Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1343
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.3K Views
میت کا کھانا نہ کھانے والے کو وہابی دیوبندی کہنا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
میت کا کھانا نہ کھانے والے کو وہابی دیوبندی کہنا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
میت کا کھانا نہ کھانے والے کو وہابی دیوبندی کہنا کیسا ہے ؟
سوال :بعض سنی احباب میت کے کھانے سے اجتناب کرتے ہیں جس کی وجہ سے بعض سنی عوام انہیں وہابی اور دیوبندی کہنا شروع کردیتے ھیں۔ مذکورہ بالا اشخاص کے متعلق شرعی احکام بیان فرما کر عنداللہ ماجور وعندالناس مشکور ہوں۔ فقط والسلام۔ المستفتی :صلاح الدین قادری دارالعلوم غوثیہ رضویہ قصبہ سیدپور رودولی شریف ضلع ایودھیا الجواب بعون الملک الوہاب بسم اللہ الرحمن الرحیم میت کو ایصال ثواب کی نیت سے تیجہ دسواں بیسواں چالیسواں اور برسی وغیرہ کرنا اور فقرا و مساکین کو کھلانا بے شک جائز ہے مگر وہابی دیوبندی اس سے روکتے ہیں اور ناجائز کہتے ہیں۔ البتہ تیجہ دسواں بیسواں چالیسواں اور برسی وغیرہ کے موقع پر میت کو ایصال ثواب کی نیت سے جو کھانا کھلایا جاتا ہے اس کھانے کے مستحق فقرا اور مساکین ہیں مالدار اور خوش حال لوگوں کو اس کھانے سے اجتناب بہتر ہے۔ سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تیجہ دسواں چالیسواں سب جائز ہیں جب بہ نیت محمود و بطریق محمود ہوں اور ان کا کھانا مساکین و فقرا کے لئے چاہئے برادری کی دعوت کے طور پر نہ ہو فان الدعوة إنما شرعت في السرور لا في الشرور فتح وغيره ۔ (فتاوی رضویہ جدید ج 21 ص 644) نیز ایک مقام پر فرماتے ہیں: سوم دہم چہلم وغیرہ کا کھانا مساکین کو دیا جائے برادری کو تقسیم یا برادری کو جمع کرکے کھلانا بے معنی ہے۔ (فتاوی رضویہ جدید ج 9 ص 667 ) اور ایک جگہ فرماتے ہیں: میت کی دعوت برادری کے لئے منع ہے ان کا برا ماننا حماقت ہے ہاں برادری میں جو فقیر ہو اسے دینا اور فقیر کے دینے سے افضل ہے۔ (فتاوی رضویہ جدید ج 9 ص 609) سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا: جو کھانا بہ نیت خاص برائےایصال ثواب خواہ بزرگان دین سے ہوں یا عام مسلمان پکوایا جائے تو اس کھانے کو اغنیا کھا سکتے ہیں؟ آپ نے جواب ارشاد فرمایا: اغنیاء بھی کھا سکتے ہیں سوائے اس کھانے کے جو موت میں بطور دعوت کیا جائے وہ ممنوع و بدعت ہے اور عوام مسلمین کی فاتحہ چہلم برسی ششماہی کا کھانا بھی اغنیاء کو مناسب نہیں ہے۔ (فتاوی رضویہ جدید ج 9 ص 610) لہذا جو سنی احباب غنی اور مالدار ہوں اور اس وجہ سے میت کے کھانے سے اجتناب کرتے ہوں وہ حق بجانب ہیں اور بہتر کرتے ہیں اور جو سنی احباب ان کے اس اجتناب کی بنا پر انہیں وہابی دیوبندی کہنے لگتے ہیں حالاں کہ وہ وہابیوں دیوبندیوں کی طرح عقیدہ نہیں رکھتے ہیں اور ان کو کافر سمجھتے ہیں، وہ حق پر نہیں ہیں۔ بلکہ وہ در حقیقت حقیقت سے ناواقف ہیں اور بہت بڑے سنگین جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ کیونکہ محض طعام میت سے اجتناب کی وجہ سے کسی کو وہابی دیوبندی کہنا ہرگز ہرگز درست نہیں ہے بلکہ سخت ہلاکت کا باعث ہے۔ وہابی دیوبندی عموما کافر اور ان میں کے بعض کم از کم گمراہ اور بددین ہیں، لہذا کسی کو وہابی دیوبندی کہنے کا مطلب ہے اسے کافر یا گمراہ کہنا اور کسی کو کافر و گمراہ کہنے میں بہت احتیاط لازم ہے کیونکہ اگر وہ کافر نہ ہوگا تو حکم کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: أَيُّما رَجُلٍ قالَ لأخِيهِ: يا كافِرُ، فقَدْ باءَ بها أحَدُهُما۔ جو بھی آدمی اپنے بھائی کو کہے ائے کافر! تو ضرور ان دونوں میں کوئی اس قول کے ساتھ لوٹے گا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٠١، صحيح مسلم ج ١ ص ٥٧ مطبوعة مجلس بركات ) اس مقام پر علمائے کرام نے یہ تفصیل فرمائی ہے کہ اگر محض گالی کے طور پر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر کہتا ہے تو یہ حرام ہے البتہ کہنے والا خود کافر نہ ہوگا ۔ اور اگر اعتقاد کے اعتبار سے کسی مسلم کو کافر کہتا ہے اور وہ حقیقت میں کافر نہیں ہے تب حکم کفر قائل پر لوٹ جائے گا۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: وَلَوْ قَالَ لِمُسْلِمٍ أَجْنَبِيٍّ: يَا كَافِرُ، أَوْ لِأَجْنَبِيَّةٍ يَا كَافِرَةُ، وَلَمْ يَقُلْ الْمُخَاطَبُ شَيْئًا، أَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا كَافِرَةُ، وَلَمْ تَقُلْ الْمَرْأَةُ شَيْئًا، أَوْ قَالَتْ الْمَرْأَةُ لِزَوْجِهَا: يَا كَافِرُ وَلَمْ يَقُلْ الزَّوْجُ شَيْئًا كَانَ الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَعْمَشُ الْبَلْخِيّ يَقُولُ: يَكْفُرُ هَذَا الْقَائِلُ، وَقَالَ غَيْرُهُ مِنْ مَشَايِخِ بَلْخٍ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى: لَايَكْفُرُ، وَالْمُخْتَارُ لِلْفَتْوَى فِي جِنْسِ هَذِهِ الْمَسَائِلِ أَنَّ الْقَائِلَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْمَقَالَاتِ إنْ كَانَ أَرَادَ الشَّتْمَ وَلَايَعْتَقِدُهُ كَافِرًا لَايَكْفُرُ، وَإِنْ كَانَ يَعْتَقِدُهُ كَافِرًا فَخَاطَبَهُ بِهَذَا بِنَاءً عَلَى اعْتِقَادِهِ أَنَّهُ كَافِرٌ يَكْفُرُ، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ. ( كتاب السير، الْبَابُ التَّاسِعُ فِي أَحْكَامِ الْمُرْتَدِّينَ، مطلب فِي مُوجِبَاتُ الْكُفْرِ أَنْوَاعٌ مِنْهَا مَا يَتَعَلَّقُ بِالْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ، ٢ / ٢٧٨) سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ میت کے کھانے سے اجتناب کرنے والوں کو گالی کےطور پر وہابی دیوبندی نہیں کہنا شروع کر دیتے ہیں بلکہ یہ خیال کرتے ہوئے کہ جس طرح درود فاتحہ اور ایصال ثواب سے پرہیز کرنا وہابیت اور دیوبندیت ہے اسی طرح ایصال ثواب کا کھانا کھانے سے پرہیز کرنا بھی وہابیت یا اس کی پہچان ہوگی، جو کہ غلط خیال ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اجتناب یعنی میت کا کھانا خود کھانے سے پرہیز کرنے اور منع یعنی میت کے لئے ایصال ثواب سے روکنے میں بہت فرق ہے۔ ہمارے دیار میں جو روکنے والے ہیں وہ وہابی دیوبندی ہیں، لیکن وہ مالدار سنی احباب جو از راہ تقوی میت کے کھانے سے اجتناب کرتے اور نہیں کھاتے ہیں ان پر کوئی الزام نہیں۔ پس طعام میت سے اجتناب کرنے کی بنا پر کسی کو وہابی دیوبندی خیال کر کے اسے وہابی دیوبندی کہنے والے سخت غلطی پر ہوں گے اور اگر فقط گمراہ وہابی دیوبندی سمجھتے ہیں تو ان پر صرف توبہ و استغفار کا حکم ہوگا اور اگر کافر وہابی دیوبندی سمجھتے ہیں تو بطریق فقہا تجدید ایمان کا بھی حکم ہوگا۔ نیز بہر صورت اجتناب کرنے والوں سے معافی بھی مانگنی ہوگی کہ انہیں ناحق وہابی دیوبندی کہنے میں ایذائے مسلم ہے جو کہ حرام ہے۔ قرآن مجید میں ہے: وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِناتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتاناً وَ إِثْماً مُبِيناً۔ اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔(سورہ احزاب آیت نمبر ٥٨) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من آذى مسلما فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله۔(المعجم الأوسط للامام الطبرانی، باب السين من إسمه سعید ج ٢ مطبوعة دار الفكر أردن)واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبــــہ : محمد طیب دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا ٢٨ جمادی الآخرہ 1443ھ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
Kutubahu & Verified by:
<h2>میت کا کھانا نہ کھانے والے کو وہابی دیوبندی کہنا کیسا ہے ؟</h2> سوال :بعض سنی احباب میت کے کھانے سے اجتناب کرتے ہیں جس کی وجہ سے بعض سنی عوام انہیں وہابی اور دیوبندی کہنا شروع کردیتے ھیں۔ مذکورہ بالا اشخاص کے متعلق شرعی احکام بیان فرما کر عنداللہ ماجور وعندالناس مشکور ہوں۔ فقط والسلام۔ المستفتی :صلاح الدین قادری دارالعلوم غوثیہ رضویہ قصبہ سیدپور رودولی شریف ضلع ایودھیا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوہاب</strong></span> بسم اللہ الرحمن الرحیم میت کو ایصال ثواب کی نیت سے تیجہ دسواں بیسواں چالیسواں اور برسی وغیرہ کرنا اور فقرا و مساکین کو کھلانا بے شک جائز ہے مگر وہابی دیوبندی اس سے روکتے ہیں اور ناجائز کہتے ہیں۔ البتہ تیجہ دسواں بیسواں چالیسواں اور برسی وغیرہ کے موقع پر میت کو ایصال ثواب کی نیت سے جو کھانا کھلایا جاتا ہے اس کھانے کے مستحق فقرا اور مساکین ہیں مالدار اور خوش حال لوگوں کو اس کھانے سے اجتناب بہتر ہے۔ سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تیجہ دسواں چالیسواں سب جائز ہیں جب بہ نیت محمود و بطریق محمود ہوں اور ان کا کھانا مساکین و فقرا کے لئے چاہئے برادری کی دعوت کے طور پر نہ ہو فان الدعوة إنما شرعت في السرور لا في الشرور فتح وغيره ۔ (فتاوی رضویہ جدید ج 21 ص 644) نیز ایک مقام پر فرماتے ہیں: سوم دہم چہلم وغیرہ کا کھانا مساکین کو دیا جائے برادری کو تقسیم یا برادری کو جمع کرکے کھلانا بے معنی ہے۔ (فتاوی رضویہ جدید ج 9 ص 667 ) اور ایک جگہ فرماتے ہیں: میت کی دعوت برادری کے لئے منع ہے ان کا برا ماننا حماقت ہے ہاں برادری میں جو فقیر ہو اسے دینا اور فقیر کے دینے سے افضل ہے۔ (فتاوی رضویہ جدید ج 9 ص 609) سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا: جو کھانا بہ نیت خاص برائےایصال ثواب خواہ بزرگان دین سے ہوں یا عام مسلمان پکوایا جائے تو اس کھانے کو اغنیا کھا سکتے ہیں؟ آپ نے جواب ارشاد فرمایا: اغنیاء بھی کھا سکتے ہیں سوائے اس کھانے کے جو موت میں بطور دعوت کیا جائے وہ ممنوع و بدعت ہے اور عوام مسلمین کی فاتحہ چہلم برسی ششماہی کا کھانا بھی اغنیاء کو مناسب نہیں ہے۔ (فتاوی رضویہ جدید ج 9 ص 610) لہذا جو سنی احباب غنی اور مالدار ہوں اور اس وجہ سے میت کے کھانے سے اجتناب کرتے ہوں وہ حق بجانب ہیں اور بہتر کرتے ہیں اور جو سنی احباب ان کے اس اجتناب کی بنا پر انہیں وہابی دیوبندی کہنے لگتے ہیں حالاں کہ وہ وہابیوں دیوبندیوں کی طرح عقیدہ نہیں رکھتے ہیں اور ان کو کافر سمجھتے ہیں، وہ حق پر نہیں ہیں۔ بلکہ وہ در حقیقت حقیقت سے ناواقف ہیں اور بہت بڑے سنگین جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ کیونکہ محض طعام میت سے اجتناب کی وجہ سے کسی کو وہابی دیوبندی کہنا ہرگز ہرگز درست نہیں ہے بلکہ سخت ہلاکت کا باعث ہے۔ وہابی دیوبندی عموما کافر اور ان میں کے بعض کم از کم گمراہ اور بددین ہیں، لہذا کسی کو وہابی دیوبندی کہنے کا مطلب ہے اسے کافر یا گمراہ کہنا اور کسی کو کافر و گمراہ کہنے میں بہت احتیاط لازم ہے کیونکہ اگر وہ کافر نہ ہوگا تو حکم کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>أَيُّما رَجُلٍ قالَ لأخِيهِ: يا كافِرُ، فقَدْ باءَ بها أحَدُهُما۔</strong> </span>جو بھی آدمی اپنے بھائی کو کہے ائے کافر! تو ضرور ان دونوں میں کوئی اس قول کے ساتھ لوٹے گا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٠١، صحيح مسلم ج ١ ص ٥٧ مطبوعة مجلس بركات ) اس مقام پر علمائے کرام نے یہ تفصیل فرمائی ہے کہ اگر محض گالی کے طور پر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر کہتا ہے تو یہ حرام ہے البتہ کہنے والا خود کافر نہ ہوگا ۔ اور اگر اعتقاد کے اعتبار سے کسی مسلم کو کافر کہتا ہے اور وہ حقیقت میں کافر نہیں ہے تب حکم کفر قائل پر لوٹ جائے گا۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>وَلَوْ قَالَ لِمُسْلِمٍ أَجْنَبِيٍّ: يَا كَافِرُ، أَوْ لِأَجْنَبِيَّةٍ يَا كَافِرَةُ، وَلَمْ يَقُلْ الْمُخَاطَبُ شَيْئًا، أَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا كَافِرَةُ، وَلَمْ تَقُلْ الْمَرْأَةُ شَيْئًا، أَوْ قَالَتْ الْمَرْأَةُ لِزَوْجِهَا: يَا كَافِرُ وَلَمْ يَقُلْ الزَّوْجُ شَيْئًا كَانَ الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَعْمَشُ الْبَلْخِيّ يَقُولُ: يَكْفُرُ هَذَا الْقَائِلُ، وَقَالَ غَيْرُهُ مِنْ مَشَايِخِ بَلْخٍ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى: لَايَكْفُرُ، وَالْمُخْتَارُ لِلْفَتْوَى فِي جِنْسِ هَذِهِ الْمَسَائِلِ أَنَّ الْقَائِلَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْمَقَالَاتِ إنْ كَانَ أَرَادَ الشَّتْمَ وَلَايَعْتَقِدُهُ كَافِرًا لَايَكْفُرُ، وَإِنْ كَانَ يَعْتَقِدُهُ كَافِرًا فَخَاطَبَهُ بِهَذَا بِنَاءً عَلَى اعْتِقَادِهِ أَنَّهُ كَافِرٌ يَكْفُرُ، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ. ( كتاب السير، الْبَابُ التَّاسِعُ فِي أَحْكَامِ الْمُرْتَدِّينَ، مطلب فِي مُوجِبَاتُ الْكُفْرِ أَنْوَاعٌ مِنْهَا مَا يَتَعَلَّقُ بِالْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ، ٢ / ٢٧٨)</strong></span> سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ میت کے کھانے سے اجتناب کرنے والوں کو گالی کےطور پر وہابی دیوبندی نہیں کہنا شروع کر دیتے ہیں بلکہ یہ خیال کرتے ہوئے کہ جس طرح درود فاتحہ اور ایصال ثواب سے پرہیز کرنا وہابیت اور دیوبندیت ہے اسی طرح ایصال ثواب کا کھانا کھانے سے پرہیز کرنا بھی وہابیت یا اس کی پہچان ہوگی، جو کہ غلط خیال ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اجتناب یعنی میت کا کھانا خود کھانے سے پرہیز کرنے اور منع یعنی میت کے لئے ایصال ثواب سے روکنے میں بہت فرق ہے۔ ہمارے دیار میں جو روکنے والے ہیں وہ وہابی دیوبندی ہیں، لیکن وہ مالدار سنی احباب جو از راہ تقوی میت کے کھانے سے اجتناب کرتے اور نہیں کھاتے ہیں ان پر کوئی الزام نہیں۔ پس طعام میت سے اجتناب کرنے کی بنا پر کسی کو وہابی دیوبندی خیال کر کے اسے وہابی دیوبندی کہنے والے سخت غلطی پر ہوں گے اور اگر فقط گمراہ وہابی دیوبندی سمجھتے ہیں تو ان پر صرف توبہ و استغفار کا حکم ہوگا اور اگر کافر وہابی دیوبندی سمجھتے ہیں تو بطریق فقہا تجدید ایمان کا بھی حکم ہوگا۔ نیز بہر صورت اجتناب کرنے والوں سے معافی بھی مانگنی ہوگی کہ انہیں ناحق وہابی دیوبندی کہنے میں ایذائے مسلم ہے جو کہ حرام ہے۔ قرآن مجید میں ہے: وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِناتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتاناً وَ إِثْماً مُبِيناً۔ اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔(سورہ احزاب آیت نمبر ٥٨) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من آذى مسلما فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله۔(المعجم الأوسط للامام الطبرانی، باب السين من إسمه سعید ج ٢ مطبوعة دار الفكر أردن)واللہ تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــہ : محمد طیب دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٨ جمادی الآخرہ 1443ھ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...