Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1295
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.3K Views
جس چشمہ کے پانی میں کپڑے برتن دھوئیں لوگ اس میں پیشاب کریں تو اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
جس چشمہ کے پانی میں کپڑے برتن دھوئیں لوگ اس میں پیشاب کریں تو اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
جس چشمہ کے پانی میں کپڑے برتن دھوئیں لوگ اس میں پیشاب کریں تو اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے ہے؟
سوال : ہمارے گاؤں کے کنارے ایک چشمہ ہے جہاں سے پانی نکل کر ایک چھوٹی سی نہر کی شکل بن کر گاؤں کے اندر سے گزرتا ہے جس میں عورتیں برتن اور کپڑے دھوتی ہیں. اس میں جانوروں کو بھی نہلاتے ہیں اور بطخ وغیرہ بھی اس میں گھومتی رہتی ہیں اور تمام مکانوں کا گندا اور نجس پانی بھی اسی نہر کے اندر جاتا ہے. اس کے بعد یہ پانی ایک مسجد سے گزرتا ہے وہاں پر لوگ اسی میں پیشاب کرتے ہیں اور وضو بھی کرتے ہیں تو اس نہر کے اندر وضو اور غسل جائز ہے یا نہیں؟ بینوا و توجروا. الجوابـــــــــــــــــــــ اس نہر میں جہاں نجس پانی یا پیشاب کے سبب پانی کا رنگ و بو یا مزہ نہ بدلا ہو وہاں وضو اور غسل جائز ہے. اور جہاں بدلا ہو وہاں نہیں جائز ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 45 پر ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
Kutubahu & Verified by:
<h3>جس چشمہ کے پانی میں کپڑے برتن دھوئیں لوگ اس میں پیشاب کریں تو اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے ہے؟</h3> سوال : ہمارے گاؤں کے کنارے ایک چشمہ ہے جہاں سے پانی نکل کر ایک چھوٹی سی نہر کی شکل بن کر گاؤں کے اندر سے گزرتا ہے جس میں عورتیں برتن اور کپڑے دھوتی ہیں. اس میں جانوروں کو بھی نہلاتے ہیں اور بطخ وغیرہ بھی اس میں گھومتی رہتی ہیں اور تمام مکانوں کا گندا اور نجس پانی بھی اسی نہر کے اندر جاتا ہے. اس کے بعد یہ پانی ایک مسجد سے گزرتا ہے وہاں پر لوگ اسی میں پیشاب کرتے ہیں اور وضو بھی کرتے ہیں تو اس نہر کے اندر وضو اور غسل جائز ہے یا نہیں؟ بینوا و توجروا. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــ</strong></span> اس نہر میں جہاں نجس پانی یا پیشاب کے سبب پانی کا رنگ و بو یا مزہ نہ بدلا ہو وہاں وضو اور <a href="https://masailworld.com/gusl-karte-waqt-kalima-durood-shareef-padhna-kaisa-hai/"><strong>غسل</strong></a> جائز ہے. اور جہاں بدلا ہو وہاں نہیں جائز ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 45 پر ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...