Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1355
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.6K Views
مسجد میں نیا چپل پہن کر جانا کیسا ہے ؟ از مفتی صدام حسین فیضی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مسجد میں نیا چپل پہن کر جانا کیسا ہے ؟ از مفتی صدام حسین فیضی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مسجد میں نیا چپل پہن کر جانا کیسا ہے ؟
سوال :حضرت مسجد میں نیا چپل پہن کر کام کر سکتے ہیں یانہیں جبکہ مستری کو کام کرنے میں بڑی پریشانی ہورہی ہے پیر کٹ جارہا ہے تو نیاچپل پہن سکتے ہیں یانہیں ۔ بتادیجئے بڑی مہربانی ہوگی۔ سایل : سرتاج الجواب-بعون الملک الوھاب- صورت مستفسرہ میں چپل پہن کر مسجد میں جانا جائز ہے ۔ ہاں بلاضرورت نہ چاہئے کہ بے ادبی و مکروہ تحریمی ہے۔ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:” مسجد میں جوتا یا لکڑی لانے میں حرج نہیں “اھ ( فتاوی امجدیہ جلد١ صفحہ٢٦٥ باب احکام المسجد) حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:” ائمہ دین نے تصریح فرمائی کہ استعمالی جوتیاں پہنے ہوئے مسجد جانا بے ادبی ومکروہ ہے ۔ امام برہان الدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید پھر علامہ بحر بحرالرائق میں فرماتے ہیں:قدقیل دخول المسجد متنعلا من سوء الادب ردالمحتارمیں عمدۃ المفتی سے ہے:دخول المسجد متنعلا من سوء الادب فتاوی سراجیہ و فتاوی عالمگیریہ میں ہے:دخول المسجد متنعلا مکروہ مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ دوجوڑے رکھتے تھے استعمالی جوتاپہن کردروازہ مسجد تک تشریف لاتے پھر دوسراجوڑا پہن کرمسجد میں جاتے ” اھ ( فتاوی رضویہ جدید جلد ٧ صفحہ ٣١٧ کتاب الصلاۃ، باب مکروہات الصلاۃ ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء
Kutubahu & Verified by:
<h2>مسجد میں نیا چپل پہن کر جانا کیسا ہے ؟</h2> سوال :حضرت مسجد میں نیا چپل پہن کر کام کر سکتے ہیں یانہیں جبکہ مستری کو کام کرنے میں بڑی پریشانی ہورہی ہے پیر کٹ جارہا ہے تو نیاچپل پہن سکتے ہیں یانہیں ۔ بتادیجئے بڑی مہربانی ہوگی۔ سایل : سرتاج <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب-بعون الملک الوھاب-</strong></span> صورت مستفسرہ میں چپل پہن کر مسجد میں جانا جائز ہے ۔ ہاں بلاضرورت نہ چاہئے کہ بے ادبی و مکروہ تحریمی ہے۔ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:" مسجد میں جوتا یا لکڑی لانے میں حرج نہیں "اھ ( فتاوی امجدیہ جلد١ صفحہ٢٦٥ باب احکام المسجد) حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:" ائمہ دین نے تصریح فرمائی کہ استعمالی جوتیاں پہنے ہوئے مسجد جانا بے ادبی ومکروہ ہے ۔ امام برہان الدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید پھر علامہ بحر بحرالرائق میں فرماتے ہیں<span style="color: #ff0000;"><strong>:قدقیل دخول المسجد متنعلا من سوء الادب</strong></span> ردالمحتارمیں عمدۃ المفتی سے ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>:دخول المسجد متنعلا من سوء الادب</strong></span> فتاوی سراجیہ و فتاوی عالمگیریہ میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>:دخول المسجد متنعلا مکروہ</strong></span> مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ دوجوڑے رکھتے تھے استعمالی جوتاپہن کردروازہ مسجد تک تشریف لاتے پھر دوسراجوڑا پہن کرمسجد میں جاتے " اھ ( فتاوی رضویہ جدید جلد ٧ صفحہ ٣١٧ کتاب الصلاۃ، باب مکروہات الصلاۃ ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...