Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1319
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.9K Views
استنجاء اور پیشاب کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
استنجاء اور پیشاب کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
استنجاء اور پیشاب کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
سوال : زید کہتا ہے کہ جو امام بغیر ڈھیلے کے استنجاء کرتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اور بکر کہتا ہے کہ ڈھیلا لینا ضروری نہیں بلکہ جسے بعد پیشاب قطرہ کی شکایت ہو اس کے لیے ڈھیلا لینا ضروری ہے ۔ اور زید ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا ہے جو امام ڈھیلا استعمال نہیں کرتا اگرچہ وہ امام ڈھیلا لینے کا منکر بھی نہ ہو ۔ تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو زید پر شرعی حکم کیا ہے جو کہ جماعت کا تارک ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ استنجا کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بعد پیشاب پاک مٹی، کنکریا پھٹے پرانے کپڑے سے پیشاب سکھائے پھر پانی سے دھو ڈالے۔ لیکن اگر کوئی صرف پانی ہی استعمال کرے تو بھی درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں .اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلا چوں چرا جائز ہے کہ ڈھیلے سے استنجا سنت ہے فرض واجب نہیں. اور ڈھیلے کے استعمال کے بعد پانی کا استعمال افضل ہے جیسا کہ شرح وقایہ جلد اول صفحہ 126 پر ہے ” الاستنجاء بنحو حجر سنۃ ١ھ ملخصا ” اور اسی میں صفحہ ١٢٧ پر ہے ” وغسلہ بعد الحجر ادب ” البتہ اگر کسی کو بعد پیشاب قطرہ کی شکایت ہو تو اس پر استبراء کرنا یعنی ڈھیلے وغیرہ کا استعمال کرنا واجب ہے. اور زید نے جو یہ بات کہی ہے کہ جو امام بغیر ڈھیلے کے استنجاء کرتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ہے ہرگز صحیح نہیں ۔ اس پر توبہ و استغفار لازم ہے اس نے بغیر علم کے فتوی دیا. اور حدیث شریف میں ہے کہ جس نے بغیر علم کے فتوی دیا اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں (کنز العمال جلد 10 صفحہ 193) اور وہ اس بنیاد پر امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ کر جماعت ترک کرتا ہے تو وہ فاسق اور مردود الشہادۃ ہے. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ٣٨٠ پر ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی عبدالمقتدر نظامی مصبــــــــــــاحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
Kutubahu & Verified by:
<h2>استنجاء اور پیشاب کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟</h2> سوال : زید کہتا ہے کہ جو امام بغیر ڈھیلے کے استنجاء کرتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اور بکر کہتا ہے کہ ڈھیلا لینا ضروری نہیں بلکہ جسے بعد پیشاب قطرہ کی شکایت ہو اس کے لیے ڈھیلا لینا ضروری ہے ۔ اور زید ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا ہے جو امام ڈھیلا استعمال نہیں کرتا اگرچہ وہ امام ڈھیلا لینے کا منکر بھی نہ ہو ۔ تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو زید پر شرعی حکم کیا ہے جو کہ جماعت کا تارک ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> استنجا کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بعد پیشاب پاک مٹی، کنکریا پھٹے پرانے کپڑے سے پیشاب سکھائے پھر پانی سے دھو ڈالے۔ لیکن اگر کوئی صرف پانی ہی استعمال کرے تو بھی درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں .اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلا چوں چرا جائز ہے کہ ڈھیلے سے استنجا سنت ہے فرض واجب نہیں. اور ڈھیلے کے استعمال کے بعد پانی کا استعمال افضل ہے جیسا کہ شرح وقایہ جلد اول صفحہ 126 پر ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' الاستنجاء بنحو حجر سنۃ ١ھ ملخصا ''</strong></span> اور اسی میں صفحہ ١٢٧ پر ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' وغسلہ بعد الحجر ادب ''</strong></span> البتہ اگر کسی کو بعد پیشاب قطرہ کی شکایت ہو تو اس پر استبراء کرنا یعنی ڈھیلے وغیرہ کا استعمال کرنا واجب ہے. اور زید نے جو یہ بات کہی ہے کہ جو امام بغیر ڈھیلے کے استنجاء کرتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ہے ہرگز صحیح نہیں ۔ اس پر توبہ و استغفار لازم ہے اس نے بغیر علم کے فتوی دیا. اور حدیث شریف میں ہے کہ جس نے بغیر علم کے فتوی دیا اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں (کنز العمال جلد 10 صفحہ 193) اور وہ اس بنیاد پر امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ کر جماعت ترک کرتا ہے تو وہ فاسق اور مردود الشہادۃ ہے. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ٣٨٠ پر ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی عبدالمقتدر نظامی مصبــــــــــــاحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...