Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1331
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12K Views
مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟
سوال :مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟ اس کی وجہ کیا ہے جواب عنایت فرمائیں؟ المستفتی:محمد رضا بلرام پور بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے ۔ حدیث شریف میں ہے “عن ابی رافع قال:سل رسول ﷲ سعدا ورش علی قبرہ ماءً، اھ(شرح ابن ماجہ للسندی ج٢ص٢٤٢باب ماجاء فی إدخال المیت القبر،الحدیث:١٥٥١) حضرتِ ابو رافع سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرتِ سعد ابن معاذ رضی ﷲ عنہ کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا. فتاوی شامی میں ہے“عن جعفربن محمد عن ابیہ ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم رشّ علی قبرابنہ ابراھیم ووضع علیہ حصباء ،وھو مرسل صحيح” اھ(ج٣ص١٣٣ کتاب الصلاۃ، مطلب فی دفن المیت) حضرتِ جعفربن محمد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کے قبر پر پانی چھڑکا اور اس پر سنگریزے رکھے یہ حدیث مرسل صحیح ہے. در مختار مع ردالمحتار میں ہے” ولابأس برشّ الماء علیہ بل ینبغی ان یندب لانہ صلی اللہ علیہ وسلم فعل بقبر سعد کما رواہ ابن ماجہ وبقبر ولدہ ابراہیم کما رواہ ابوداؤد فی مراسیلہ وأمر بہ فی قبر عثمان بن مظعون کما رواہ البزار” اھ(ج٣ص١٣٤،کتاب الصلاۃ،مطلب فی دفن المیت) نیز فتاوی رضویہ ج٤ص١٨٥ بھی ملاحظہ فرمائیں. وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٦جمادی الثانی ١٤٤٣
Kutubahu & Verified by:
<h2>مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟</h2> سوال :مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟ اس کی وجہ کیا ہے جواب عنایت فرمائیں؟ المستفتی:محمد رضا بلرام پور بسم ﷲ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے ۔ حدیث شریف میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"عن ابی رافع قال:سل رسول ﷲ سعدا ورش علی قبرہ ماءً، اھ</strong></span>(شرح ابن ماجہ للسندی ج٢ص٢٤٢باب ماجاء فی إدخال المیت القبر،الحدیث:١٥٥١) حضرتِ ابو رافع سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرتِ سعد ابن معاذ رضی ﷲ عنہ کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا. فتاوی شامی میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"عن جعفربن محمد عن ابیہ ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم رشّ علی قبرابنہ ابراھیم ووضع علیہ حصباء ،وھو مرسل صحيح" اھ</strong></span>(ج٣ص١٣٣ کتاب الصلاۃ، مطلب فی دفن المیت) حضرتِ جعفربن محمد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کے قبر پر پانی چھڑکا اور اس پر سنگریزے رکھے یہ حدیث مرسل صحیح ہے. در مختار مع ردالمحتار میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>" ولابأس برشّ الماء علیہ بل ینبغی ان یندب لانہ صلی اللہ علیہ وسلم فعل بقبر سعد کما رواہ ابن ماجہ وبقبر ولدہ ابراہیم کما رواہ ابوداؤد فی مراسیلہ وأمر بہ فی قبر عثمان بن مظعون کما رواہ البزار" اھ</strong></span>(ج٣ص١٣٤،کتاب الصلاۃ،مطلب فی دفن المیت) نیز فتاوی رضویہ ج٤ص١٨٥ بھی ملاحظہ فرمائیں. وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٦جمادی الثانی ١٤٤٣</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...