Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1362
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
5.4K Views
لاعلمی میں دھات کا زیور پہنے تو گنہگار ہوگی یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
لاعلمی میں دھات کا زیور پہنے تو گنہگار ہوگی یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
لاعلمی میں دھات کا زیور پہنے تو گنہگار ہوگی یا نہیں؟
سوال : جن عورتوں کو علم نہ ہو کہ سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھات کے زیورات پہننا منع ہے وہ پہنے تو کیا گنہگار ہوں گی؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ شریعت میں جہالت عذر نہیں. حدیث شریف میں ہے “طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے. اس حدیث شریف کے تحت علامہ مفتی احمد یار خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علم سے بقدر ضرورت مسائل شرعیہ مراد ہیں لہذا روزے، نماز کے مسائل ضروریہ سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے. حیض ونفاس کے ضروری مسائل ہر عورت پر، تجارت کے مسائل پر تاجر پر حج کے مسائل حج کو جانے والے پر فرض عین ہیں. ١ھ. (مراءۃ المناجیح جلد ١ صفحہ 202) لہذا ہر شخص کو اتنا علم ضروری ہے کہ کم از کم ضروریات زندگی میں پیش آنے والی ہر چیز کے بارے میں یہ جان سکے کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے اس لیے نہ جانا عذر نہیں ہے. سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات پہن کر جو نمازیں پڑھی گئی ہیں وہ سب مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئیں ان کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے درمختار باب صفۃ الصلاۃ میں ہے“کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا ” کہ ہر نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو اس کا ادا کرنا واجب ہے (جلد ایک دفعہ 457) لہذا سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات استعمال کرنے والی عورتیں ضرور گنہگار ہیں وہ توبہ و استغفار کریں اور آئندہ اس قسم کے زیورات کے استعمال سے پرہیز کریں. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد نیاز احمد برکاتی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
Kutubahu & Verified by:
<h2>لاعلمی میں دھات کا زیور پہنے تو گنہگار ہوگی یا نہیں؟</h2> سوال : جن عورتوں کو علم نہ ہو کہ سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھات کے زیورات پہننا منع ہے وہ پہنے تو کیا گنہگار ہوں گی؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــ</strong></span> شریعت میں جہالت عذر نہیں. حدیث شریف میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمہ ''</strong></span> رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے. اس حدیث شریف کے تحت علامہ مفتی احمد یار خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علم سے بقدر ضرورت مسائل شرعیہ مراد ہیں لہذا روزے، نماز کے مسائل ضروریہ سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے. حیض ونفاس کے ضروری مسائل ہر عورت پر، تجارت کے مسائل پر تاجر پر حج کے مسائل حج کو جانے والے پر فرض عین ہیں. ١ھ. (مراءۃ المناجیح جلد ١ صفحہ 202) لہذا ہر شخص کو اتنا علم ضروری ہے کہ کم از کم ضروریات زندگی میں پیش آنے والی ہر چیز کے بارے میں یہ جان سکے کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے اس لیے نہ جانا عذر نہیں ہے. سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات پہن کر جو نمازیں پڑھی گئی ہیں وہ سب مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئیں ان کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے درمختار باب صفۃ الصلاۃ میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا ''</strong></span> کہ ہر نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو اس کا ادا کرنا واجب ہے (جلد ایک دفعہ 457) لہذا سونے چاندی کے علاوہ دوسری <a href="https://masailworld.com/sone-chandi-ke-alawa-dhaat-ka-zewar-pahnna/"><strong>دھاتوں کے زیورات</strong></a> استعمال کرنے والی عورتیں ضرور گنہگار ہیں وہ توبہ و استغفار کریں اور آئندہ اس قسم کے زیورات کے استعمال سے پرہیز کریں. واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد نیاز احمد برکاتی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...