Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1348 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.8K Views

حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت مسئلہ ذیل میں کہ زید نے اپنی بیوی کو حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا اور وہ اس کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لینا چاہتا ہے لہذا عند الشرع زید کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر دو طلاق بائن واقع ہوگئیں اس لیے کہ حالت حمل میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اب اگر زید اسے اپنی بیوی بنانا چاہتا ہے تو اسی وقت وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے کچھ عدت گزرنے کی حاجت نہیں. ہاں دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو وضع حمل کے بعد کر سکتی ہے اس لیے کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے.فرمان باری تعالی ہے” اولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ” یعنی حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے ” (پارہ ٢٨ سورہ طلاق) حلالہ کی ضرورت نہیں باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ” الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ” ١ھ. (پارہ ٢ سورہ بقرہ آیت ٢٢٩) ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد 5 صفحہ 675 کتاب الطلاق میں ہے. البتہ زید اپنی زندگی میں کبھی بھی اس عورت کو ایک بار بھی طلاق دے گا تو وہ مغلظہ ہو جائے گی. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد ارشد رضا مصباحی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت مسئلہ ذیل میں کہ زید نے اپنی بیوی کو حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا اور وہ اس کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لینا چاہتا ہے لہذا عند الشرع زید کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر دو طلاق بائن واقع ہوگئیں اس لیے کہ حالت حمل میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اب اگر زید اسے اپنی بیوی بنانا چاہتا ہے تو اسی وقت وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے کچھ عدت گزرنے کی حاجت نہیں. ہاں دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو وضع حمل کے بعد کر سکتی ہے اس لیے کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے.فرمان باری تعالی ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>'' اولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ''</strong></span> یعنی حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے '' (پارہ ٢٨ سورہ طلاق) حلالہ کی ضرورت نہیں باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ''</strong> </span>١ھ. (پارہ ٢ سورہ بقرہ آیت ٢٢٩) ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد 5 صفحہ 675 کتاب الطلاق میں ہے. البتہ زید اپنی زندگی میں کبھی بھی اس عورت کو ایک بار بھی طلاق دے گا تو وہ مغلظہ ہو جائے گی. واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد ارشد رضا مصباحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...