Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1333 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.2K Views

سودی کام میں معاونت حرام ہے / سودی کام مدد کرنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سودی کام میں معاونت حرام ہے / سودی کام مدد کرنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سودی کام میں معاونت حرام ہے / سودی کام مدد کرنا کیسا ہے ؟

علماے کرام اور مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ میں ایک پرائیویٹ بینک میں اسسٹنٹ مینجر ہوں، مجھے لوگوں کو گولڈ لون، ہوم لون اور مورگس لون اور بھی کئی قسم کے لون ہیں اس کا کام میرے ذریعے سے ہوتا ہے، یعنی میں ان کو دیتا ہوں کمپنی کی طرف سے، تو کیا ایسی نوکری کرنا میرے لیے جائز ہوگا؟ جب کہ میں صرف ان کا امپلائی ہوں، یہی میری ڈیوٹی ہے، شریعت کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں اور اجر کے مستحق ہوں۔شکریہ۔ مستفتی عبدالقادر، بلیا، یوپی الجواب بعون الملک الوھاب بینک سے لون دینے میں اگر سودی تمسکات تیار کرنا پڑے ،یا کسی بھی طرح سے سودی لین دین میں تعاون کرنا پڑے تو اس طرح کی ملازمت جائز نہیں. قرآن مجید میں ہے: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿البقرۃ:٢٧٥﴾ دوسری جگہ ارشاد ہے : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ}[البقرة:٢٧٨-٢٧٩] تیسری جگہ ارشاد ہے : {وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}[المائدة:٢] حدیث شریف میں ہے : “عن جابر قال: لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء”. (الصحيح لمسلم، با ب لعن آکل الربا، ومؤکله، ۲/۲۷) شرح صحيح مسلم للنووی میں ہے: فیہ تحریم الاعانۃ علی الباطل۔‘‘(المنھاج شرح مسلم بن الحجاج للنووی ٢/ ٢٨) عمدۃ القاری میں ہے: “إن آيات الربا التي في آخر سورة البقرة مبينة لأحكامه وذامة لآكليه، فإن قلت: ليس في الحديث شيء يدل على كاتب الربا وشاهده؟ قلت: لما كانا معاونين على الأكل صارا كأنهما قائلان أيضا: إنما البيع مثل الربا، أو كانا راضيين بفعله، والرضى بالحرام حرام” (عمدة القاري شرح صحيح البخاري ١١/ ٢٠٠) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٦رجب ١٤٤٣/ ٨فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h3>سودی کام میں معاونت حرام ہے / سودی کام مدد کرنا کیسا ہے ؟</h3> علماے کرام اور مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ میں ایک پرائیویٹ بینک میں اسسٹنٹ مینجر ہوں، مجھے لوگوں کو گولڈ لون، ہوم لون اور مورگس لون اور بھی کئی قسم کے لون ہیں اس کا کام میرے ذریعے سے ہوتا ہے، یعنی میں ان کو دیتا ہوں کمپنی کی طرف سے، تو کیا ایسی نوکری کرنا میرے لیے جائز ہوگا؟ جب کہ میں صرف ان کا امپلائی ہوں، یہی میری ڈیوٹی ہے، شریعت کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں اور اجر کے مستحق ہوں۔شکریہ۔ مستفتی عبدالقادر، بلیا، یوپی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong> </span> بینک سے لون دینے میں اگر سودی تمسکات تیار کرنا پڑے ،یا کسی بھی طرح سے سودی لین دین میں تعاون کرنا پڑے تو اس طرح کی ملازمت جائز نہیں. قرآن مجید میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿البقرۃ:٢٧٥﴾</strong></span> دوسری جگہ ارشاد ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ}[البقرة:٢٧٨-٢٧٩]</strong></span> تیسری جگہ ارشاد ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>{وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}[المائدة:٢]</strong></span> حدیث شریف میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>"عن جابر قال: لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء".</strong></span> (الصحيح لمسلم، با ب لعن آکل الربا، ومؤکله، ۲/۲۷) شرح صحيح مسلم للنووی میں ہے: فیہ تحریم الاعانۃ علی الباطل۔‘‘(المنھاج شرح مسلم بن الحجاج للنووی ٢/ ٢٨) عمدۃ القاری میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"إن آيات الربا التي في آخر سورة البقرة مبينة لأحكامه وذامة لآكليه، فإن قلت: ليس في الحديث شيء يدل على كاتب الربا وشاهده؟ قلت: لما كانا معاونين على الأكل صارا كأنهما قائلان أيضا: إنما البيع مثل الربا، أو كانا راضيين بفعله، والرضى بالحرام حرام"</strong></span> (عمدة القاري شرح صحيح البخاري ١١/ ٢٠٠) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٦رجب ١٤٤٣/ ٨فروری ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی</strong></span> <strong style="color: #339966;">خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...