Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1332 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.1K Views

بتوں کی تجارت کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی ارشد حسین فیضی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بتوں کی تجارت کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی ارشد حسین فیضی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بتوں کی تجارت کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی ارشد حسین فیضی

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مورتی اور ہندوؤں کے بت یا بدھا کی مورتی کی تجارت کی جا سکتی ہے عند الشرع حکم کیا ہے؟ المستفتی:عبدالرزاق باندرا برج آنند گجرات۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب بت کی تجارت ناجائز وحرام ہے خواہ ہندوؤں کا ہو ا یا کسی اور قوم کا اور اس سے حاصل ہونے والا مال بھی خبیث وحرام ہے. حدیث شریف میں ہے“عن جابر بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہما انہ سمع رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یقول عام الفتح وھو بمکۃ ان ﷲ ورسولہ حرم بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر والاصنام ۔ فقیل یا رسول ﷲ ارایت شحوم المیتۃ فانھا یطلی بھا السفن ویدھن بھا الجلود ویستصبح بھا الناس فقال لا ھو حرام ۔ ثم قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم عند ذالک قاتل ﷲ الیھود ان ﷲ لما حرم شحومھا جملوہ ثم باعوہ فاکلوا ثمنہ”اھ (صحیح البخاری ج١ص٣٩٤،کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام،مکتبہ رحمانیہ) ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور اس وقت آپ مکہ میں تھے کہ ﷲ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام کردیا ہے ۔ آپ سے پوچھا گیا یا رسول ﷲ! مردار کی چربی کے متعلق بتائیں کیونکہ اس کو ہم اپنی کشتیوں پر ملتے ہیں اور اس کا تیل کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے اپنے چراغ جلاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا نہیں وہ حرام ہے ۔ اللہ یہود پر لعنت کرے جب ﷲ نے ان پر مردار کی چربی حرام کی تو انہوں نے اس کو پگھلا کر فروخت کیا پھر اس کی قیمت کھائی. عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے“والاجماع قائم علی انہ لایجوز بیع المیتۃ والاصنام لانہ لایحل الانتفاع بھا ووضع الثمن فیھا اضاعۃمال وقد نھی الشارع عن اضاعتہ قلت علی ھذا التعلیل اذا کسرت الاصنام وامکن الانتفاع برضاضھا جاز بیعھا عند بعض الشافعیۃ وبعض الحنفیۃ” اھ  (ج١٢ص٥٥،کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام،مطبہ: دار الفکر) بلکہ ان کی تجارت میں ایک طرح سے ترویج کفر پر اعانت کرنا ہے ارشاد باری تعالی ہے” تعاونوا علی البر والتقوى و لا تعاونوا علی الاثم والعدوان”(سورۃ المائدۃ،الا’یۃ:٢) نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو. وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی / ١٨جمادی الثانی ١٤٤٣ھ

Kutubahu & Verified by:

<h2>بتوں کی تجارت کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی ارشد حسین فیضی</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مورتی اور ہندوؤں کے بت یا بدھا کی مورتی کی تجارت کی جا سکتی ہے عند الشرع حکم کیا ہے؟ المستفتی:عبدالرزاق باندرا برج آنند گجرات۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> بت کی تجارت ناجائز وحرام ہے خواہ ہندوؤں کا ہو ا یا کسی اور قوم کا اور اس سے حاصل ہونے والا مال بھی خبیث وحرام ہے. حدیث شریف میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"عن جابر بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہما انہ سمع رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یقول عام الفتح وھو بمکۃ ان ﷲ ورسولہ حرم بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر والاصنام ۔ فقیل یا رسول ﷲ ارایت شحوم المیتۃ فانھا یطلی بھا السفن ویدھن بھا الجلود ویستصبح بھا الناس فقال لا ھو حرام ۔ ثم قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم عند ذالک قاتل ﷲ الیھود ان ﷲ لما حرم شحومھا جملوہ ثم باعوہ فاکلوا ثمنہ"اھ </strong></span>(صحیح البخاری ج١ص٣٩٤،کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام،مکتبہ رحمانیہ) ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور اس وقت آپ مکہ میں تھے کہ ﷲ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام کردیا ہے ۔ آپ سے پوچھا گیا یا رسول ﷲ! مردار کی چربی کے متعلق بتائیں کیونکہ اس کو ہم اپنی کشتیوں پر ملتے ہیں اور اس کا تیل کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے اپنے چراغ جلاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا نہیں وہ حرام ہے ۔ اللہ یہود پر لعنت کرے جب ﷲ نے ان پر مردار کی چربی حرام کی تو انہوں نے اس کو پگھلا کر فروخت کیا پھر اس کی قیمت کھائی. عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"والاجماع قائم علی انہ لایجوز بیع المیتۃ والاصنام لانہ لایحل الانتفاع بھا ووضع الثمن فیھا اضاعۃمال وقد نھی الشارع عن اضاعتہ قلت علی ھذا التعلیل اذا کسرت الاصنام وامکن الانتفاع برضاضھا جاز بیعھا عند بعض الشافعیۃ وبعض الحنفیۃ" اھ  </strong></span>(ج١٢ص٥٥،کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام،مطبہ: دار الفکر) بلکہ ان کی تجارت میں ایک طرح سے ترویج کفر پر اعانت کرنا ہے ارشاد باری تعالی ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>" تعاونوا علی البر والتقوى و لا تعاونوا علی الاثم والعدوان"</strong></span>(سورۃ المائدۃ،الا'یۃ:٢) نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو. وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی / ١٨جمادی الثانی ١٤٤٣ھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...