Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1326
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.5K Views
غسل میں کتنے فرائض ہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
غسل میں کتنے فرائض ہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
غسل میں کتنے فرائض ہیں؟
الجوابــــــــــــــــــــ غسل میں تین فرض ہیں. اول) کلی کرنا یعنی منہ کے ہر پرزے گوشے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہہ جائے. دوم) ناک میں پانی ڈالنا یعنی ناک کے دونوں نتھنوں میں جہاں تک نرم جگہ ہے (سخت ہڈی تک دھنا) سوم) تمام ظاہری بدن پر پانی کا بہہ جانا یعنی سر کے بالوں سے تلووں کے نیچے تک جسم کے ہر پرزے رونگٹے کی بیرونی سطح پر پانی کا بہہ جانا. در مختار مع شامی جلد اول صفحہ 111 میں ہے ” فرض الغسل غسل کل فمہ وانفہ حتی ما تحت الدرن وبدنہ لا دلکہ ویفرض غسل کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرۃ. ١ھ. اور حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ غسل کے تین جز ہیں. اگر ان میں سے ایک میں بھی کمی ہوئی غسل نہ ہوگا چاہے یوں کہو کہ تین فرض ہیں (1) کلی کہ منہ کے ہر پرزے گوشے ہونٹ سے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہہ جائے. (2) ناک میں پانی ڈالنا یعنی دونوں نتھنوں کا جہاں تک نرم جگہ ہے اس کا دھلنا کہ پانی کو سونگھ کر او پر چڑھائے بال برابر بھی جگہ بھی دھلنے سے رہ نہ جائے ورنہ غسل نہ ہو گا. ناک کے اندر رینٹھ سوکھ گئی ہے تو اس کا چھڑانا فرض ہے نیز ناک کے بالوں کا دھونا بھی فرض ہے. (3) تمام ظاہری بدن یعنی سر کے بالوں سے تلووں تک جسم کے ہر پرزے رونگٹے پر پانی بہہ جانا. بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 34 مزید تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ جلد اول صفحہ 94 ملاحظہ فرمائیں. واللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد سمیر الدین حبیبی مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
Kutubahu & Verified by:
<h2>غسل میں کتنے فرائض ہیں؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــ</strong></span> غسل میں تین فرض ہیں. <strong>اول)</strong> کلی کرنا یعنی منہ کے ہر پرزے گوشے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہہ جائے. <strong>دوم)</strong> ناک میں پانی ڈالنا یعنی ناک کے دونوں نتھنوں میں جہاں تک نرم جگہ ہے (سخت ہڈی تک دھنا) <strong>سوم)</strong> تمام ظاہری بدن پر پانی کا بہہ جانا یعنی سر کے بالوں سے تلووں کے نیچے تک جسم کے ہر پرزے رونگٹے کی بیرونی سطح پر پانی کا بہہ جانا. در مختار مع شامی جلد اول صفحہ 111 میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' فرض الغسل غسل کل فمہ وانفہ حتی ما تحت الدرن وبدنہ لا دلکہ ویفرض غسل کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرۃ. ١ھ.</strong></span> اور حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ غسل کے تین جز ہیں. اگر ان میں سے ایک میں بھی کمی ہوئی غسل نہ ہوگا چاہے یوں کہو کہ تین فرض ہیں <strong>(1)</strong> کلی کہ منہ کے ہر پرزے گوشے ہونٹ سے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہہ جائے. <strong>(2)</strong> ناک میں پانی ڈالنا یعنی دونوں نتھنوں کا جہاں تک نرم جگہ ہے اس کا دھلنا کہ پانی کو سونگھ کر او پر چڑھائے بال برابر بھی جگہ بھی دھلنے سے رہ نہ جائے ورنہ غسل نہ ہو گا. ناک کے اندر رینٹھ سوکھ گئی ہے تو اس کا چھڑانا فرض ہے نیز ناک کے بالوں کا دھونا بھی فرض ہے. <strong>(3)</strong> تمام ظاہری بدن یعنی سر کے بالوں سے تلووں تک جسم کے ہر پرزے رونگٹے پر پانی بہہ جانا. بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 34 مزید تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ جلد اول صفحہ 94 ملاحظہ فرمائیں. واللہ تعالیٰ اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد سمیر الدین حبیبی مصباحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...