Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1298 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.6K Views

شافعی کی نماز عصر اور حنفی کی نماز ظہر ہو تو کیا شافعی کے پیچھے حنفی نماز پڑھ سکتا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شافعی کی نماز عصر اور حنفی کی نماز ظہر ہو تو کیا شافعی کے پیچھے حنفی نماز پڑھ سکتا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شافعی کی نماز عصر اور حنفی کی نماز ظہر ہو تو کیا شافعی کے پیچھے حنفی نماز پڑھ سکتا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان کرام اہلسنت۔ اس مسئلہ میں کہ حنفی حضرات اپنی نماز ظہر ادا کرنے مسجد میں گئے تو شافعی حضرات نماز عصر ادا کررہے تھے۔ تو حنفی حضرات شافعوں کے ساتھ اپنی نماز ظہر کی نیت کرکے۔ جماعتِ نماز عصر شافعی میں شامل ہوکر حنفی اپنی نماز ظہر، شافعی کی نماز عصر میں ادا کرنا کیسا؟ سائل محمد شاہد اشرف آمری میسور کرناٹک ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب اقتداء کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے۔ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہو یا امام کی نماز، نماز مقتدی کو متضمن ہو۔لہذا مقتدی نے جو اقتداء کی ہے وہ درست ہی ہے تو نماز نہیں ہوئی کیونکہ امام شافعی والے اپنی نماز عصر ادا کر رہا ہے اور حنفی والے ظہر دونوں کا ایک نہیں ہے اگرچہ وہ مسائل طہارت و نماز میں ہمارے فرائض مذہب کی رعایت کیا ہو یا معلوم ہو کہ اس نماز میں رعایت کی ہے یعنی اس کی طہارت ایسی نہ ہو کہ حنفیہ کے طور پر غیر طاہر کہا جائے۔ فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے:واقتدائے قاضی عصر امروز بقاضی عصر دیرروز نارواست زیر اكہ اتحاد نماز شرط صحت اقتدا ست وہمچناں اقتدائے مفترض بمتنفل نیز کہ زنہار درست نباشدپس بدیں صورتہاذمہ از نماز فارغ نشود۔ باقی آج کی عصر قضا کرنے والے کی اقتداء میں کل کی عصر قضا کرنے والا نماز ادا نہیں کرسکتا کیونکہ اقتداء کے لئے نماز کاایک ہونا شرط ہے اور اسی طرح فرض پڑھنے والے کا نفل پڑھنے والے کی اقتداء کرنا ہر گز درست نہیں لہٰذا اس صورت میں نمازوں کا ذمہ ساقط نہیں ہوگا۔ فی نور الایضاح ” وشرحہ مراقی الفلاح شرط صحۃ الاقتداء ان لایکون الا مام مصلیا فرضا غیرفرض الماموم کظھر وعصر وظھر ین من یومین اھ ملخصا . نورالایضاح اور اس کی شرحہ مراقی الفلاح میں ہے اقتدا کے لئے یہ شرط ہے کہ امام اور مقتدی کے فرائض الگ الگ نہ ہوں مثلاً ایک ظہر اور دوسرا عصر یا دونوں دو (۲) دنوں کی ظہر ادا کر رہے ہوں ( تو پھر اقتداء جائز نہ ہوگی ) تلخیصا ، وفی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ” لا مفترض بمتنفل ومفترض فرضا آخر کمصلی ظھر أمس بمصلی ظھر الیوم، لان اتحاد الصلوتین شرط انتھت ملخصۃ۔ تنویر الابصار، درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ فرض ادا کرنے والا نفل پڑھنے والے کی اقتدا نہیں کرسکتا اسی طرح ایک اور فرض پڑھنے والا ہے دوسرا دوسرے فرض والا ہے ان کا ایک دوسرے کی اقتداء کرنا بھی جائز نہیں مثلاً کل کی ظہر پڑھنے والے کی آج کی ظہر پڑھنے والا اقتدا کرے کیونکہ دونوں کی نمازوں کا ایک ہونا شرط ہے انتہت تلخیصاً۔۔ (ج۸ ص۱۵۶ تا۵۷ رضا فاؤنڈیشن لاہور) صورت مسئولہ میں ظہر کی نماز پھر پڑھے۔کیونکہ اقتداء درست ہی نہیں ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبـــــہ:محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال ۲ جمادی الآخر ۱۴۴۳ھ بروز بدھ

Kutubahu & Verified by:

<h2>شافعی کی نماز عصر اور حنفی کی نماز ظہر ہو تو کیا شافعی کے پیچھے حنفی نماز پڑھ سکتا ہے؟</h2> السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان کرام اہلسنت۔ اس مسئلہ میں کہ حنفی حضرات اپنی نماز ظہر ادا کرنے مسجد میں گئے تو شافعی حضرات نماز عصر ادا کررہے تھے۔ تو حنفی حضرات شافعوں کے ساتھ اپنی نماز ظہر کی نیت کرکے۔ جماعتِ نماز عصر شافعی میں شامل ہوکر حنفی اپنی نماز ظہر، شافعی کی نماز عصر میں ادا کرنا کیسا؟ سائل محمد شاہد اشرف آمری میسور کرناٹک ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> اقتداء کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے۔ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہو یا امام کی نماز، نماز مقتدی کو متضمن ہو۔لہذا مقتدی نے جو اقتداء کی ہے وہ درست ہی ہے تو نماز نہیں ہوئی کیونکہ امام شافعی والے اپنی نماز عصر ادا کر رہا ہے اور حنفی والے ظہر دونوں کا ایک نہیں ہے اگرچہ وہ مسائل طہارت و نماز میں ہمارے فرائض مذہب کی رعایت کیا ہو یا معلوم ہو کہ اس نماز میں رعایت کی ہے یعنی اس کی طہارت ایسی نہ ہو کہ حنفیہ کے طور پر غیر طاہر کہا جائے۔ فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے:واقتدائے قاضی عصر امروز بقاضی عصر دیرروز نارواست زیر اكہ اتحاد نماز شرط صحت اقتدا ست وہمچناں اقتدائے مفترض بمتنفل نیز کہ زنہار درست نباشدپس بدیں صورتہاذمہ از نماز فارغ نشود۔ باقی آج کی عصر قضا کرنے والے کی اقتداء میں کل کی عصر قضا کرنے والا نماز ادا نہیں کرسکتا کیونکہ اقتداء کے لئے نماز کاایک ہونا شرط ہے اور اسی طرح فرض پڑھنے والے کا نفل پڑھنے والے کی اقتداء کرنا ہر گز درست نہیں لہٰذا اس صورت میں نمازوں کا ذمہ ساقط نہیں ہوگا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>فی نور الایضاح " وشرحہ مراقی الفلاح شرط صحۃ الاقتداء ان لایکون الا مام مصلیا فرضا غیرفرض الماموم کظھر وعصر وظھر ین من یومین اھ ملخصا .</strong></span> نورالایضاح اور اس کی شرحہ مراقی الفلاح میں ہے اقتدا کے لئے یہ شرط ہے کہ امام اور مقتدی کے فرائض الگ الگ نہ ہوں مثلاً ایک ظہر اور دوسرا عصر یا دونوں دو (۲) دنوں کی ظہر ادا کر رہے ہوں ( تو پھر اقتداء جائز نہ ہوگی ) تلخیصا ، <span style="color: #ff0000;"><strong>وفی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار " لا مفترض بمتنفل ومفترض فرضا آخر کمصلی ظھر أمس بمصلی ظھر الیوم، لان اتحاد الصلوتین شرط انتھت ملخصۃ۔</strong></span> تنویر الابصار، درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ فرض ادا کرنے والا نفل پڑھنے والے کی اقتدا نہیں کرسکتا اسی طرح ایک اور فرض پڑھنے والا ہے دوسرا دوسرے فرض والا ہے ان کا ایک دوسرے کی اقتداء کرنا بھی جائز نہیں مثلاً کل کی ظہر پڑھنے والے کی آج کی ظہر پڑھنے والا اقتدا کرے کیونکہ دونوں کی نمازوں کا ایک ہونا شرط ہے انتہت تلخیصاً۔۔ (ج۸ ص۱۵۶ تا۵۷ رضا فاؤنڈیشن لاہور) صورت مسئولہ میں ظہر کی نماز پھر پڑھے۔کیونکہ اقتداء درست ہی نہیں ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــہ:محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۲ جمادی الآخر ۱۴۴۳ھ بروز بدھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...