Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1291 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.9K Views

بینک ایجنٹ کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بینک ایجنٹ کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بینک ایجنٹ کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کی زید امام ایک بینک کا ایجنٹ ہے اور بینک اس کو کمیشن دیتی ہے تو کیا صورت مذکورہ میں زید امام کی اقتداء درست ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں اگر زید کو ناجائز کام نہ کرنا پڑے تو اسے بینک کا ایجنٹ بننا جائز ہے کام کرنے کی جو اجرت ملے وہ اجرت بھی زید کے لیے حلال ہے. اعلی حضرت امام احمد رضا برکاتی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں” کہ جس ملازمت میں خود ناجائز کام کرنے پڑے جیسے یہ ملازمت جس میں سود کا لین دین اس کا لکھنا پڑھنا تقاضہ کرنا اس کے ذمہ ہو ایسی ملازمت خود حرام ہے اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے وہ مال حلال بھی اس کے لیے حرام ہے اور مال حرام ہے تو حرام در حرام. ١ھ. (فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 173) لہذا زید امام کے اندر بینک کی ملازمت کے علاوہ کوئی اور وجہ شرعی مانع نہ ہو تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہے۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد نیاز برکاتی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>بینک ایجنٹ کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کی زید امام ایک بینک کا ایجنٹ ہے اور بینک اس کو کمیشن دیتی ہے تو کیا صورت مذکورہ میں زید امام کی اقتداء درست ہے یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسؤلہ میں اگر زید کو ناجائز کام نہ کرنا پڑے تو اسے بینک کا ایجنٹ بننا جائز ہے کام کرنے کی جو اجرت ملے وہ اجرت بھی زید کے لیے حلال ہے. اعلی حضرت امام احمد رضا برکاتی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں'' کہ جس ملازمت میں خود ناجائز کام کرنے پڑے جیسے یہ ملازمت جس میں سود کا لین دین اس کا لکھنا پڑھنا تقاضہ کرنا اس کے ذمہ ہو ایسی ملازمت خود حرام ہے اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے وہ مال حلال بھی اس کے لیے حرام ہے اور مال حرام ہے تو حرام در حرام. ١ھ. (فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 173) لہذا زید امام کے اندر بینک کی ملازمت کے علاوہ کوئی اور وجہ شرعی مانع نہ ہو تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہے۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد نیاز برکاتی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...