Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

کسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟

کسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟
Reference 1285 September 18, 2025 6,267 views
اصل سوالکسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟

کسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ نیاز احمد نے اپنی مدخولہ بیوی کے متعلق ہندی میں دو طلاق لکھوا کر ایک شخص کے سپرد کیا ۔ پھر اس کاغذ پر نیاز احمد کی اجازت کے بغیر ایک آدمی نے اپنی طبیعت سے ایک طلاق اور بڑھا کر تین طلاق کردیا تو اس صورت میں نیازاحمد کی بیوی پر کتنی طلاق پڑی ؟ نیاز احمد اپنی بیوی کو پھر رکھنا چاہتا ہے ۔ بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں نیاز احمد کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوئی۔ یعنی عدت کے اندر نیاز احمد اگر کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رات کر لی یا اس سے میاں بیوی جیسا برتاؤ کر لے تو وہ حسب سابق اس کی بیوی رہے گی نکاح کی حاجت نہیں۔ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے : الطلاق مرتن فامساك بمعروف أو تسريح بإحسان.” (٢ع١٣)اور اگر عدت گزر گئی ہو تو عورت کی مرضی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔ حلالہ کی ضرورت نہیں۔ والله تعالى اعلم. كتبه: جلال الدين احمد الامجدي.

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.