Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1351 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.2K Views

امام دعائے قنوت چھوڑ کر رکوع میں چلا گیا مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور سجدہ سہو کیا تو؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

امام دعائے قنوت چھوڑ کر رکوع میں چلا گیا مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور سجدہ سہو کیا تو؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

امام دعائے قنوت چھوڑ کر رکوع میں چلا گیا مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور سجدہ سہو کیا تو؟

سوال : جماعت کی وتر میں امام نے دعائے قنوت بھول کر چھوڑ دی اور رکوع میں چلا گیا اور اس کے بعد مقتدی نے لقمہ دیا تو امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور اخیر میں سجدہ سہو کیا تو اس نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ مسئلہ یہ ہے کہ اگر امام دعائے قنوت بھول کر رکوع میں چلا جائے تو اسے قنوت کی طرف پلٹنا درست نہیں بلکہ حکم یہ ہے کہ آخر میں سجدہ سہو کرے. فتاوی قاضیخان مع عالمگیری جلد اول صفحہ 121 میں ہے ” لو ترک القنوت فذکر فی القعدۃ او بعد ما قام من الرکوع لا یقنت وعلیہ السھو ” ١ھ. لہذا صورت مسئولہ میں مقتدی کے غلط لقمہ دیتے ہی اس کی نماز فاسد ہوگئ اور وہ نماز سے باہر ہوگیا اب امام نے ایک ایسے شخص کا لقمہ لیا جو نماز سے باہر ہے تو اس کی نماز فاسد ہوگئ اور اس سبب سے باقی مقتدیوں کی بھی نماز جاتی رہی. اس لئے کہ اس پلٹنے کو جائز کوئی نہیں بتاتا تو جس نے امام کو اس ناجائز پلٹنے کے لیے لقمہ دیا اس کی نماز فاسد ہوئی اور امام مقتدی کے پلٹانے سے پلٹا اور وہ نماز سے باہر تھا تو خود اس کی نماز بھی جاتی رہی اور اس سبب سے سب کی نماز گئی. ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ ٦٤٨ ہے ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد اشتیاق احمد مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

Kutubahu & Verified by:

<h3><strong>امام دعائے قنوت چھوڑ کر رکوع میں چلا گیا مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور سجدہ سہو کیا تو؟</strong></h3> سوال : جماعت کی وتر میں امام نے دعائے قنوت بھول کر چھوڑ دی اور رکوع میں چلا گیا اور اس کے بعد مقتدی نے لقمہ دیا تو امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور اخیر میں سجدہ سہو کیا تو اس نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> مسئلہ یہ ہے کہ اگر امام دعائے قنوت بھول کر رکوع میں چلا جائے تو اسے قنوت کی طرف پلٹنا درست نہیں بلکہ حکم یہ ہے کہ آخر میں سجدہ سہو کرے. فتاوی قاضیخان مع عالمگیری جلد اول صفحہ 121 میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong> '' لو ترک القنوت فذکر فی القعدۃ او بعد ما قام من الرکوع لا یقنت وعلیہ السھو '' ١ھ.</strong></span> لہذا صورت مسئولہ میں مقتدی کے غلط لقمہ دیتے ہی اس کی نماز فاسد ہوگئ اور وہ نماز سے باہر ہوگیا اب امام نے ایک ایسے شخص کا لقمہ لیا جو نماز سے باہر ہے تو اس کی نماز فاسد ہوگئ اور اس سبب سے باقی مقتدیوں کی بھی نماز جاتی رہی. اس لئے کہ اس پلٹنے کو جائز کوئی نہیں بتاتا تو جس نے امام کو اس ناجائز پلٹنے کے لیے لقمہ دیا اس کی نماز فاسد ہوئی اور امام مقتدی کے پلٹانے سے پلٹا اور وہ نماز سے باہر تھا تو خود اس کی نماز بھی جاتی رہی اور اس سبب سے سب کی نماز گئی. ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ ٦٤٨ ہے ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد اشتیاق احمد مصباحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...