01
The questionSawaal
اصل سوالدیوبندیوں کے کفری اقوال کو علمائے اہلسنت کی سازش بتانے والے کا حکم
02
The responseAl-Jawab
دیوبندیوں کے کفری اقوال کو علمائے اہلسنت کی سازش بتانے والے کا حکم
سوال : کیا فرماتے ہے علمائے دین مندرجہ ذیل مسئلہ میں اگر کوئی شخص شریعت سے بالکل جاہل ہو اور وہ اپنا عقیدہ بدمذہبوں کے مطابق یہ بنا لے کہ جو غیراللہ سے مدد مانگتا ہے۔ وہ مشرک ہے۔ مگر کافر نہ مانے ، حالانکہ مشرک کہنے کا مطلب کا فر کہنا ہی ہوتا ہے مگر وہ کہتا ہے، میں انکو کافر نہیں مانتا اور انکے پیچھے نماز جائز سمجھتا ہوں ۔ اور دیوبندیوں کے جن علماء کو ہم سنیوں نے انکے کفر کے سبب کافر مانا ہے ان عقائد سے بیخبر بھی ہو۔ اور جب انسے کہا جائے کی دیوبندیوں نے یہ سب باتیں کفر کی لکھی ہے تو کہتا ہے یہ سب کفریہ باتیں کوئی عالم نہی لکھ سکتا یہ تمہارے عالموں کی چال ہے علمائے دیوبند کو بدنام کرنے کی، بھلا یہ سب باتیں کوئی مسلمان کر سکتا ہے کیا؟؟؟اور کبھی کہتا ہے انہوں نے کہا کچھ ہے اور آپ لوگ بتاتے کچھ ہیں۔جب انکے سامنے کتاب رکھی جائے تو ان عبارات کو سمجھنے کی لیاقت بھی نہیں ان میں۔تو شریعت میں ایسے شخص کا کیا حکم ہے۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــ دیوبندی وہابی بہت ہی عیار اور چالباز جماعت ہے ان کی ایک چالبازی یہ بھی ہے کہ یہ اپنی جماعت کے جاہلوں کو اسی طرح سکھاتے ہیں کہ علمائے اہل سنت نے ان کے عالموں پر جھوٹے بے بنیاد الزامات لگائے ہیں اور ان کی طرف ایسی کفری باتیں منسوب کردی ہیں جو انھوں نے نہیں لکھی ہیں۔ اور اس طرح کی لایعنی باتیں کرکے یہ لوگ صرف اور صرف اپنے عالموں کے کفر صریح متبین ومتعین پر پردہ ڈالنے کی لا حاصل کوشش کرتے ہیں۔سوال میں مذکور شخص کو تو جاہل بتایا گیا ہے ان کے عالموں کا حال وہ ہے جو امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے تحریر فرمایا ہے: “میں نے اپنی آنکھوں سے متعدد بار متعدد شہروں میں وہ دیکھے ہیں کہ ان عبارات کی نسبت ان سے سوال ہوا، صاف صاف حکم کفر وضلال لکھ دیا ۔ جب کہا گیا کہ یہ قول فلاں شخص یا فلاں کتاب کا ہے۔ فوراً پلٹ گئے کہ ان کو تو ہرگز نہ کہوں گا۔مولانا ! آج کل تو یہ حالتِ ایمان رہ گئی ہے، ﷲ و رسول کو گالی دینا ضرور کفر ہے ، مگر زید گالی دے تو معاف ہے۔” انا للہ وانّا الیہ راجعون “۔ (فتاوی رضویہ ج١٢ ص١۴٠) اس لیے اس جاہل آدمی کا اس طرح امتحان کرلیجیے کہ اس سے کہیے کہ وہ علی الاعلان اہل سنت کے لوگوں اور اپنے عالموں کی موجودگی میں اتنا بیان دیدے کہ اگر قاسم نانوتوی نے اپنی کتاب تحذیر الناس میں “خاتم النبیین” کا معنی آخری نبی ہونا عوام کا خیال بتاکر اس کا کوئی دوسرا معنی بتایا ہو تو میں قاسم نانوتوی کو “خاتم النبیین” کے اجماعی معنی سے انکار کے باعث کافر مانتا ہوں اور ہر ایسے شخص کو کافر مانتا ہوں جو ایسا لکھنے والے کو اپنا پیشوا یا کم از کم اس کے کفر میں شک کرے۔یوں ہی اشرف علی تھانوی اور رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد انبیٹھوی کی کفری عبارتوں کے بارے میں اسی طرح کا علی الاعلان مشروط نامزد بیان دے کہ اگر اشرف علی تھانوی، خلیل احمد انبیٹھوی اور رشید احمد گنگوہی نے فلاں فلان کتابوں میں ایسی گستاخیاں کی ہیں تو میں اشرف علی تھانوی، رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد انبیٹھوی کو کافر مانتا ہوں اور ہر ایسے شخص کو کافر مانتا ہوں جو ایسا لکھنے والے کو اپنا پیشوا یا کم از کم مسلمان مانے۔ چلیے اگر اہلِسنت اور اپنی جماعت کے عالموں کے مجمع میں ایسا بیان بھی نہ دے تو اگر لکھنا جانتا ہو تو یہی مضمون لکھ کر دیدے یا کم از کم لکھے ہوئے پر دستخط ہی کردے تو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ وہ ان اقوال کو کفر اور دیوبندیوں کے عالموں کی طرف ان کفری اقوال کے انتساب کو ایک فریب مانتا ہے اور اگر نامزد مشروط بیان یا تحریر بھی دینے پر آمادہ نہ ہو تو کوئی انصاف پسند خود فیصلہ کرے کہ اس کو کیسے سچا مانا جاسکتا ہے؟؟؟ بھلا بتائیے اگر کسی کو یہ یقین ہے کہ زید نے چوری نہیں کی ہے تو اس کا نام لے کر اتنا کہنے میں اس کو کیا عذر ہوسکتا ہے کہ اگر زید نے چوری کی ہے تو وہ چوروں والی سزا کا حق دار ہے! یہ مشروط بیان بھی اسی وقت کچھ کار آمد ہوسکتا ہے جب اس کو ان علمائے دیوبند کے کفری اقوال و عقائد کی یقینی قطعی اطلاع نہ ہو ورنہ علمائے حرمین طیبین کے فتوی کے مطابق ان کو پیشوا ماننے والا یا ان کے کفر میں شک یا توقف کرنے والا بھی کافر ہے۔ سوال میں مذکور اس شخص کا کسی مسلمان کو مشرک کہنا اور کسی کو مشرک مان کر اس کے پیچھے نماز جائز سمجھنا یہ خود کفر ہے۔تو ایسے شخص پر متعدد وجوہ سے الزامِ کفر ہے۔اس لیے ایسا شخص جب تک اپنے ان کفریات سے توبہ اور دیوبندیوں کی کفریات اور ان کے قائلین کی تکفیر کا اعلان اور تجدید ایمان نہیں کرتا اس سے میل جول اور مسلمانوں والا برتاو حرام ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٩/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٣١/جنوری ٢٠٢٢ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.