Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1336 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.5K Views

ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟

سوال : ایسے آدمی کی دعوت قبول کرنا یا اس سے چندہ لینا جس کے پاس حلا ل و حرام دونوں قسم کا مال ہو کیسا ہے ؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب جب تک یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ وہ بعینہ مال حرام سے چندہ دے رہا ہے ۔یا دعوت کرارہا ہے اس وقت تک اس سے چندہ لینا اور اس کے یہاں دعوت کھانا ۔اس کا ہدیہ قبول کرنا سب جائزو درست ہے مگر اس سب سے بچنا اولی ہے کہ خواہ مخواہ لوگ بدگمانی کے شکار ہونگے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے “جائز بایں معنی تو ہے کہ کھاے گا تو کوئی شئ حرام نہ کھائی جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ شئ جو میرے سامنے آئی بعینہ حرام ہے ۔ بہ ناخذ مالم نعرف شیا حرام بعینہ نص علیہ محررالمذھب الامام محمد رحمہ اللہ تعالی کمافی الذخیرہ وغیرھا. مگر احتراز اولی خصوصا جب کہ غالب حرام ہو خروجا عن الخلاف وکما فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن الامام ابی جعفر احب الی فی دینہ ان لا یاکل ویسعہ حکما ان لم یکن ذلک الطعام غصبا ورشوۃ “اھ (فتاوی رضویہ. ج. 9 ص. 106 ) کتبـــــــہ: شاہد رضا امجدی جامعی بالپور بازار گونڈا

Kutubahu & Verified by:

<h3>ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟</h3> سوال : ایسے آدمی کی دعوت قبول کرنا یا اس سے چندہ لینا جس کے پاس حلا ل و حرام دونوں قسم کا مال ہو کیسا ہے ؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> جب تک یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ وہ بعینہ مال حرام سے چندہ دے رہا ہے ۔یا دعوت کرارہا ہے اس وقت تک اس سے چندہ لینا اور اس کے یہاں دعوت کھانا ۔اس کا ہدیہ قبول کرنا سب جائزو درست ہے مگر اس سب سے بچنا اولی ہے کہ خواہ مخواہ لوگ بدگمانی کے شکار ہونگے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے "جائز بایں معنی تو ہے کہ کھاے گا تو کوئی شئ حرام نہ کھائی جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ شئ جو میرے سامنے آئی بعینہ حرام ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>بہ ناخذ مالم نعرف شیا حرام بعینہ نص علیہ محررالمذھب الامام محمد رحمہ اللہ تعالی کمافی الذخیرہ وغیرھا.</strong> </span>مگر احتراز اولی خصوصا جب کہ غالب حرام ہو خروجا عن الخلاف وکما فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن الامام ابی جعفر احب الی فی دینہ ان لا یاکل ویسعہ حکما ان لم یکن ذلک الطعام غصبا ورشوۃ "اھ (فتاوی رضویہ. ج. 9 ص. 106 ) <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــہ: شاہد رضا امجدی جامعی بالپور بازار گونڈا</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...