Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1348
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.8K Views
حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت مسئلہ ذیل میں کہ زید نے اپنی بیوی کو حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا اور وہ اس کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لینا چاہتا ہے لہذا عند الشرع زید کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر دو طلاق بائن واقع ہوگئیں اس لیے کہ حالت حمل میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اب اگر زید اسے اپنی بیوی بنانا چاہتا ہے تو اسی وقت وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے کچھ عدت گزرنے کی حاجت نہیں. ہاں دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو وضع حمل کے بعد کر سکتی ہے اس لیے کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے.فرمان باری تعالی ہے” اولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ” یعنی حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے ” (پارہ ٢٨ سورہ طلاق) حلالہ کی ضرورت نہیں باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ” الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ” ١ھ. (پارہ ٢ سورہ بقرہ آیت ٢٢٩) ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد 5 صفحہ 675 کتاب الطلاق میں ہے. البتہ زید اپنی زندگی میں کبھی بھی اس عورت کو ایک بار بھی طلاق دے گا تو وہ مغلظہ ہو جائے گی. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد ارشد رضا مصباحی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
Kutubahu & Verified by:
<h2>حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت مسئلہ ذیل میں کہ زید نے اپنی بیوی کو حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا اور وہ اس کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لینا چاہتا ہے لہذا عند الشرع زید کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر دو طلاق بائن واقع ہوگئیں اس لیے کہ حالت حمل میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اب اگر زید اسے اپنی بیوی بنانا چاہتا ہے تو اسی وقت وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے کچھ عدت گزرنے کی حاجت نہیں. ہاں دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو وضع حمل کے بعد کر سکتی ہے اس لیے کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے.فرمان باری تعالی ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>'' اولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ''</strong></span> یعنی حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے '' (پارہ ٢٨ سورہ طلاق) حلالہ کی ضرورت نہیں باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ''</strong> </span>١ھ. (پارہ ٢ سورہ بقرہ آیت ٢٢٩) ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد 5 صفحہ 675 کتاب الطلاق میں ہے. البتہ زید اپنی زندگی میں کبھی بھی اس عورت کو ایک بار بھی طلاق دے گا تو وہ مغلظہ ہو جائے گی. واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد ارشد رضا مصباحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...