01
The questionSawaal
اصل سوالکیاولد الزنا شریف النسب عورت کا کفو ہوسکتا ہے؟ مفتی صدام حسین فیضی
02
The responseAl-Jawab
کیاولد الزنا شریف النسب عورت کا کفو ہوسکتا ہے؟
سوال :ولدالزنا شریف النسب عورت کاکفو ہو سکتاہے یانہیں وضاحت فرمادیں۔ المستفتی قطب الحسن نظامی نیپال متعلم جامعةالمدینہ فیضان صدیق اکبر آگرہ انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں لڑکے کا ولد الزنا ہونا مشہور ہوتو وہ شریف النسب عورت کا کفو نہیں ہوسکتا کہ اس سے شریف النسب عورت کا نکاح کرنا اس کے اولیاء کے واسطے باعث ننگ وعار ہے ۔ اعلی حضرت عظیم البرکت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:” شک نہیں کہ جس کا ولد الزنا ہونا مشہور ہو اس سے دختر حلال کا نکاح عرفا باعث ننگ وعارو انگشت نمائی ہوتاہے اور یہی معنی عدم کفاءت کے ہیں” اھ ( فتاوی رضویہ مترجم جلد١١ صفحہ ٧٢٧ کتاب النکاح باب الکفو ) علامہ محمد امین ابن عابدین شامی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں :” ان الموجب ھو استنقاص اھل العرف فیدور معہ ” اھ ( ردالمحتار علی الدر المختار ج٤ ص٢١٦ کتاب النکاح باب الکفأۃ، دار عالم الکتب) یعنی اھل عرف کا حقیر جاننا سبب ہے لہذا حکم کا مدار اسی پر ہے۔ والله تعالى اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.