Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1342 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.2K Views

چمڑے کے موزے کے نیچے اونی یا سوتی موزہ پہنا ہو تو مسح کر سکتا ہے یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

چمڑے کے موزے کے نیچے اونی یا سوتی موزہ پہنا ہو تو مسح کر سکتا ہے یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

چمڑے کے موزے کے نیچے اونی یا سوتی موزہ پہنا ہو تو مسح کر سکتا ہے یا نہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں اگر چمڑے کے موزے کے نیچے اونی یا سو تی وغیرہ موزہ پہنا تو اس صورت میں اس چمڑے کے موزے پر مسح کر سکتے ہیں یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــ اگر چمڑے کے موزے کے نیچے اونی یا سوتی وغیرہ موزہ پہنا ہو تو بھی اس چمڑے کے موزے پر مسح کر سکتے ہیں. غنیہ شرح منیہ میں ہے : وقالا یجوز اذا کان ثخینین لا یشفان فان الجورب اذا کان بحیث لا یجاوز الماء منہ الی القدم فھو بمنزلۃ الادیم والصرم فی عدم جذب الماء الی نفسہ ھو علیہ ای علی قول ابی یو سف ومحمد الفتوی ١ھ ملخصا. (ص 120 فصل فی المسح علی الخفین) اعلی حضرت محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں جو پائتابے ان تینوں وصف مجلد منعل ثخین سے خالی ہو ان پر مسح بالاتفاق ناجائز ہے. ہاں اگر ان پر چمڑا منڈھ لیں یا چمڑے کا تلا لگا لیں تو بالاتفاق صاحبین کے نزدیک مسح جائز ہوگا اور اسی پر فتویٰ ہے ( فتاوی رضویہ صفحہ 32 جلد دوم) و اللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد حسین الرضوی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h3>چمڑے کے موزے کے نیچے اونی یا سوتی موزہ پہنا ہو تو مسح کر سکتا ہے یا نہیں؟</h3> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں اگر چمڑے کے موزے کے نیچے اونی یا سو تی وغیرہ موزہ پہنا تو اس صورت میں اس چمڑے کے موزے پر مسح کر سکتے ہیں یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــ</strong></span> اگر چمڑے کے موزے کے نیچے اونی یا سوتی وغیرہ موزہ پہنا ہو تو بھی اس چمڑے کے موزے پر مسح کر سکتے ہیں. غنیہ شرح منیہ میں ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong> وقالا یجوز اذا کان ثخینین لا یشفان فان الجورب اذا کان بحیث لا یجاوز الماء منہ الی القدم فھو بمنزلۃ الادیم والصرم فی عدم جذب الماء الی نفسہ ھو علیہ ای علی قول ابی یو سف ومحمد الفتوی ١ھ ملخصا.</strong></span> (ص 120 فصل فی المسح علی الخفین) اعلی حضرت محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں جو پائتابے ان تینوں وصف مجلد منعل ثخین سے خالی ہو ان پر مسح بالاتفاق ناجائز ہے. ہاں اگر ان پر چمڑا منڈھ لیں یا چمڑے کا تلا لگا لیں تو بالاتفاق صاحبین کے نزدیک مسح جائز ہوگا اور اسی پر فتویٰ ہے ( فتاوی رضویہ صفحہ 32 جلد دوم) و اللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد حسین الرضوی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...