Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1331 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12K Views

مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟

سوال :مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟ اس کی وجہ کیا ہے جواب عنایت فرمائیں؟ المستفتی:محمد رضا بلرام پور بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے ۔ حدیث شریف میں ہے “عن ابی رافع قال:سل رسول ﷲ سعدا ورش علی قبرہ ماءً، اھ(شرح ابن ماجہ للسندی ج٢ص٢٤٢باب ماجاء فی إدخال المیت القبر،الحدیث:١٥٥١) حضرتِ ابو رافع سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرتِ سعد ابن معاذ رضی ﷲ عنہ کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا. فتاوی شامی میں ہے“عن جعفربن محمد عن ابیہ ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم رشّ علی قبرابنہ ابراھیم ووضع علیہ حصباء ،وھو مرسل صحيح” اھ(ج٣ص١٣٣ کتاب الصلاۃ، مطلب فی دفن المیت) حضرتِ جعفربن محمد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کے قبر پر پانی چھڑکا اور اس پر سنگریزے رکھے یہ حدیث مرسل صحیح ہے. در مختار مع ردالمحتار میں ہے” ولابأس برشّ الماء علیہ بل ینبغی ان یندب لانہ صلی اللہ علیہ وسلم فعل بقبر سعد کما رواہ ابن ماجہ وبقبر ولدہ ابراہیم کما رواہ ابوداؤد فی مراسیلہ وأمر بہ فی قبر عثمان بن مظعون کما رواہ البزار” اھ(ج٣ص١٣٤،کتاب الصلاۃ،مطلب فی دفن المیت) نیز فتاوی رضویہ ج٤ص١٨٥ بھی ملاحظہ فرمائیں. وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٦جمادی الثانی ١٤٤٣

Kutubahu & Verified by:

<h2>مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟</h2> سوال :مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟ اس کی وجہ کیا ہے جواب عنایت فرمائیں؟ المستفتی:محمد رضا بلرام پور بسم ﷲ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے ۔ حدیث شریف میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"عن ابی رافع قال:سل رسول ﷲ سعدا ورش علی قبرہ ماءً، اھ</strong></span>(شرح ابن ماجہ للسندی ج٢ص٢٤٢باب ماجاء فی إدخال المیت القبر،الحدیث:١٥٥١) حضرتِ ابو رافع سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرتِ سعد ابن معاذ رضی ﷲ عنہ کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا. فتاوی شامی میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"عن جعفربن محمد عن ابیہ ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم رشّ علی قبرابنہ ابراھیم ووضع علیہ حصباء ،وھو مرسل صحيح" اھ</strong></span>(ج٣ص١٣٣ کتاب الصلاۃ، مطلب فی دفن المیت) حضرتِ جعفربن محمد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کے قبر پر پانی چھڑکا اور اس پر سنگریزے رکھے یہ حدیث مرسل صحیح ہے. در مختار مع ردالمحتار میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>" ولابأس برشّ الماء علیہ بل ینبغی ان یندب لانہ صلی اللہ علیہ وسلم فعل بقبر سعد کما رواہ ابن ماجہ وبقبر ولدہ ابراہیم کما رواہ ابوداؤد فی مراسیلہ وأمر بہ فی قبر عثمان بن مظعون کما رواہ البزار" اھ</strong></span>(ج٣ص١٣٤،کتاب الصلاۃ،مطلب فی دفن المیت) نیز فتاوی رضویہ ج٤ص١٨٥ بھی ملاحظہ فرمائیں. وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٦جمادی الثانی ١٤٤٣</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...