Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1324 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.2K Views

میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور دیا کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور دیا کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور دیا کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شر ع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص تمام گاؤں والوں کی موجودگی میں اپنی بیوی سے یہ کہتا ہے کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور دیا” یہ لفظ ایک بار انہوں نے کہا کہ وہاں موجود ایک شخص نے کہا کہ اگر تم اپنی بیوی کو طلاق دیتے ہو تو اس طرح کہو “میں تمہیں اللہ اور اس کے رسول کے درمیان طلاق دیتا ہوں” یہ لفظ لڑکے نے تین بار کہا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں، اگر ہو گی تو کون سی طلاق واقع ہوگی اور ان دونوں کے مابین خلوت صحیحہ واقع ہے لیکن وطی نہیں ہوا ہے جیسا کہ دونوں میاں بیوی اس بات کے قائل ہیں وطی نہیں ہوئی اس کے لئے دونوں قسم کھانے کو تیار ہیں ۔۔اب وہ دونوں رجعت کرنے کو تیار ہے۔ رجعت کی کیاصورت ہوگی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں؟ سائل: نیاز احمد خوشحالڈيھ ضلع بلرام پور یوپی  الجواب اللهم هداية الحق والصواب سوال میں مذکور ہے کہ میاں بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ(زوج زوجہ ایک مکان میں جمع ہوں اور کوئی چیز مانع جماع نہ ہو) ہوچکی ہے خلوت صحیحہ احناف رحمھم اللہ کے نزدیک چونکہ قائم مقام وطی کے ہے لہذا صورت مسؤلہ میں ذکر کردہ الفاظ سے عورت پر تین طلاق واقع ہو گئیں تین طلاق ہوجانے کے بعد اب کسی طرح رجعت نہیں ہوسکتی-عورت کے لیے اب حکم شرع یہی ہے کہ وہ عدت گزارے اگر غیر حاملہ ہے تو اسکی عدت تین حیض ہے لیکن اگر حاملہ ہے تو پھر اسکی عدت وضع حمل ہے تکمیل عدت کے بعد وہ شوہر اول کے علاوہ کسی دوسرے شخص سنی صحیح العقیدہ سے نکاح کرسکتی ہے شوہر اول سے اب اسکا دوبارہ نکاح تبھی ہوسکتا ہے جب شوہر ثانی وطی کے بعد طلاق دیدے یا فوت ہوجائے پھر اسکے بعد عورت عدت گزار لے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے “صورہ مستفسرہ میں اگر زوج و زوجہ تنہائی کے مکان میں یکجا ہولیے ہوں اور ان میں کوئی مانع حقیقی ایسا نہ جسکی وجہ سے وطی اصلا نہ ہوسکے اسکے بعد زید نے طلاق دی تو بیشک ہندہ پر عدت واجب ہے اگر چہ مباشرت نہ ہوئی” فان الخلوة الصحيحة فى النكاح الصحيح مثل الوطى فى ايجاب العدة وصحة الخلوة ههنا لعدم المانع الحقيقى وان وجد مانع شرعى كالصوم” شرح نقایہ میں ہے”العدة للطلاق بعد الدخول أو الخلوة الصحيحة فانه لو طلقها قبل الدخول أو بعد الخلوة الفاسدة والفساد لعجزه عن الوطى حقيقة لم تجب العدة ولو لأمر شرعى كصوم الفرض تجب كما فى قاضيخان وذكر فى المحيط أنه لا عدة بخلوة الرتقا اھ ملخصا۔ پس اگر عدت کے دوران کہ بعد طلاق تین حیض کامل کا گزرنا ہے دوسرے سے نکاح کرے گی ہرگز صحیح نہ ہوگا اور حرام محض رہے گا ۔ عالمگیری میں ہے” لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذا المعتدة كذا فى السراج الوهاج سواء كانت العدة عن طلاق أو وفات أو دخول فى نكاح فاسد أو شبهة نكاح كذا فى البدائع” (ج ۵ ص ۶۲۳) نیز اسی میں ہے ” جب طلاقیں تین تک پہنچ جائیں پھر وہ عورت اس کے لیے بے حلالہ حلال نہیں ہوسکتی قال اللہ تعالی فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره والله تعالى أعلم”(ج ۵ ص ۶۳۴) اور فتاوی امجدیہ میں ہے “حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اس طلاق کی عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے پھر وہ دوسرا شوہر اس سے وطی کرنے کے بعد طلاق دیدے یا مرجائے پھر اس طلاق یا موت کی عدت گزر جانے کے بعد شوہر اول سے نکاح جائز ہوگا- حلالہ کے لیے دوسرے شوہر کا وطی یعنی دخول کرنا ضروری ہے بغیر اس کے شوہر اول کے لیے حلال نہیں ہوسکتی “(ج ۲ ص ۲۷۶) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۲۶/جمادی الآخرہ مطابق ۳۰/جنوری ۲۰۲۲ء الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h2>میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور دیا کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں ؟</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شر ع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص تمام گاؤں والوں کی موجودگی میں اپنی بیوی سے یہ کہتا ہے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور دیا" یہ لفظ ایک بار انہوں نے کہا کہ وہاں موجود ایک شخص نے کہا کہ اگر تم اپنی بیوی کو طلاق دیتے ہو تو اس طرح کہو "میں تمہیں اللہ اور اس کے رسول کے درمیان طلاق دیتا ہوں" یہ لفظ لڑکے نے تین بار کہا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں، اگر ہو گی تو کون سی طلاق واقع ہوگی اور ان دونوں کے مابین خلوت صحیحہ واقع ہے لیکن وطی نہیں ہوا ہے جیسا کہ دونوں میاں بیوی اس بات کے قائل ہیں وطی نہیں ہوئی اس کے لئے دونوں قسم کھانے کو تیار ہیں ۔۔اب وہ دونوں رجعت کرنے کو تیار ہے۔ رجعت کی کیاصورت ہوگی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں؟ سائل: نیاز احمد خوشحالڈيھ ضلع بلرام پور یوپی <span style="color: #ff0000;"><strong> الجواب اللهم هداية الحق والصواب</strong></span> سوال میں مذکور ہے کہ میاں بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ(زوج زوجہ ایک مکان میں جمع ہوں اور کوئی چیز مانع جماع نہ ہو) ہوچکی ہے خلوت صحیحہ احناف رحمھم اللہ کے نزدیک چونکہ قائم مقام وطی کے ہے لہذا صورت مسؤلہ میں ذکر کردہ الفاظ سے عورت پر تین طلاق واقع ہو گئیں تین طلاق ہوجانے کے بعد اب کسی طرح رجعت نہیں ہوسکتی-عورت کے لیے اب حکم شرع یہی ہے کہ وہ عدت گزارے اگر غیر حاملہ ہے تو اسکی عدت تین حیض ہے لیکن اگر حاملہ ہے تو پھر اسکی عدت وضع حمل ہے تکمیل عدت کے بعد وہ شوہر اول کے علاوہ کسی دوسرے شخص سنی صحیح العقیدہ سے نکاح کرسکتی ہے شوہر اول سے اب اسکا دوبارہ نکاح تبھی ہوسکتا ہے جب شوہر ثانی وطی کے بعد طلاق دیدے یا فوت ہوجائے پھر اسکے بعد عورت عدت گزار لے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے "صورہ مستفسرہ میں اگر زوج و زوجہ تنہائی کے مکان میں یکجا ہولیے ہوں اور ان میں کوئی مانع حقیقی ایسا نہ جسکی وجہ سے وطی اصلا نہ ہوسکے اسکے بعد زید نے طلاق دی تو بیشک ہندہ پر عدت واجب ہے اگر چہ مباشرت نہ ہوئی<span style="color: #ff0000;"><strong>" فان الخلوة الصحيحة فى النكاح الصحيح مثل الوطى فى ايجاب العدة وصحة الخلوة ههنا لعدم المانع الحقيقى وان وجد مانع شرعى كالصوم" شرح نقایہ میں ہے"العدة للطلاق بعد الدخول أو الخلوة الصحيحة فانه لو طلقها قبل الدخول أو بعد الخلوة الفاسدة والفساد لعجزه عن الوطى حقيقة لم تجب العدة ولو لأمر شرعى كصوم الفرض تجب كما فى قاضيخان وذكر فى المحيط أنه لا عدة بخلوة الرتقا اھ ملخصا۔</strong></span> پس اگر عدت کے دوران کہ بعد طلاق تین حیض کامل کا گزرنا ہے دوسرے سے نکاح کرے گی ہرگز صحیح نہ ہوگا اور حرام محض رہے گا ۔ عالمگیری میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>" لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذا المعتدة كذا فى السراج الوهاج سواء كانت العدة عن طلاق أو وفات أو دخول فى نكاح فاسد أو شبهة نكاح كذا فى البدائع" (ج ۵ ص ۶۲۳)</strong></span> نیز اسی میں ہے " جب طلاقیں تین تک پہنچ جائیں پھر وہ عورت اس کے لیے بے حلالہ حلال نہیں ہوسکتی قال اللہ تعالی فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره والله تعالى أعلم"(ج ۵ ص ۶۳۴) اور فتاوی امجدیہ میں ہے "حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اس طلاق کی عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے پھر وہ دوسرا شوہر اس سے وطی کرنے کے بعد طلاق دیدے یا مرجائے پھر اس طلاق یا موت کی عدت گزر جانے کے بعد شوہر اول سے نکاح جائز ہوگا- حلالہ کے لیے دوسرے شوہر کا وطی یعنی دخول کرنا ضروری ہے بغیر اس کے شوہر اول کے لیے حلال نہیں ہوسکتی "(ج ۲ ص ۲۷۶) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۲۶/جمادی الآخرہ مطابق ۳۰/جنوری ۲۰۲۲ء</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...