Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1294
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.2K Views
کچھوچھہ شریف کے نیر کا پانی پینا اور اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کچھوچھہ شریف کے نیر کا پانی پینا اور اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کچھوچھہ شریف کے نیر کا پانی پینا اور اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟
سوال : کچھوچھہ شریف میں حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ کے آستانہ کے بغل میں جو پانی جمع رہتا ہے لوگ اس میں غسل اور وضو کرتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا پینا اور وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــ غسل اور وضو کا پانی ماء مستعمل ہے اور طاہر غیر مطہر ہے نجس نہیں. اگر حوض میں گر گیا تو حوض ناپاک نہ ہوگا جب خود ناپاک نہیں تو دوسرے کو ناپاک کیا کرے گا. اور حوض جبکہ دہ دردہ ہو تو نجاست گرنے سے بھی ناپاک نہ ہوگا. اور ہر وہ گڈھا جس کی پیمائش مربع سو ہاتھ ہو وہ بڑا حوض ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 48 پر ہے اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 18 میں ہے ” الماء الراکد اذا کان کثیر فھو بمنزلۃ الجاری لا یتنجس جمیع بوقوع النجاسۃ فی طرف منہ الا ان یتغیر لونہ او طعمہ او ریحہ ” ١ھ. اور اسی صفحے پر ہے ” ان الغدیر العظیم کالجاری لا یتنجس ” ١ھ. اور ایسا ہی در مختار مع شامی جلد اول صفحہ 190 پر ہے. اور حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ کے آستانہ مقدسہ کی بغل میں جو پانی جمع رہتا ہے وہ دہ در دہ سے کہیں زیادہ ہے لہذا جہاں نجاست کی وجہ سے رنگ و بو یا مزہ نہ بدلا ہو وہاں کے پانی سے وضو اور غسل کرنا اور اس کا پینا بھی جائز ہے. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد ہارون رشید قادری کمبولوی گجراتی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجـــــــــــدی
Kutubahu & Verified by:
<h3>کچھوچھہ شریف کے نیر کا پانی پینا اور اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟</h3> سوال : کچھوچھہ شریف میں حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ کے آستانہ کے بغل میں جو پانی جمع رہتا ہے لوگ اس میں غسل اور وضو کرتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا پینا اور وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟بینوا و توجروا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــ</strong></span> غسل اور وضو کا پانی ماء مستعمل ہے اور طاہر غیر مطہر ہے نجس نہیں. اگر حوض میں گر گیا تو حوض ناپاک نہ ہوگا جب خود ناپاک نہیں تو دوسرے کو ناپاک کیا کرے گا. اور حوض جبکہ دہ دردہ ہو تو نجاست گرنے سے بھی ناپاک نہ ہوگا. اور ہر وہ گڈھا جس کی پیمائش مربع سو ہاتھ ہو وہ بڑا حوض ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 48 پر ہے اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 18 میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' الماء الراکد اذا کان کثیر فھو بمنزلۃ الجاری لا یتنجس جمیع بوقوع النجاسۃ فی طرف منہ الا ان یتغیر لونہ او طعمہ او ریحہ '' ١ھ.</strong></span> اور اسی صفحے پر ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' ان الغدیر العظیم کالجاری لا یتنجس ''</strong></span> ١ھ. اور ایسا ہی در مختار مع شامی جلد اول صفحہ 190 پر ہے. اور حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ کے آستانہ مقدسہ کی بغل میں جو پانی جمع رہتا ہے وہ دہ در دہ سے کہیں زیادہ ہے لہذا جہاں نجاست کی وجہ سے رنگ و بو یا مزہ نہ بدلا ہو وہاں کے پانی سے وضو اور غسل کرنا اور اس کا پینا بھی جائز ہے. واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد ہارون رشید قادری کمبولوی گجراتی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجـــــــــــدی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...