہوسکتا ہے کہ کوئی مسلمان بعد کو آئے اور اس بدمذہب کے برابر یادوسری صف میں کھڑا ہو تو قطع صف ہوجائے گا ۔ اور جس طرح حرام کام کا کرنا حرام ہے یونہی وہ کام کرنا جس سے حرام کام کاسامان مہیا اور اس کا اندیشہ حاصل ہو وہ بھی ممنوع ہے۔ اسی لئے حدود اللہ کے قریب جانا بھی ممنوع ہے ۔ قرآن پاک میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"تلک حدوداﷲ فلاتقربوھا الآیۃ "</strong></span> (سورۃ البقرۃ آیت ١٨٧) ترجمہ کنزالایمان: یہ اللہ تعالی کی حدیں ہیں ان کے قریب نہ جاؤ مع ھذا ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: <span style="color: #ff0000;"><strong>"لاتصلوا علیھم ولاتصلوا معھم اھ"</strong></span> (کنزالعمال الفصل الاول فی فضائل الصحابہ اجمالا جلد 11 صفحہ 540) یعنی نہ بدمذہبوں کے جنازہ کی نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو ۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ کتاب الصلاۃ باب الجماعۃ جلد٧ صفحہ ١٥١ و ١٥٢ پر ہے۔ فتاوی امجدیہ میں ہے: "غیر مقلدین کا جماعت اہلسنت میں شامل ہونا قطع صف ہوگا اور یہ مکروہ ہے"اھ ملخصا. (کتاب الصلاۃ باب الجماعۃ جلد اول صفحہ ١٦٨) فتاوی فیض الرسول میں ہے: "جماعت میں غیر مقلدوں کے شامل ہونے سے بے شک نماز میں خرابی پیدا ہوتی ہے اس لئے کہ ان کی نماز باطل ہےتو جس صف کے بیچ وہ کھڑے ہوتے ہیں شریعت کے نزدیک وہ جگہ خالی ہوتی ہے جس سے صف قطع ہوتی ہے اور قطع صف حرام ہے حنفیوں پر لازم ہے کہ ان کو اپنی مسجد میں آنے سے منع کریں اگر قدرت کے باوجود ان کو نہیں روکیں گے تو گنہگار ہوں گے اھ" (کتاب الصلاۃ باب الجماعۃ جلد اول صفحہ ١٠٧) <h3>جو دیوبندی علمائے دیوبند کے عقائد باطلہ نہ جانتا ہو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں</h3> اور وہ دیوبندی جو علمائے دیوبند کے عقائد باطلہ سے واقف نہیں صرف دیوبندی مولویوں کی ظاہری اسلامی صورت،ان کی نماز، ان کے روزوں کو دیکھ کر انہیں عالم، مولانا جانتے ہیں۔ان کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں ہیں ان پر حکم کفر نہیں ہے ۔ فتاوی شارح بخاری میں ہے :" رہ گئے وہ لوگ جو ان چاروں کے کفریات میں سے کسی ایک پر مطلع نہیں۔ انہیں قطعی یقینی اطلاع نہیں ۔ وہ صرف دیوبندی مولویوں کی ظاہری اسلامی صورت،ان کی نماز، ان کے روزوں کو دیکھ کر انہیں عالم، مولانا جانتے ہیں۔ان کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں۔ معمولات اہل سنت کو بدعت وحرام جانتے ہیں۔وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں اور ان کا یہ حکم نہیں۔اگر چہ وہ اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں،اور دوسرے لوگ بھی ان کو دیوبندی کہتے ہوں“اھ(جلددوم:ص 389-دائرۃ البرکات گھوسی) اسی میں ہے : ”اس لیے ایسا شخص جو اپنے آپ کو دیوبندی کہتا ہو، لوگ بھی اس کو دیوبندی کہتے ہوں، وہ ان چاروں علمائے دیوبندکو اپنا مقتدا وپیشوا بھی مانتا ہو،حتی کہ اہل سنت کو بدعتی بھی کہتا ہو،مگر ان چاروں کے مذکورہ بالا کفریات پر مطلع نہیں تووہ حقیقت میں دیوبندی نہیں۔ اس کا یہ حکم نہیں کہ یہ شخص کافر ہے،یا اس کی نماز جنازہ پڑھنی کفر ہے“۔ اھ (فتاوی شارح بخاری جلددوم ص 389-دائرۃ البرکات گھوسی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب. <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی صدر میرانی دار الافتاء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...