Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1365 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.7K Views

بد مذہبوں سے رشتہ رکھنے کا حکم از مفتی محمد طیب علیمی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بد مذہبوں سے رشتہ رکھنے کا حکم از مفتی محمد طیب علیمی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بد مذہبوں سے رشتہ رکھنے کا حکم

بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہندہ کی شادی تقریباً ۲۵ سال قبل زید کے ساتھ ہوئی زید کی بیوی ہندہ کا کچھ دنوں پہلے انتقال ہو گیا، انتقال کے قبل ہی اُسکی بیٹی کی شادی ایک دیوبندی کے گھر ہوئی سننے میں یہ بھی آیا کی اگر ہندہ نے اپنی بیٹی کا نکاح اُس دیوبندی سے نہ کیا ہوتا تو وہ لیکر بھاگ جاتا اور اسلئے ہندہ نے اپنی عزت و آبرو بچانے کے لیے دھوم دھام سے دیوبندی کے یہاں نکاح کر دیا ۔ ہندہ کے انتقال ہونے کے بعد مسجد کے امام نے اُسکی نمازِ جنازہ پڑھائی اب کچھ لوگوں نے امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور کہہ یہ رہے ہیں کہ ہنده دیوبندی تھی کیونکہ اُسکے میکے والے دیوبندی ہیں حالانکہ خود اُسکا شوہر زید سنی صحیح العقیدہ ہے جسکے سنی صحیح العقیدہ ہونے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں اور ہندہ کے بارے میں بھی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ نیاز و فاتحہ دلاتی تھی جس کا کرنے والا عوام اہلسنت میں سنی سمجھا جاتا ہے اور اس بات کی گواہ خود ایک معترض شخص ہے۔ اِس مسئلہ میں عمر (مسجد کا امام) کا ہندہ کی نمازِ جنازہ پڑھانا درست ہے یا نہیں ؟ اس مسئلہ میں عمر حق پر ہے یا وہ لوگ جو ہندہ کو وہابی یا دیوبندی کہہ رہے ہیں صرف اس بنا پر کی اُسکے میکے کے لوگ وہابی ہیں اور اُس نے اپنی بیٹی کا رشتہ ایک دیوبندی کے یہاں کیا اسلئے عمر حق پر ہے یا خطا پر اور اگر عمر خطا پر ہے تو اُسکے پیچھے نمازِ جنازہ پڑھنے والوں کا کیا حکم ہے اور اگر عمر راہ حق پر ہے تو اُن لوگوں کا کیا حکم ہے جو ہندہ کو دیوبندی کہہ رہے ہیں ہیں۔ برائے مہربانی اس سوال کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں ۔ المستفتی محمد ذیشان رضا، ساکن بلھا ضلع بلرامپور الجواب بعون الملک الوہاب بسم اللہ الرحمن الرحیم اگر ہندہ کا دیوبندی ہونا امامِ مسجد کے نزدیک شرعاً ثابت ہو تو امام مسجد کا اس کی نماز جنازہ پڑھانا حرام، بلکہ اگر مسلمان سمجھ کر ہو تو کفر ہے۔ اور اگر اس کی دیوبندیت شرعی طریقہ پر ثابت نہ تھی لیکن اس پر کسی طرح دیوبندیت کا شبہہ تھا تب بھی امامِ مسجد کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے ضرور احتراز چاہیے تھا۔ اور اگر امامِ مسجد نے متوفیہ ہندہ کے ان مراسمِ ومعمولاتِ اہل سنت وجماعت (مثلا نیاز فاتحہ میلاد وغیرہ) کی ادائیگی دیکھنے کے سبب جن معمولات سے وہابی دیوبندی غایت درجہ پرہیز کرتے ہیں اس کو سنی سمجھ لیا اور اس لئے نماز جنازہ پڑھادی تو اس کو معذور قرار دیا جائے گا۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ والرضوان نے معمولاتِ اہلِ سنت کی ادائیگی کی بنا پر بھی دیوبندیت کی نفی کی ہے۔تحریر فرماتے ہیں: “جب وہاں میلاد شریف اور سوم وغیرہ کرنے والے بکثرت ہیں تو ضرور وہ لوگ دیوبندی نہیں” (فتاوی رضویہ قدیم ج٣ص ٢٣٥ ) یہاں یہ واضح رہے کہ کسی عورت کا وہابی یا دیوبندی ہونا صرف اس بنا پر نہیں ثابت ہوجاتا کہ اس کے میکے والے وہابی ہیں یا اس لئے کہ اس نے اپنی بیٹی کی شادی ایک دیوبندی کے یہاں کردی، ہاں اگر اس نے دیوبندیوں کے عقائد کفریہ پر یقینی علم و اطلاع کے بعد ان کو مسلمان جانا اور مسلمان جان کر اپنی بیٹی کا نکاح کیا تو بیشک حکم کفر ہوگا۔ لیکن اگر ناجائز سمجھتے ہوئے اپنی بیٹی کی شادی دیوبندی کے ساتھ کردے تو بے شک سخت حرام و کبیرہ کی مرتکب ہے، تاہم صرف اس عمل سے دیوبندیت کا حکم نہیں لگے گا۔ سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے ایسے دو سوال کئے گئے جن میں پوچھا گیا کہ کوئی باوجود ناجائز سمجھنے کے اپنی بہن بیٹی کا نکاح شیعہ کے ساتھ کردے تو کیا حکم ہے؟ آپ نے دونوں سوالوں کے جواب میں سخت حرمت کا حکم دیا، مگر تکفیر نہیں فرمائی۔ فتاوی رضویہ قدیم ج ٥ ص ٢٧٩ اور ص ٢٨٣ کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ ہو ! سوال: “کسی سنی المذہب کو اپنی دختر شیعی تبرائی و قاذف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے عقد میں دینا جائز ہے یا نہیں اگر ناجائز ہے اور کوئی سنی باوجود ناجائز سمجھنے کے بھی ایسا کرے تو اس کی بابت شرعا کیاحکم ہے” اس سوال کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا: “جو شخص اپنی دختر یا خواہر ایسے کے نکاح میں دے وہ یقینا دیوث ہے وہ اپنی بہن بیٹی کو صریح زنا کے لئے دینے والا ہے حدیث ارشاد فرماتی ہے کہ اس پر جنت حرام ہے” سوال: “سنی کواپنی دختر شیعی کے نکاح میں دینا جائز ہے یا نہیں اگر ناجائز ہے اور کوئی سنی باوجود ناجائز سمجھنے کے ایسا کرے تو اس کی بابت شرعا کیا حکم ہے” مسئلہ مذکورہ کے دلائل بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: “لہذا جزم کیا جاتا ہے کہ آج کل رافضیوں میں کوئی مسلمان ملنا ایسا ہی مشکل ہے جیسے کووں میں سپید رنگ والا۔ ایسوں کے ساتھ مناکحت تو حرام قطعی و زنائے خالص ہے جو اپنی بہن بیٹی ان کو دے دیوث ہے اس عقد باطل کے ذریعے جو نام اس کی بہن بیٹی کو ملنے والے ہیں ان ہلکے نام یہ ہیں زانیہ فاجرہ قحبہ فاحشہ روسی رنڈی بدکار جو اسے پسند کرتا ہو اس کبیرہ فاحشہ پر اقدام کرے ورنہ اللہ عز و جل کے غضب سے ڈرے اور اگر بالفرض کوئی رافضی ایسا ملے جسے مسلمان کہہ سکیں تو حضرات شیخین رضی اللہ تعالی عنہما پر صرف تبرا بھی فقہائے کرام کے نزدیک مطلقا کفر ہے۔۔۔۔تو فقہائے کرام کے طور پر ہر تبرائی کے ساتھ مناکحت میں وہی احکام ہوں گے اور بفرض غلط اس سے بھی محفوظ ملے تو آخر گمراہ بددین ہونے میں تو شبہ نہیں اور ایسے کو بیٹی دینا شرعا گناہ و ممنوع۔ سوال میں سائل نے لکھا کہ ہندہ نے اپنی عزت آبرو بچانے کے لئے دیوبندی کے یہاں نکاح کردیا، حالانکہ اس ہندہ کو یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ بزعم خویش معاشرے میں بے عزتی سے بچنے کی خود ساختہ تدبیر تو اپنا رہی ہے، مگر اللہ و رسول کی بارگاہ میں کس قدر رسوائی کا سامان کر رہی ہے اور شریعت کی نظر میں کیسی کیسی ذلتوں کو خرید رہی ہے، کیوں کہ یہ نکاح تو ہونے سے رہا لہذا اپنی بیٹی کو زنا کے لئے حوالے کر رہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ واضح رہے کہ شخص دعوئ اسلام کرے اسے مسلمان ماننا لازم ہے جب تک کہ کوئی بات منافی اسلام ثابت نہ ہو، یہی مذہب حق ہے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: “نفاق کہ زبان سے دعوے اسلام کرنا اور دل میں اسلام سے انکار، یہ خالص کفر ہے بلکہ ایسے لوگوں کے لئے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفر باطنی پر قرآن ناطق ہوا، نیز نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرما دیا کہ یہ منافق ہے۔ اب اس زمانے میں کسی خاص شخص کی نسبت قطع کے ساتھ منافق نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے سامنے جو دعوی اسلام کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے جب تک اس سے وہ قول یا عمل جو منافی ایمان ہے نہ صادر ہو البتہ نفاق کی ایک شاخ اس زمانے میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بدمذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعوی اسلام کے ساتھ ضروریات دین کا انکار بھی ہے”۔(بہار شریعت ح ١ ص ١٨٢ مطبوعہ دعوت اسلامی) لہذا بنا دلیل اپنے ظن و تخمین یا محض شک شبہ کی بنا پر کسی کے اوپر کفر کا حکمِ قطعی نہیں لگانا چاہیے۔ اس تعلق سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث کافی اہمیت کی حامل ہے جس میں بیان ہے کہ انہوں نے ایک کافر شخص پر وار کرنا چاہا تو وہ کلمہ پڑھنے لگا لیکن آپ نے یہ اجتہاد کرتے ہوئے اسے قتل کردیا کہ اس نے ڈر کے مارے کلمہ پڑھا ہے، جس پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمایا أفلا شققت عن قلبه حتى تعلم ا قالها أم لا؟ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا کہ اس نے دل سے کلمہ پڑھا تھا یا نہیں۔ امام بخاری اور امام مسلم علیہما الرحمہ روایت فرماتے ہیں: حدثناابو ظبیان قال سمعت أُسامةَ بن زَيْدٍ بن حارثة يحدث قَالَ: بعثَنَا رسولُ اللَّه ﷺ إِلَى الحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَصَبَّحْنا الْقَوْمَ فهزمناهمْ، قال وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلًا مِنهُمْ، قال فَلَمَّا غَشيناهُ قَالَ: لا إِلهَ إلَّا اللَّه، قال فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصارِيُّ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، قال فَلَمَّا قَدِمْنَا بلَغَ ذلِكَ النَّبِيَّ ﷺ قال فَقَالَ لِي: يَا أُسامةُ! أَقَتَلْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ: لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ؟! قال قلتُ: يَا رسولَ اللَّه إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا، قَالَ: أَقَتَلْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ: لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ؟! قال فَما زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذلِكَ الْيَوْمِ. (صحيح البخاري ج ٢ ص ١٠١٥ باب كتاب الديات باب قول الله و من أحياها صحيح مسلم كتاب الإيمان باب تحریم قتل الكافر بعد قوله لا إله إلا الله ص ٦٨ واللفظ للأول منهما) وفي روايةٍ: فَقالَ رسولُ اللَّه ﷺ: أَقَالَ: لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَقَتَلْتَهُ؟! قال قلتُ: يَا رسولَ اللَّهِ! إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلاحِ، قَالَ: أَفَلا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لا؟! فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا علي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَومَئذٍ. (صحيح مسلم كتاب الإيمان باب تحريم قتل الكافر بعد قوله لا إله إلا الله ص ٦٨) وفي رواية: إن رسولَ اللَّه ﷺ بعثَ بَعْثًا مِنَ المُسْلِمِينَ إِلى قَوْمٍ مِنَ المُشْرِكِينَ، وَأَنَّهُم الْتَقَوْا، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ المُشْرِكِينَ إِذا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلى رَجُلٍ مِنَ المُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنَ المُسْلِمِينَ قَصَدَ غفلَتَه، قال وَكُنَّا نحَدّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلمَّا رَجع اليه السَّيْفَ قَالَ: لا إِله إِلَّا اللَّهُ، فقَتَلَهُ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلى النبي ﷺ فَسَأَلَهُ، وأَخْبَرَهُ، حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَر الرَّجُلِ كَيْفَ صنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ فَقَالَ: يَا رسولَ اللَّهِ! أَوْجَعَ في المُسْلِمِينَ، وقَتلَ فُلانًا وفُلانًا – وسَمَّى لَهُ نَفرًا – وإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ قَالَ: لا إِله إِلَّا اللَّهُ، قَالَ رسولُ اللَّه ﷺ: أَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: نَعمْ، قَالَ: فَكيْفَ تَصْنَعُ بلا إِله إِلَّا اللَّهُ إِذا جاءَت يوْمَ القيامَةِ؟! قَال: يَا رسولَ اللَّه! اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وكَيف تَصْنَعُ بِلا إِله إِلَّا اللَّهُ إِذا جاءَت يَوْمَ القِيامَةِ؟! قال فَجَعَلَ لا يَزيدُه عَلى أَنْ يَقُولَ: كيفَ تَصْنَعُ بِلا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جاءَتْ يَوْمَ القِيامَةِ؟! (صحيح مسلم كتاب الإيمان باب تحريم قتل الكافر بعد قوله لا إله إلا الله ص ٦٨ ) ایمان و عقیدے کے تعلق سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان عالیشان بھی عبرت نشان ہے کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے اس لئے ظاہر کا اعتبار ہوگا اور باطن کا معاملہ اللہ کے حوالے ہوگا۔ امام بخاری علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں: ان عبدِاللَّه بنِ عتبة بن مسعودٍ قَالَ: سمِعْتُ عُمَر بْنَ الخَطَّابِ رضی اللہ عنه يقولُ: إِنَّ نَاسًا كَانُوا يُؤْخَذُونَ بالوَحْي في عَهْدِ رَسُول اللَّه ﷺ، وإِنَّ الوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ، وإِنَّمَا نَأْخُذُكُمُ الآنَ بِما ظَهَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنا خَيْرًا أَمِنَّاهُ، وقرَّبناه، وَلَيْس إلينا مِنْ سَرِيرَتِهِ شيءٌ، اللَّهُ مُحاسِبُهُ فِي سرِيرَتِهِ، ومَنْ أَظْهَرَ لَنَا سُوءًا لَمْ نَأْمَنْهُ، وَلَمْ نُصَدِّقْهُ، وإِنْ قَالَ: إِنَّ سَرِيرَتَه حَسنَةٌ (صحيح البخاري ج ١ ص ٣٦٥ كتاب الشهادات باب الشهداء العدول مطبوعة مجلس بركات) مسئلہ مذکورہ کی بابت یہ ظاہری کلام ہے اور فی الواقع ہندہ کی دیوبندیت ایک تحقیق طلب امر ہے اور امام مسجد عمر کے اس کی نماز جنازہ پڑھانے اور سوال میں مذکور دیگر شقوں کا حکم اسی تحقیق پر متفرع ہوگا۔ موضع بلہا ایک مردم خیز زمین ہے وہاں ذمہ دار علما کا ایک قافلہ موجود ہے خصوصیت کے ساتھ ایک بزرگ عالم دین حضرت علامہ مولانا مشتاق احمد ثابت القادری دام ظلہ العالی اور خلیفہ تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا کمال اختر دام ظلہ العالی، ان کی طرف رجوع کیاجائے۔ وہ حضرات زمینی سطح پر تحقیق احوال کے بعد جو حکم شرع بیان فرمائیں اس پر عمل کیا جائے۔اور بہر حال ہندہ کا اپنی بیٹی دیوبندی کے عقد میں دینا حرام حرام حرام ہے۔ اس لڑکی پر لازم ہے کہ اس دیوبندی سے فورا الگ ہوجائے ان کے مابین اب تک جو میاں بیوی کےتعلقات ہوئے ہوں گے صرف زنا اور حرام کاری ہوں گے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبہ محمد طیب دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا ٧ رجب 1443ھ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h2>بد مذہبوں سے رشتہ رکھنے کا حکم</h2> بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہندہ کی شادی تقریباً ۲۵ سال قبل زید کے ساتھ ہوئی زید کی بیوی ہندہ کا کچھ دنوں پہلے انتقال ہو گیا، انتقال کے قبل ہی اُسکی بیٹی کی شادی ایک دیوبندی کے گھر ہوئی سننے میں یہ بھی آیا کی اگر ہندہ نے اپنی بیٹی کا نکاح اُس دیوبندی سے نہ کیا ہوتا تو وہ لیکر بھاگ جاتا اور اسلئے ہندہ نے اپنی عزت و آبرو بچانے کے لیے دھوم دھام سے دیوبندی کے یہاں نکاح کر دیا ۔ ہندہ کے انتقال ہونے کے بعد مسجد کے امام نے اُسکی نمازِ جنازہ پڑھائی اب کچھ لوگوں نے امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور کہہ یہ رہے ہیں کہ ہنده دیوبندی تھی کیونکہ اُسکے میکے والے دیوبندی ہیں حالانکہ خود اُسکا شوہر زید سنی صحیح العقیدہ ہے جسکے سنی صحیح العقیدہ ہونے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں اور ہندہ کے بارے میں بھی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ نیاز و فاتحہ دلاتی تھی جس کا کرنے والا عوام اہلسنت میں سنی سمجھا جاتا ہے اور اس بات کی گواہ خود ایک معترض شخص ہے۔ اِس مسئلہ میں عمر (مسجد کا امام) کا ہندہ کی نمازِ جنازہ پڑھانا درست ہے یا نہیں ؟ اس مسئلہ میں عمر حق پر ہے یا وہ لوگ جو ہندہ کو وہابی یا دیوبندی کہہ رہے ہیں صرف اس بنا پر کی اُسکے میکے کے لوگ وہابی ہیں اور اُس نے اپنی بیٹی کا رشتہ ایک دیوبندی کے یہاں کیا اسلئے عمر حق پر ہے یا خطا پر اور اگر عمر خطا پر ہے تو اُسکے پیچھے نمازِ جنازہ پڑھنے والوں کا کیا حکم ہے اور اگر عمر راہ حق پر ہے تو اُن لوگوں کا کیا حکم ہے جو ہندہ کو دیوبندی کہہ رہے ہیں ہیں۔ برائے مہربانی اس سوال کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں ۔ المستفتی محمد ذیشان رضا، ساکن بلھا ضلع بلرامپور <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوہاب</strong></span> بسم اللہ الرحمن الرحیم اگر ہندہ کا دیوبندی ہونا امامِ مسجد کے نزدیک شرعاً ثابت ہو تو امام مسجد کا اس کی نماز جنازہ پڑھانا حرام، بلکہ اگر مسلمان سمجھ کر ہو تو کفر ہے۔ اور اگر اس کی دیوبندیت شرعی طریقہ پر ثابت نہ تھی لیکن اس پر کسی طرح دیوبندیت کا شبہہ تھا تب بھی امامِ مسجد کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے ضرور احتراز چاہیے تھا۔ اور اگر امامِ مسجد نے متوفیہ ہندہ کے ان مراسمِ ومعمولاتِ اہل سنت وجماعت (مثلا نیاز فاتحہ میلاد وغیرہ) کی ادائیگی دیکھنے کے سبب جن معمولات سے وہابی دیوبندی غایت درجہ پرہیز کرتے ہیں اس کو سنی سمجھ لیا اور اس لئے نماز جنازہ پڑھادی تو اس کو معذور قرار دیا جائے گا۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ والرضوان نے معمولاتِ اہلِ سنت کی ادائیگی کی بنا پر بھی دیوبندیت کی نفی کی ہے۔تحریر فرماتے ہیں: "جب وہاں میلاد شریف اور سوم وغیرہ کرنے والے بکثرت ہیں تو ضرور وہ لوگ دیوبندی نہیں" (فتاوی رضویہ قدیم ج٣ص ٢٣٥ ) یہاں یہ واضح رہے کہ کسی عورت کا وہابی یا دیوبندی ہونا صرف اس بنا پر نہیں ثابت ہوجاتا کہ اس کے میکے والے وہابی ہیں یا اس لئے کہ اس نے اپنی بیٹی کی شادی ایک دیوبندی کے یہاں کردی، ہاں اگر اس نے دیوبندیوں کے عقائد کفریہ پر یقینی علم و اطلاع کے بعد ان کو مسلمان جانا اور مسلمان جان کر اپنی بیٹی کا نکاح کیا تو بیشک حکم کفر ہوگا۔ لیکن اگر ناجائز سمجھتے ہوئے اپنی بیٹی کی شادی دیوبندی کے ساتھ کردے تو بے شک سخت حرام و کبیرہ کی مرتکب ہے، تاہم صرف اس عمل سے دیوبندیت کا حکم نہیں لگے گا۔ سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے ایسے دو سوال کئے گئے جن میں پوچھا گیا کہ کوئی باوجود ناجائز سمجھنے کے اپنی بہن بیٹی کا نکاح شیعہ کے ساتھ کردے تو کیا حکم ہے؟ آپ نے دونوں سوالوں کے جواب میں سخت حرمت کا حکم دیا، مگر تکفیر نہیں فرمائی۔ فتاوی رضویہ قدیم ج ٥ ص ٢٧٩ اور ص ٢٨٣ کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ ہو ! سوال: "کسی سنی المذہب کو اپنی دختر شیعی تبرائی و قاذف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے عقد میں دینا جائز ہے یا نہیں اگر ناجائز ہے اور کوئی سنی باوجود ناجائز سمجھنے کے بھی ایسا کرے تو اس کی بابت شرعا کیاحکم ہے" اس سوال کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا: "جو شخص اپنی دختر یا خواہر ایسے کے نکاح میں دے وہ یقینا دیوث ہے وہ اپنی بہن بیٹی کو صریح زنا کے لئے دینے والا ہے حدیث ارشاد فرماتی ہے کہ اس پر جنت حرام ہے" سوال: "سنی کواپنی دختر شیعی کے نکاح میں دینا جائز ہے یا نہیں اگر ناجائز ہے اور کوئی سنی باوجود ناجائز سمجھنے کے ایسا کرے تو اس کی بابت شرعا کیا حکم ہے" مسئلہ مذکورہ کے دلائل بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "لہذا جزم کیا جاتا ہے کہ آج کل رافضیوں میں کوئی مسلمان ملنا ایسا ہی مشکل ہے جیسے کووں میں سپید رنگ والا۔ ایسوں کے ساتھ مناکحت تو حرام قطعی و زنائے خالص ہے جو اپنی بہن بیٹی ان کو دے دیوث ہے اس عقد باطل کے ذریعے جو نام اس کی بہن بیٹی کو ملنے والے ہیں ان ہلکے نام یہ ہیں زانیہ فاجرہ قحبہ فاحشہ روسی رنڈی بدکار جو اسے پسند کرتا ہو اس کبیرہ فاحشہ پر اقدام کرے ورنہ اللہ عز و جل کے غضب سے ڈرے اور اگر بالفرض کوئی رافضی ایسا ملے جسے مسلمان کہہ سکیں تو حضرات شیخین رضی اللہ تعالی عنہما پر صرف تبرا بھی فقہائے کرام کے نزدیک مطلقا کفر ہے۔۔۔۔تو فقہائے کرام کے طور پر ہر تبرائی کے ساتھ مناکحت میں وہی احکام ہوں گے اور بفرض غلط اس سے بھی محفوظ ملے تو آخر گمراہ بددین ہونے میں تو شبہ نہیں اور ایسے کو بیٹی دینا شرعا گناہ و ممنوع۔ سوال میں سائل نے لکھا کہ ہندہ نے اپنی عزت آبرو بچانے کے لئے دیوبندی کے یہاں نکاح کردیا، حالانکہ اس ہندہ کو یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ بزعم خویش معاشرے میں بے عزتی سے بچنے کی خود ساختہ تدبیر تو اپنا رہی ہے، مگر اللہ و رسول کی بارگاہ میں کس قدر رسوائی کا سامان کر رہی ہے اور شریعت کی نظر میں کیسی کیسی ذلتوں کو خرید رہی ہے، کیوں کہ یہ نکاح تو ہونے سے رہا لہذا اپنی بیٹی کو زنا کے لئے حوالے کر رہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ واضح رہے کہ شخص دعوئ اسلام کرے اسے مسلمان ماننا لازم ہے جب تک کہ کوئی بات منافی اسلام ثابت نہ ہو، یہی مذہب حق ہے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: "نفاق کہ زبان سے دعوے اسلام کرنا اور دل میں اسلام سے انکار، یہ خالص کفر ہے بلکہ ایسے لوگوں کے لئے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفر باطنی پر قرآن ناطق ہوا، نیز نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرما دیا کہ یہ منافق ہے۔ اب اس زمانے میں کسی خاص شخص کی نسبت قطع کے ساتھ منافق نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے سامنے جو دعوی اسلام کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے جب تک اس سے وہ قول یا عمل جو منافی ایمان ہے نہ صادر ہو البتہ نفاق کی ایک شاخ اس زمانے میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بدمذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعوی اسلام کے ساتھ ضروریات دین کا انکار بھی ہے"۔(بہار شریعت ح ١ ص ١٨٢ مطبوعہ دعوت اسلامی) لہذا بنا دلیل اپنے ظن و تخمین یا محض شک شبہ کی بنا پر کسی کے اوپر کفر کا حکمِ قطعی نہیں لگانا چاہیے۔ اس تعلق سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث کافی اہمیت کی حامل ہے جس میں بیان ہے کہ انہوں نے ایک کافر شخص پر وار کرنا چاہا تو وہ کلمہ پڑھنے لگا لیکن آپ نے یہ اجتہاد کرتے ہوئے اسے قتل کردیا کہ اس نے ڈر کے مارے کلمہ پڑھا ہے، جس پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمایا أفلا شققت عن قلبه حتى تعلم ا قالها أم لا؟ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا کہ اس نے دل سے کلمہ پڑھا تھا یا نہیں۔ امام بخاری اور امام مسلم علیہما الرحمہ روایت فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>حدثناابو ظبیان قال سمعت أُسامةَ بن زَيْدٍ بن حارثة يحدث قَالَ: بعثَنَا رسولُ اللَّه ﷺ إِلَى الحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَصَبَّحْنا الْقَوْمَ فهزمناهمْ، قال وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلًا مِنهُمْ، قال فَلَمَّا غَشيناهُ قَالَ: لا إِلهَ إلَّا اللَّه، قال فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصارِيُّ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، قال فَلَمَّا قَدِمْنَا بلَغَ ذلِكَ النَّبِيَّ ﷺ قال فَقَالَ لِي: يَا أُسامةُ! أَقَتَلْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ: لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ؟! قال قلتُ: يَا رسولَ اللَّه إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا، قَالَ: أَقَتَلْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ: لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ؟! قال فَما زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذلِكَ الْيَوْمِ.</strong></span> (صحيح البخاري ج ٢ ص ١٠١٥ باب كتاب الديات باب قول الله و من أحياها صحيح مسلم كتاب الإيمان باب تحریم قتل الكافر بعد قوله لا إله إلا الله ص ٦٨ واللفظ للأول منهما) وفي روايةٍ: <strong>فَقالَ رسولُ اللَّه ﷺ: أَقَالَ: لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَقَتَلْتَهُ؟! قال قلتُ: يَا رسولَ اللَّهِ! إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلاحِ، قَالَ: أَفَلا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لا؟! فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا علي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَومَئذٍ.</strong> (صحيح مسلم كتاب الإيمان باب تحريم قتل الكافر بعد قوله لا إله إلا الله ص ٦٨) وفي رواية: <span style="color: #ff0000;"><strong>إن رسولَ اللَّه ﷺ بعثَ بَعْثًا مِنَ المُسْلِمِينَ إِلى قَوْمٍ مِنَ المُشْرِكِينَ، وَأَنَّهُم الْتَقَوْا، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ المُشْرِكِينَ إِذا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلى رَجُلٍ مِنَ المُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنَ المُسْلِمِينَ قَصَدَ غفلَتَه، قال وَكُنَّا نحَدّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلمَّا رَجع اليه السَّيْفَ قَالَ: لا إِله إِلَّا اللَّهُ، فقَتَلَهُ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلى النبي ﷺ فَسَأَلَهُ، وأَخْبَرَهُ، حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَر الرَّجُلِ كَيْفَ صنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ فَقَالَ: يَا رسولَ اللَّهِ! أَوْجَعَ في المُسْلِمِينَ، وقَتلَ فُلانًا وفُلانًا - وسَمَّى لَهُ نَفرًا - وإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ قَالَ: لا إِله إِلَّا اللَّهُ، قَالَ رسولُ اللَّه ﷺ: أَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: نَعمْ، قَالَ: فَكيْفَ تَصْنَعُ بلا إِله إِلَّا اللَّهُ إِذا جاءَت يوْمَ القيامَةِ؟! قَال: يَا رسولَ اللَّه! اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وكَيف تَصْنَعُ بِلا إِله إِلَّا اللَّهُ إِذا جاءَت يَوْمَ القِيامَةِ؟! قال فَجَعَلَ لا يَزيدُه عَلى أَنْ يَقُولَ: كيفَ تَصْنَعُ بِلا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جاءَتْ يَوْمَ القِيامَةِ؟!</strong></span> (صحيح مسلم كتاب الإيمان باب تحريم قتل الكافر بعد قوله لا إله إلا الله ص ٦٨ ) ایمان و عقیدے کے تعلق سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان عالیشان بھی عبرت نشان ہے کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے اس لئے ظاہر کا اعتبار ہوگا اور باطن کا معاملہ اللہ کے حوالے ہوگا۔ امام بخاری علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں: ان عبدِاللَّه بنِ عتبة بن مسعودٍ قَالَ: سمِعْتُ عُمَر بْنَ الخَطَّابِ رضی اللہ عنه يقولُ: إِنَّ نَاسًا كَانُوا يُؤْخَذُونَ بالوَحْي في عَهْدِ رَسُول اللَّه ﷺ، وإِنَّ الوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ، وإِنَّمَا نَأْخُذُكُمُ الآنَ بِما ظَهَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنا خَيْرًا أَمِنَّاهُ، وقرَّبناه، وَلَيْس إلينا مِنْ سَرِيرَتِهِ شيءٌ، اللَّهُ مُحاسِبُهُ فِي سرِيرَتِهِ، ومَنْ أَظْهَرَ لَنَا سُوءًا لَمْ نَأْمَنْهُ، وَلَمْ نُصَدِّقْهُ، وإِنْ قَالَ: إِنَّ سَرِيرَتَه حَسنَةٌ (صحيح البخاري ج ١ ص ٣٦٥ كتاب الشهادات باب الشهداء العدول مطبوعة مجلس بركات) مسئلہ مذکورہ کی بابت یہ ظاہری کلام ہے اور فی الواقع ہندہ کی دیوبندیت ایک تحقیق طلب امر ہے اور امام مسجد عمر کے اس کی نماز جنازہ پڑھانے اور سوال میں مذکور دیگر شقوں کا حکم اسی تحقیق پر متفرع ہوگا۔ موضع بلہا ایک مردم خیز زمین ہے وہاں ذمہ دار علما کا ایک قافلہ موجود ہے خصوصیت کے ساتھ ایک بزرگ عالم دین حضرت علامہ مولانا مشتاق احمد ثابت القادری دام ظلہ العالی اور خلیفہ تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا کمال اختر دام ظلہ العالی، ان کی طرف رجوع کیاجائے۔ وہ حضرات زمینی سطح پر تحقیق احوال کے بعد جو حکم شرع بیان فرمائیں اس پر عمل کیا جائے۔اور بہر حال ہندہ کا اپنی بیٹی دیوبندی کے عقد میں دینا حرام حرام حرام ہے۔ اس لڑکی پر لازم ہے کہ اس دیوبندی سے فورا الگ ہوجائے ان کے مابین اب تک جو میاں بیوی کےتعلقات ہوئے ہوں گے صرف زنا اور حرام کاری ہوں گے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ محمد طیب دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٧ رجب 1443ھ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...