Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1321
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.1K Views
دھوپ کے گرم پانی سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
دھوپ کے گرم پانی سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
دھوپ کے گرم پانی سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟
الجوابـــــــــــــــــــــ جو پانی دھوپ سے گرم ہو جائے اس سے وضو اور غسل کرنا منع ہے اس لئے کہ اس سے برص یعنی سفید داغ ہونے کا اندیشہ ہے. حدیث شریف میں ہے ” عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت اسخنت ماء فی الشمس فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تفعلی حمیراء فانہ یورث البرص ” یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دھوپ سے پانی گرم کیا تو آپ نے فرمایا اے حمیراء آئندہ ایسا نہ کرنا کہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے. اور دوسری حدیث میں ہے ” قال عمر رضی اللہ عنہ لاتغسلوا بالماء الشمس فانہ یورث البرص ” یعنی حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دھوپ سے گرم شدہ پانی سے غسل نہ کرو کہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے (بیہقی شریف جلد اول صفحہ نمبر 10) اور اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ دھوپ کے گرم پانی سے مطلقاً وضو صحیح ہے مگر گرم ملک گرم موسم میں جو پانی سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم ہو جائے وہ جب تک ٹھنڈا نہ ہو لے بدن کو کسی طرح پہنچانا نہ چاہئے وضو سے نہ غسل سے نہ پینے سے معاذاللہ احتمال برص ہے. فتاوی رضویہ جلد 26 صفحہ 412 اور ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 49 پر بھی ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد ہارون رشید قادری کولمبوی گجراتی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
Kutubahu & Verified by:
<h2>دھوپ کے گرم پانی سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــ</strong></span> جو پانی دھوپ سے گرم ہو جائے اس سے وضو اور غسل کرنا منع ہے اس لئے کہ اس سے برص یعنی سفید داغ ہونے کا اندیشہ ہے. حدیث شریف میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت اسخنت ماء فی الشمس فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تفعلی حمیراء فانہ یورث البرص ''</strong></span> یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دھوپ سے پانی گرم کیا تو آپ نے فرمایا اے حمیراء آئندہ ایسا نہ کرنا کہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے. اور دوسری حدیث میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' قال عمر رضی اللہ عنہ لاتغسلوا بالماء الشمس فانہ یورث البرص ''</strong></span> یعنی حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دھوپ سے گرم شدہ پانی سے غسل نہ کرو کہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے (بیہقی شریف جلد اول صفحہ نمبر 10) اور اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ دھوپ کے گرم پانی سے مطلقاً وضو صحیح ہے مگر گرم ملک گرم موسم میں جو پانی سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم ہو جائے وہ جب تک ٹھنڈا نہ ہو لے بدن کو کسی طرح پہنچانا نہ چاہئے وضو سے نہ غسل سے نہ پینے سے معاذاللہ احتمال برص ہے. فتاوی رضویہ جلد 26 صفحہ 412 اور ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 49 پر بھی ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد ہارون رشید قادری کولمبوی گجراتی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...