01
The questionSawaal
اصل سوالکیا مغرب میں تاخیر کرنا مکروہ ہے؟
02
The responseAl-Jawab
کیا مغرب میں تاخیر کرنا مکروہ ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے یہاں رمضان میں مغرب کی اذان کے دس منٹ بعد افطار اور کھانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے کیا مغرب کی اذان کے بعد اتنی تاخیر جائز ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ نماز مغرب میں دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہ تنزیہی اور بغیر عذر اتنی تاخیر کی کہ ستارے گتھ جائیں مکروہ تحریمی ہے. سفر میں ہو یا بھوکا ہو اور اگر کھانا سامنے حاضر ہو تو یہ تاخیر کے لئے عذر ہے. در مختار میں ہے” واخر المغرب الی اشتباک النجوم) ای کثرتھا (کرہ) ای التاخیر لاالفعل لانہ مامور بہ (تحریما) الا بعذر کسفر وکونہ علی اکل ١ھ. رد المحتار میں ہے ” وان مافی القنیۃ من اشتباک النجوم مکروہ تنزیھا وما بعدہ تحریما الا بعذر ١ھ ”(ص ٣٦٩ ج ١ ) ایسا ہی بہار شریعت صفحہ 20 جلد 3 میں بھی ہے تاہم دس منٹ سے زیادہ تاخیر سے گریز کرنا چاہئے. واللہ تعالیٰ اعلم. الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد ابو بکر مصباحی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.